سرمائی بحران کے سامنے حکومت بے بس

یہ پہلی بار نہیں کہ وادی میں موسم سرما نے اپنے کڑے تیور دکھائے ہوں بلکہ ہر برس کی طرح امسال بھی اپنے ہی وقت پر دستک دی جو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔رواں جاڑے کو تاہم جموں کشمیر کی تاریخ میں اسلئے ہمیشہ یادکیا جائے گا کہ ابھی برفباری شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ وادی میں اندھیرا چھاگیا اورضروری اشیاء ناپید ہوگئے ۔ وادی کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد شاہراہ ’ سرینگر جموں شاہراہ ‘بند ہوگئی اور یوں بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ کٹ گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ کو کشمیری عوام کیلئے’ رگِ حیات‘ کی اہمیت حاصل ہے ۔ اس ساری صورتحال نے صوبائی انتظامیہ کے دعوؤں کی پول کھول دی کیونکہ ہر سال کی طرح جاڑے سے قبل نیوزکانفرنسوں اور بیانات میں اس عزم کو دہرایا گیاتھا کہ ’ ضروری اشیاء کا وافر اسٹاک موجود ہے‘۔فوج،فضائیہ اور دیگر اداروں کی مدد کے بعد جوں توں کرکے بجلی کی سپلائی تو کئی روز بعد بحال کی گئی البتہ ضروری اشیاء بالخصوص رسوئی گیس کی عدم دستیابی نے وادی کے عوام کو انتہائی پریشان کردیا ہے ۔اس پر طرہ یہ کہ زخموں پر مرہم کرنے کے بجائے ریاستی سرکار نے اس سال ایک نیا قدم اٹھایا کہ 15 کلو کے گیس سلینڈر میں صرف 5 کلو ہی فراہم کئے جائیں گے۔ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے وزیر قمرعلی آخون کے مطابق ’پانچ کلو گیس کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ ہرگھر میں چولہا جلے‘۔سرکاری ذرائع سے دستیاب اعداد وشمار کے مطابق وادی میں فی الوقت انڈین اوئل کارپوریشن(آئی او سی) کے 1,25000صارفین ہیں جبکہ ہندوستان پیٹرولیم(ایچ پی) کے ساڑھے6لاکھ اور بھارت پیٹرولیم (بی پی)کے 60ہزار صارفین ہیں ۔باوثوق ذرائع کے مطابق ان تینوں کمپنیوں کے پاس وادی میں فی الوقت کوئی اسٹاک موجود نہیں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر میں قائم ہندوستان پیٹرولیم کے رِی فلنگ پلانٹ سے صرف بارہ ہزار سلنڈر بھرے جا سکتے ہیں جبکہ صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مذکورہ فلنگ اسٹیشن بھی خالی ہونے کے قریب ہے۔وادی کے ایک مؤقر روزنامہ سے وابستہ مسعود الحسن نے اسٹاک پوزیشن کی صورتحال پر سرکاری اعداد وشمار کو محض لوگوں کو بہلانے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہوئے کہا’’سب سے پہلی بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ سرینگر جموں شاہراہ بند ہوتے ہی وادی میں ضروری اشیاء خاص کر گیس کی قلت کیوں پیدا ہوجاتی ہے جبکہ لداخ ایک ایسا خطہ ہے جس کا 6 ماہ تک بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ کٹ جاتا ہے وہاں گیس کی قلت نہیں ہوتی‘‘۔واضح رہے کہ لداخ صوبے میں6ماہ کیلئے ضروری اشیا ء کا سٹاک کیا جاتا ہے۔جانکار حلقوں کے مطابق لداخ صوبے میں فی الوقت 80ہزارگیس سلنڈرموجود ہیں لیکن کشمیر میں اس وقت ایک لاکھ گیس سلنڈروں کی ضرورت کے باوجود صرف5سے10ہزار تک ہی گیس سلنڈر موجود ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ اب انتظامیہ نے محض5کلو گیس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے صارفین میں مزید پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔عوامی حلقے اس تازہ اعلان کو انتظامیہ کی ناکامی اور نااہلی سے تعبیر کررہے ہیں۔عوامی حلقے شائد یہ کہنے میں بجا ہیں کیونکہ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر اور ہوٹل و ریستورانوں میں ہر جگہ گھریلو گیس سلنڈروں کا استعمال جاری و ساری ہے تو پھر یہ نیا حکمنامہ کیا فقط عوام کیلئے ہی ہے۔ جاوید احمد وانی نامی ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ’ سرکاری مشینری کی اب یہ عادت بن چکی ہے کہ ہر سال سرما کے دوران برف باری کی وجہ سے جب پورا نظام مفلوج ہوکر رہ جاتا ہے تو پھر عوام کا جائز غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے حیلے او ر بہانے تراشے جاتے ہیں‘۔جاوید کا مزید کہنا ہے کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انتظامیہ کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود کشمیری عوام کو ہر برس موسم سرما کی مار جھیلنا پڑتی ہے۔ یاد رہے کہ ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس صورتحال پرپٹرولیم کمپنیوں کو مورد الزام ٹھہرا کرپورے معاملے سے پلو جاڑ لیاہو لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرکے وزیر اعلیٰ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآنہیں ہوسکتے ہیں۔

One Response to سرمائی بحران کے سامنے حکومت بے بس

  1. Ali Hasaan نے کہا:

    یعنی سب عشق کے مارے ایک سے ہیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: