پرامن سال کا نعرہ کھوکھلا

حقوق البشر کی تنظیم نے حقائق منظر عام پر لائے
جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کیلئے سرگرم ایک معروف تنظیم جموں کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی نے سال 2011کے دوران ہوئی ہلاکتوں پر ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2011کو پرامن سال تعبیر کرنے کا جو سرکاری بیان منظر عام پر آیا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق’’سال2011 میں 6خواتین ،11طالب علم ،100جنگجو،71 فورسز اہلکار،6عدم شناخت افراداور8سیاسی لیڈر وکارکنان سمیت 233افراد مارے گئے جبکہ مبینہ حراستی وفرضی جھڑپوں کے دوران 7افراد کو فورسز نے ابدی نیند سلا دیا ‘‘۔واضح رہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے سال2011کو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں پرامن سال قرار دیا ہے ۔
جموں کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی نامی اس ادارے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں مختلف عسکری و غیر عسکری کاروائیوں میں 233افراد کی موقت واقع ہوئی جن میں6خواتین اور11طالب علم بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہوئے11طالب علموں میں7کم عمر بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’ 233افراد میں سے 56عام شہری وسیاسی کارکن اورلیڈر شامل ہیں جبکہ فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان ہوئی مختلف معرکہ آرائیوں کے دوران100جنگجو جاں بحق ہوئے‘‘۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان جھڑپوں میں 71فورسز اہلکاروافسران بھی لقمہ اجل بن گئے جبکہ ایسے 6افراد بھی مختلف واقعات کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن کی شناخت نہیں ہوگئی ۔ جے کے سی سی ایس نامی اس ادارے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس بات کا بھی خلاصہ کیا ہے کہ ذہنی دباؤ کے نتیجے میں 15فورسز اہلکارنے مختلف خودکشی واقعات کے دوران جان گنوا دی جبکہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر فورسز اہلکاروں نے ایک دوسرے پر بندوقیں تان لیں جس کے نتیجے میں 9اہلکاروں لقمہ اجل بن گئے ۔رپورٹ کے مطابق مختلف واقعات کے دوران 8سیاسی لیڈر و کارکنان کی موت واقع ہوئی جن میں 4کا تعلق برسراقتدارنیشنل کانفرنس تنظیم سے تھا،2 کانگریس پارٹی اور1 سیاسی کارکن کا تعلق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی( پی ڈی پی) کے ساتھ تھا جبکہ سیاسی لیڈران میں جمعیت اہلحدیث کے صدر مولوی شوکت احمد شاہ کو بھی جاں بحق کیا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ پولیس نے مولوی شوکت احمد شاہ قتل کیس کے سلسلے میں فوری طور پر تحقیقات کر کے ملزمان کو حراست میں لیا تاہم دیگر سیاسی کارکنان کی ہلاکت میں ملوث افراد کو ابھی تک قانون کے شکنجے میں نہیں لایا گیا ،اسطرح انصاف کے تقاضوں کو پُر کرنا ابھی باقی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وادی میں زندہ بارودی شل پھٹ جانے کے نتیجے میں 8افراد جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تر کمسن بچوں کی تعداد تھی جبکہ ایک شخص کی موت بارودی سرنگ دھماکے کی وجہ سے واقع ہوئی۔ مذکورہ ادارے نے حکومت کی طرف سے مختلف مواقع پر تحقیقاتی اعلانات پر کہا ہے کہ سال 2003سے لیکر 2011تک ریاستی سرکار نے انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے 151تحقیقاتی احکامات صادر کئے تاہم ابھی تک ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق ’شمالی کشمیر کے ناظم رشید ساکن سوپور کی حراستی ہلاکت کے سلسلے میں حق اطلاعات قانون کے تحت جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم نہیں کئے ‘۔ مذکورہ ادارے نے گمنام قبروں کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاستی حقوق کمیشن نے گمنام قبروں پر مہر ثبت کر کے انٹر نیشنل پیپلز ٹریبونل فار ہیومن رائٹس اینڈجسٹس (آئی پی ٹی کے) کی تحقیقات کو صحیح ٹھہرایا۔ واضح رہے کہ آئی پی ٹی کے نے 2008سے ہی جموں کشمیر میں گمنام قبروں کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔حقوق البشر کیلئے سرگرم عمل اس حوالے سے کہا ہے کہ 2011 میں انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو انسانی حقوق کی پامالیوں کے سلسلے میں ایک فائل پیش کی تاہم اس حساس معاملے پر کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سال 2011کے دوران بھی عام شہریوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری رہا، ٹنل کے آر پار مزید 2افراد لاپتہ ہوئے جن میں سشیل رینا ساکن عشمقام اسلام آباد اور نثار احمد بانڈے ساکنہ بانہال شامل ہیں۔ جموں کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی کے مطابق یہ اعدادوشمار صاف ظاہر کررہے ہیں کہ ریاست سال2011میں کس قدرامن قائم رہا۔

Advertisements

One Response to پرامن سال کا نعرہ کھوکھلا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: