وزیراعلیٰ نے گمنام قبروں سے دامن چھڑالیا

کہا سابق حکومتیں ذمہ دار، انہیں جواب دینا ہوگا
گمنام قبروں سے اپنا دامن چھڑاتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ1990سے 2006 تک اقتدار میں رہی حکومتوں سے وابستہ سبھی سیاسی لیڈران کوان گمنام قبروں کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔انہوں نے ریاست کے کسی بھی حصے میں گمنام اجتماعی قبروں کی موجودگی سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ گمنام قبریں اسی عرصے کے دوران معرض وجود میں آئی ہیں۔گمنام قبروں میں مدفون افراد کی شناخت کیلئے ’ڈی این اے پروفائلنگ‘‘ عمل میں لانے کا اعلان کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ڈی این اے نمونے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں جمع کرائیں تاکہ بے نام قبروں میں مدفون لوگوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔ لاپتہ افراد کے بارے میں لب کشائی کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ جو لوگ لاپتہ ہیں ان میں سبھی مرے نہیں ہیں بلکہ کئی افراد ایسے بھی ہیں جو کنٹرول لائن کی دوسری جانب سرگرم ہیں جبکہ کئی لوگوں کے اب بچے بھی ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بے نام قبروں میں جو لوگ دفن ہیں وہ صرف سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ہاتھوں ہی نہیں مرے ہیں ۔ انہوں نے بتایا ’’ میں دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جنگجوؤں نے بھی بہت سارے لوگوں کا قتل کیا مگر افسوس اس بات کا ہے کہ سارا الزام سیکورٹی فورسز پر ہی عائد کیا جارہا ہے‘‘۔
وزیراعلیٰ منگل کو قانون ساز اسمبلی اجلاس کے دوسرے روز اپنی جماعت یعنی نیشنل کانفرنس کے ممبر میر سیف اللہ ، نذیر گریزی اور اعجاز جان کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد پر بحث کا جواب دے رہے تھے ۔مذکورہ ممبران نے یہ قرارداد بے نام قبروں اور’’ٹروتھ اینڈ ریکنسی لیشن کمیشن‘‘ کے بارے میں پیش کی تھی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے بے نام قبروں کو انتہائی سنگین نوعیت کا انسانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ افسوس اس بات کا ہے کہ حزب اختلاف کی پارٹی پی ڈی پی نے اس حساس نوعیت پر بحث کے بجائے ایوان سے واک آؤٹ کیا جو اس بات کا غماز ہے کہ وہ اس اہم انسانی مسئلے کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں بلکہ وہ صرف اس بات کا تاثر دینا دینا چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ صرف اُنہی کی وجہ سے زیر بحث آیا ہے۔انہون نے پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ’’پی ڈی پی ہر بات پر سیاست کرنا چاہتی ہے۔بے نام قبروں کا معاملہ ہویا گذشتہ برس120افراد کے مارے جانے جیسے معاملات پر اُن کے پاس بات کرنے کا ایک اچھا موقعہ تھا لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اُنہیں اس کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہے، اُن کا مقصد بحث کرانا نہیں بلکہ باہر جاکر یہ بتانا تھا کہ اُنہی کی وجہ سے یہ معاملہ زیر بحث آگیا‘‘۔وزیر اعلی نے مزید کہا’’ اگر میں اُن کی جگہ ہوتا تو میں بھی واک آؤٹ کرتا مگر پانچ منٹ بعد پھر واپس آکر بحث میں حصہ لیتا‘‘۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عام لوگوں کو حقائق سے آشنا کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیکرکہا’’میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بے نام قبریں1990سے2006تک معرض وجود میں آئی ہیں، ان میں سے کچھ قبروں کا ریکارڈ صاف ہے مگر زیادہ تر کا ریکارڈ کلیئر کرنا ہے، ان قبروں میں مدفون لوگوں کے بارے میں اور ان کی پوری تفاصیل عوام تک لانے کیلئے اُن حکومتوں میں شامل سیاستدانوں کو تیار رہنا چاہئے جو 1990سے2006تک قائم تھیں، ان میں ہماری پارٹی کے6 سال،پی ڈی پی کے 3سال اور کانگریس کے تین سال شامل ہیں‘‘۔انہوں نے اجتماعی قبروں کی موجودگی سے صاف انکار کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست کے اندر بے نام قبریں ہیں مگر اجتماعی قبروں کی باتیں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا ’’ کچھ ایسی قبریں ہیں جن میں دو لاشیں دفنائی گئی ہیں مگر دو سے علاوہ کسی بھی قبر میں لوگ دفن نہیں ہیں‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیکر کہا’’ یہاں ہٹلر کے زمانے کی طرح اجتماعی قبریں نہیں جن میں سینکڑوں لاشیں ایک ساتھ دفن ہیں‘‘۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ بے نام قبروں میں مدفون لوگوں کی تجہیز و تکفین مذہبی طور طریقوں سے انجام دی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں تاہم اس سلسلے میں پریشانیوں کو بھی بڑھایا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا ’’ انسانی حقوق کی پامالیاں ہوئی ہیں لیکن ایشوز کو ملاکر ہم اپنے لئے پریشانیاں بڑھاتے ہیں‘‘۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت نے کنٹرول لائن کے دوسری جانب موجود کشمیری جنگجوؤں کی واپسی اور باز آباد کاری کی سکیم بھی اسی غرض سے بنائی ہے کہ لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل جو لوگ دوسری جانب ہیں، وہ گھروں کو لوٹ آئیں ۔ انہوں نے تاہم کسی کا نام لئے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا’’کچھ لوگ اُس پار بیٹھے ہیں جو جنگجوؤں کی بندوق کے بغیر واپسی نہیں چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوؤں کی واپسی اور باز آباد کاری کے سلسلے میں حکومت کو 800سے900درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 100درخواستوں کو منظوری بھی دی گئی تاہم بقول اُنکے’’کچھ لوگ ہیں جو وہاں سے بندوق کے بغیر لوگوں کو واپس آنے میں رکاؤٹ بن رہے ہیں‘‘۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت مرکزی وزارت داخلہ سے رابطہ کرکے اُن کی واپسی کیلئے راہ ہموار کرنے کوشش کررہی ہے۔انہوں نے سوالیہ انداز میں بتایا ’’ کیا ہمیں سیکورٹی فورسز پر اعتبار نہیں ہے‘‘؟وزیر اعلیٰ نے پاکستان کا نام لئے بغیر بتایا کہ اُس نے کرگل جنگ کے دوران اُن لوگوں کی شناخت کرنے سے بھی انکار کیا جن کو اُس نے مرنے کیلئے کرگل میں دھکیلا تھا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق’’ جو ملک اپنے ہی آدمیوں کو پہچاننے سے انکار کرے ،کیا وہاں ٹریننگ کے دوران لڑکے مرنہیں سکتے ہیں، کیا لاپتہ شہریوں کی فہرست میں وہ لوگ شامل نہیں ہوسکتے ہیں جو اُس پار ٹریننگ کے دوران مر گئے ہونگے‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے اعتراف کیا کہ حکومت کے پاس بے نام قبروں سے متعلق تمام تفاصیل موجود نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا’’ہم نے اپنا ریکارڈ چیک کیا، ابھی پوری کارروائی نہیں ہوئی ، جہاں ایف آئی آر ہیں، وہاں ہمارا ریکارڈ ہے مگر ایسے بھی لاتعداد واقعات ہیں جن میں کوئی ایف آئی آر بھی نہیں ہے اور ان واقعات کے بارے میں مختلف ایجنسیوں کے پاس مختلف ریکارڈ ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر کہیں2500بے نام قبریں ہوتیں تو وہاں کہرام مچ گیا ہوتا اور اگر ایسا ہوتا تو عوامی سطح پر طوفان اٹھ گیا ہوتا۔ انہوں نے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے بتایا ’’ پونچھ میں گذشتہ دو دہائیوں کے دوران2136جنگجو ہلاک ہوگئے جن میں2090غیر ملکی تھے، مگر وہاں کسی ایک قبر کا بھی نشان نہیں مل رہا ہے‘‘۔ انہوں نے علیحدگی پسندوں کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اندر گذشتہ دودہائیوں کے دوران صرف17000عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں اور علیحدگی پسندوں کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے جس میں ایک لاکھ لوگوں کے مرنے کی بات کی جارہی ہے ۔انہوں نے تاہم اس بات کا اعتراف کیا کہ17000مرنے والے عام شہریوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بھارت اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکراتی عمل کے دوران ریاست کو ’’ٹروتھ اینڈ ریکنسی لیشن کمیشن ‘‘ قائم کرنے کا اختیار دیں اور اس سلسلے میں آپسی اتفاق قائم کریں کیونکہ کمیشن کے قیام سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کے سوالوں کا جواب ملے گا۔ وزیر اعلیٰ کا تاہم کہنا تھا کہ یہ ایک لمبا عمل ہے جس کیلئے ایک طویل انتظار درکار ہے ۔ انہوں نے کہا’’ میں لوگوں کو اس ہاؤس کے ذریعے یقین دلاتا ہوں کہ ایک باضابطہ عمل کے ذریعے لاپتہ افراد اور بے نام قبروں کی تحقیقات کرائی جائے گی مگر اس میں کافی وقت لگے گا، البتہ ہم اس کی شروعات کرسکتے ہیں ،اس لئے لاپتہ افراد کے لواحقین سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے پاس کیس درج کرائیں اور ڈی این اے کے نمونے جمع کرائیں تاکہ اس عمل کا کہیں سے تو آغاز ہو‘‘۔ ان کا کہنا تھا’’اس عمل میں کچھ وقت لگے گا، یہ راتوں رات نہیں ہوسکتا لیکن شروعات کی جاسکتی ہے،میری حکومت سچ چھپانے کی کوشش نہیں کرے گی‘‘۔وزیر اعلیٰ نے برطانوی پارلیمان کے اندر کشمیر کی بے نام قبروں کی موجودگی پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’برطانیہ کو چاہئے کہ وہ اپنے ملک کی فکر کرے اور ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دے، اس نے افغانستان اور ایران میں کتنے لوگوں کو جہاز وں میں بھر کر کہیں پہنچایا اور بعد میں ہلاک کردیا‘‘۔وزیر اعلیٰ نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں اب تک12ممالک کے جنگجوؤں کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا جن میں برطانیہ، سوڈان اور چیچنیا جیسے ممالک شامل ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: