پارلیمانی اقدار کی دھجیاں اڑادی گئیں

جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں سوموار کونیشنل کانفرنس کارکن کی مبینہ حراستی ہلاکت معاملہ پر اسپیکر اورپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر نائب صدر نے ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک ناشائستہ الفاظ استعمال کئے اورپارلیمانی و اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں کہ ایوان میں موجود حاضرین کے سر شرم سے جھک گئے ۔اس دوارن سپیکر نے پی ڈی پی کی تحریک التوا مسترد کرتے ہوئے اپنے برتاؤ پر معذرت طلب کی تاہم ایوان کی کارروائی مسلسل ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئی اور مقررہ وقت سے قبل ہی دن بھر کیلئے برخاست کرنا پڑی۔
سوموار کی صبح ساڑھے نو بجے جونہی سپیکر ایوان میں نمودار ہوکر اپنی نشست پر بیٹھ گئے تو حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی اپنی نشست سے کھڑی ہوئیں اورسپیکر سے مخاطب ہوکر ایوان کی معمول کی کارروائی کو ملتوی کرکے گزشتہ دنوں نیشنل کانفرنس ورکرسید محمد یوسف کی ہلاکت پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔یاد رہے کہ پی ڈی پی نے اس سلسلے میں تحریک اتوا پیش کی تھی ۔سپیکرکے اس اعلان کے بعد کہ وہ وقفہ سوالات کے بعد اس تحریک پراپنا فیصلہ سنائیں گے کہ پی ڈی پی کے تمام ممبران اپنی نشستوں سے احتجاجاًکھڑے ہوئے اور اپنا مطالبہ جاری رکھا۔ پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے ایک بار پھر سپیکر سے مخاطب ہوکر کہا’’یہ قتل کا معاملہ ہے اور اس میں لین دین کا بھی مسئلہ ہے جس کے لئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ، نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور امور داخلہ کے وزیر مملکت پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں،اسلئے اس پر بحث کرانے کی فوری ضرورت ہے‘‘۔اسی اثناء میں حکمران نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران اسمبلی بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور وزیر اعلیٰ پر لگائے گئے الزامات پر برہمی کا اظہارکرنے لگے۔اپوزیشن ارکان اپنے مطالبے پر بضد رہے اوراس دوران انہوں نے’’یوسف کے قاتلوں کو پیش کرو، یوسف کے پیسے کا حساب دو‘‘ کے نعرے لگانا شروع کیا جبکہ جواب میں نیشنل کانفرنس ارکان نے’’ڈاکٹر لون کے قاتلوں کو پیش کرو، ڈرامہ بازی نہیں چلے گی‘‘ کے نعرے لگائے جس کے نتیجے میں ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے گئے۔شورو غل کے عالم میں ہی پی ڈی پی کے سینئر لیڈر مولوی افتخار حسین انصاری نے سپیکر سے کچھ کہا جس پرسپیکرمحمد اکبر لون سیخ پا ہوگئے اور انہوں انصاری سے مخاطب ہوکر کہا’’ او مولوی! تم مجھے ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے، تو غدار ہے ، غدار ہے، غدار ہے ،بے ایمان مولوی چپ ہوجاؤ، بے ایمانوں کا بے ایمان ، انکم ٹیکس کا حساب دو، ٹیکس واپس کرو‘‘۔اس پر انصاری طیش میںآگئے اور انہوں نے پنکھا اپنے ہاتھوں میں اٹھاکر سپیکر کی میز کی طرف دے مارا ۔اس موقعہ پرانصاری اور سپیکر کے درمیان زبردست گرم گفتاری،نوک جھونک اور تلخ کلامی ہوئی، یہاں تک کہ نوبت گالم گلوچ پر آپہنچی اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف شرمناک حد تک ناشائستہ الفاظ استعمال کئے۔اسپیکر نے پی ڈی پی ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا‘‘مجھ کو گالی دے گا،میں اس کو گالی دوں گا، جو مجھے چور کہے گا، میں اس کو چور کہوں گا‘‘۔ اس دوران ا سپیکر نے تحریک التواء پیش کرنے والے پی ڈی پی ممبران کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے پر بحث کرانے کی اجازت دی گئی تو اسکی تحقیقات متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ حکومت نے پہلے ہی اس کی جوڈیشل انکوائری کے احکامات صادر کئے ہیں، لہٰذا تحریک التوا مسترد کی جاتی ہے ۔ایوان کی گھمبیر صورتھال کے بعدا سپیکر نے ایوان میں پیش آئے واقعہ اور پی ڈی پی ممبر کے ساتھ تلخ کلامی پر معذرت طلب کی۔انہوں نے کہا’’ مولوی صاحب میرے استاد رہے ہیں، مجھے سیاست میں انہوں نے ہی لایا، میں انکے تئیں عقیدت رکھتا ہوں، ہم ایک ہی جگہ کھائے، پئے اور سوئے ہیں، اگر مجھ سے کوئی گستاخی ہوئی تو میں اس کے لئے معافی چاہتا ہوں‘‘۔اسی دوران پی ڈی پی ارکان ایک بار پھر سید محمد یوسف کی ہلاکت پر بحث کا مطالبہ کرنے لگے اور اسی اثناء میں وہ نعرے بازی کرتے ہوئے سپیکر کی میز کے سامنے ویل میں آگئے جس کے دوران اپوزیشن ارکان نے اسمبلی سیکریٹری کی میز پر موجود کاغذات پھاڑ ڈالے اور انکے عملے کا ٹیبل الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا۔حالات کو قابو سے باہر ہوتا دیکھ سپیکر نے ایوان کی کارروائی کے اختتام کا اعلان کیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: