اسمبلی کا مختصر اجلاس ختم

قانون ساز اسمبلی میں اجلاس کے آخری روز منگل کو نیشنل کانفرنس کارکن سید محمد یوسف کی مبینہ حراستی ہلاکت پرحزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے زوردار احتجاج، نعرے بازی اورہنگامہ آرائی کے بیچ ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی۔منگل کو قانون ساز اسمبلی کی کارروائی جونہی شروع ہوئی تو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک بار پھرنیشنل کانفرنس کارکن سید محمد یوسف کی ہلاکت کا معاملہ اٹھایا۔ محبوبہ مفتی ایوان کی کارروائی کو التواء میں ڈال کر یوسف کی ہلاکت پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا ۔واضح رہے کہ اس سلسلے میں پی ڈی پی نے سپیکر کے پاس تازہ تحریک التواء پیش کی تھی۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر کی حمایت میں پارٹی کے سبھی ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور سپیکر پر تحریک التواء منظور کرنے پر زور دیا۔اس دوران حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے چند ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ دونوں پارٹیوں کے ممبران نے ایک دوسرے پرالزامات کی بوچھاڑ کی ۔اس صورتحال کے نتیجے میں ایوان میں شوروغل بپا ہوا۔محبوبہ نے ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سرکار ایوان کو گمراہ کررہی ہے کیونکہ اس ہلاکت کی جوڈیشل تحقیقات کیلئے رہاستی ہائی کورٹ سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے ۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت نے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ اس ضمن میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سرینگر کو علیحدہ تحقیقات کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔محبوبہ نے زوردیکر کہا’’یہ اعلیٰ سطحی کورپشن اور قتل کا معاملہ ہے، اس پر ایوان میں نہیں تو کیا سڑکوں پر بحث کریں گے؟ایوان میں جھوٹ بولا جارہا ہے اور ارکان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس معاملے کو دبایا جارہا ہے‘‘۔انہوں نے سپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ رہاستی ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو فون کرکے اس بات کی جانکاری حاصل کریں کہ آیا اس سلسلے میں واقعی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے یا نہیں!‘‘پی ڈی پی صدر نے تحریک التواء کے بارے میں سپیکرسے اپنا جواب طلب کیا۔انہوں نے کہا’’ایوان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ پیسہ کہاں سے آیا ، کس نے کس کو دیا اور اس کا مقصد کیا تھا؟‘‘اسی دوران قانون و پارلیمانی امور کے وزیر علی محمد ساگر نے اس بات کی وضاحت کی کہ اخبار میں بدقسمتی سے ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت عالیہ اس معاملے کی تحقیقات نہیں کرے گی۔وزیر موصوف نے کیس کی چھان بین کے حوالے سے ہائی کورٹ کو لکھے گئے خط اور اسکی رسید کی کاپیاں ایوان میں پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے اسی روز عدالت عالیہ سے رجوع کیا جس روز یہ واقعہ پیش آیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ میڈیا کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ اسی دوران پی ڈی پی کے نظام الدین بٹ نے حکومت سے اس بات کی وضاحت طلب کی کہ جوڈیشل تحقیقات کے اعلان کے بعد سید محمد یوسف کی ہلاکت کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ہاتھوں الگ تحقیقات کرانے کا کیا مطلب ہے۔سپیکر محمد اکبر لون نے پی ڈی پی کے احتجاجی ممبران کو یہ کہتے ہوئے خاموش رہنے کا مشورہ دیا کہ وہ تحریک التواء پر وقفہ سوالات کے بعد اپنا فیصلہ سنائیں گے لیکن اپوزیشن ممبران احتجاج کرتے رہے ، وہ ویل میں آگئے اور انہوں نے زبردست شور شرابہ کے بیچ حکومت مخالف نعرے لگائے۔ تاہم سپیکرکے کہنے پر وقفہ سوالات شروع کیا گیا اور ہنگامہ آرائی کے عالم میں ہی سوالات اور جوابات کا سلسلہ چلتا رہا۔پی ڈی پی کے سینئر لیڈر مظفر حسین بیگ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کے باوجود اگر 2Gاسکینڈل پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جاسکتی ہے تو سید محمد یوسف کی ہلاکت پر ایسا کرنے میں کیا حرج ہے۔ایوان میں سوموار کو پیش آئی صورتحال کو شرمناک قرار دیتے ہوئے سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی نے سپیکر سے گذارش کی کہ وہ مذکورہ ہلاکت کو لیکر سرکار کو ایک بیان دینے کیلئے کہیں اور حزب اختلاف کی بات بھی سنی جائے تاکہ ایوان کی کارروائی ممکن ہوسکے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ریاستی اسمبلی ہر طرف موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔سپیکر محمد اکبر لون نے جواب میں کہا کہ سید محمد یوسف کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری کے چلتے اس معاملے پر بحث کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ محمد یوسف تاریگامی نے استفسار کیا کہ اگر بحث کرانا ممکن نہیں تو سرکار ایوان میں بیان دے۔اس موقعہ پر پینتھرس پارٹی کے ہرش دیو سنگھ نے بھی مداخلت کرتے ہوئے سپیکر سے بحث کرانے کی درخواست کی اور اس ضمن میں قانون کا حوالہ دیا۔دوسری جانب پی ڈی ارکان ’’اندھا قانون نہیں چلے گا، حساب دو حساب دو، پیسے اور قتل کا حساب دو ‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ویل میں آکر اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے۔انہوں نے اسمبلی سیکریٹری کی ٹیبل پر موجود کاغذات پھاڑ کر ہوا میں پھینک دئے اور سیکریٹری کو بھی اپنی کرسی چھوڑ کر وہاں سے ہٹنا پڑا۔اس طرح حزب اختلاف کے ارکان پورے وقفہ سوالات کے دوران ویل میں رہتے ہوئے احتجاج کرتے رہے اور اس دوران ممبران کی طرف سے سوالات پوچھنے اور وزراء کی طرف سے جوابات دینے کا سلسلہ جاری رہا لیکن کس نے کیا کہا؟ شورشرابے کی وجہ سے کچھ سنائی نہیں دیا۔وقفہ سوالات ختم ہوتے ہی پی ڈی پی ممبران کے احتجاج میں مزید شدت پیدا ہوئی اور انہوں نے زور زور سے’’اندھاقانون نہیں چلے گا، تانا شاہی نہیں چلے گی، غنڈہ گردی نہیں چلے گی، ہمیں ریٹ لسٹ بتاؤ ، نکلیں گے نکلیں گے، سارے راز نکلیں گے‘‘ کے نعرے لگائے جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی میں باربار رکاؤٹ پیدا ہوئی۔چنانچہ جب اپوزیشن ارکان کے احتجاج اور نعرے بازی کی وجہ سے ایوان میں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا تو سپیکر محمد اکبر لون نے 11بجکر40 منٹ پر ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: