افسپا۔۔۔قتل عام کا لائسنس کب منسوخ ہوگا؟

سپریم کورٹ کی طرف سے فوج کو سرزنش کرنے کے بعد ریاست میں افسپا کو لیکر بحث میں پھر سے شدت آنے کی توقع ہے۔ اس حوالے سے ریاستی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات سے ریاست میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کے جواز پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پتھری بل فرضی جھڑپ میں فوج کے رول اور پھر عدالتی احکامات کی حکم عدولی کو لیکر فوج کو لتاڑتے ہوئے کہا ہے کہ نہ وہ خود کچھ کرتی ہے اور نہ دوسروں کو کچھ کرنے دیتی ہے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے تو ریاستی سرکار کو اس ضمن میں اقدامات اٹھانے میں کوئی پس و پیش نہیں ہونا چاہئے۔ کچھ عرصے سے عمر عبداللہ نے افسپا کے سلسلے میں یہ رخ اپنایا ہے کہ اب اس کڑے اور بے رحم قانون کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ حالانکہ بے گناہ انسانوں کا قتل عام کسی بھی صورت میں صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ریاست کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں افسپا جیسے کالے قوانین کو نافذ کرکے مسلمانوں کے قتل عام کی راہیں کھول دی گئیں اور پھر فوج نے بھی اس کا بھرپور استعمال کیا اور سینکڑوں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کرتوتوں کے خلاف اگر کسی نے آواز اٹھائی بھی تو اسے مذکورہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے خاموش کرایا گیا۔ کنن پوش پورہ جیسا شیطانی کارنامہ انجام دینے کے باوجود وہ لوگ آزاد گھوم رہے ہیں جو اس واقعے میں ملوث تھے اور اس کا جواز بھی افسپا جیسے مکروہ قانون میں ڈھونڈ نکالا گیا۔
ادھر ریاست کی بھارت نواز سیاسی قیادت بھی کسی طرح سے اس گورکھ دھندے میں دودھ کی دھلی نہیں ہے۔ یہاں پر ببانگ دہل افسپا کے خلاف بولنے والے عملی طور پر وزارت داخلہ کو اس بارے میں ایک عدد عرضی بھی پیش نہیں کرسکے ہیں۔ چند روز پہلے وزارت داخلہ نے سرعام نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے جھوٹ کی پول کھول دی جب حق اطلاعات قانون کے تحت دی گئی ایک عرضی کے جواب میں اس نے واضح کیا کہ مذکورہ وزارت کو افسپا ہٹائے جانے کے سلسلے میں ریاست سے کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ پتھری بل’جھڑپ‘ کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب امریکی صدر بل کلنٹن کی بھارت آمد پر20 مارچ 2000ء کی شب جنوبی کشمیر کے چھٹی سنگھ پورہ میں سکھ اقلیت کے35 سے زائد افراد کے خون کی ہولی کھیلی گئی تھی اور محض پانچ روز بعد اس واقعہ کیلئے ذمہ دار’’ پانچ غیر ملکی عسکریت پسندوں‘‘ کو پتھری بل میں ایک جھڑپ کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں مرکزی تفتیشی ایجنسی ’سی بی آئی‘ کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ جنگجو قرار دئے گئے پانچوں افراد در اصل عام کشمیری تھے۔یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مژھل ’جھڑپ‘ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا ’’شفافیت کی بہت ضرورت ہے۔ یہاں کشمیر میں آرمی ہی جیوری اور ہینگ مین ہے‘‘۔ مژھل ’جھڑپ‘ کے بارے میں بھی ابتدائی پولیس تحقیقات سے پتہ چلا تھاکہ فوج نے جان بوجھ کر عام شہریوں کو جنگجو قرار دے کر ایک فرضی جھڑپ میں ماراتھا۔ بھارتی فوج نے بھی کہا تھا کہ اس واقعے میں انہوں نے خود بھی تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے۔یاد رہے کہ شمالی ضلع کپواڑہ کے مژھل سیکٹر میں تین شہریوں کو فرضی جھڑپ میں قتل کر کے انہیں بھی غیرملکی مسلح جنگجو قرار دیا گیا تھا۔ لیکن پولیس کی طرف سے ان کی شناخت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بارہ مولہ کے نادی ہل علاقہ کے رہنے والے شفیع ، شہزاد اور ریاض نامی تین مزدور تھے، جنہیں ایک کشمیری مخبر نے فوجی افسر کو ’فروخت‘ کیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے پہلی مدت کے لئے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کشمیر کے اپنے پہلے دورے پر کہا تھا کہ انسانی حقوق کی پامالی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس سلسلے میں ’’زیرو ٹالرنس‘‘ ہوگی، لیکن تمام دعوے اور وعدے ایک طرف زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں۔7اگست2011 کو پولیس اور فوج نے پونچھ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مرہوٹ جنگل میں 12گھنٹے کی تصادم آرائی کے دوران پاکستانی عسکریت پسند ابوعثمان مارا گیا جولشکرطیبہ کا ڈویژنل کمانڈر تھا۔مقتول کی شناخت بعد میں اشوک کمار ولد چیت رام نامی ایک ہندو کے بطور ہوئی جو ریاسی کا رہنے والا تھا اور ذہنی مریض تھا۔جموں میں تعینات فوج کی سولہویں کور کے ترجمان کرنل ارورا نے اس وقت بتایا تھا کہ یہ آپریشن ایک پولیس اہلکار اور ایک فوجی کی خفیہ اطلاع پر کیا گیا تھااور مارے گئے شخص کی شناخت ہوتے ہی دونوں کو غیرمسلح کر کے گرفتار کرلیا گیا۔
فرضی جھڑپوں اور حراستی ہلاکتوں کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد کشمیری عوام میں عام تاثر یہی ہے کہ ’فرضی جھڑپوں‘ کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نہ ہی چھٹی سنگھ پورہ میں 35سکھوں کے قتل عام میں ملوث اصل مجرمو ں کو پکڑا جا سکا ہے اور نہ اس واقعہ کے فقط چار روز بعد پتھری بل میں ایک فرضی جھڑپ کے دوران مارے گئے پانچ شہریوں کے قاتلوں کو سزا دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے افسپا اور اس کے اطلاق کے جواز پر ہی سوالیہ لگ جاتا ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اعتراف کیا کہ ’’یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پتھری بل معاملے کے12سال بعد بھی ہم متعلقین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں‘‘۔وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیان کو مد نظر رکھتے ہوئے متاثرین یہ کہنے میں پھرحق بجانب ہیں کہ عدالتی نظام پر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ گذشتہ12برسوں سے ہم ایک ایسے کیس میں انصاف فراہم نہیں کر سکے ہیں اور نہ ہی ملوثین کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لا سکے ہیں ،جس کے بارے میں سی بی آئی نے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اس معاملے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی سرزد ہوئی ہے۔
فرضی جھڑپیں، حراستی گمشدگیاں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں گذشتہ 22 برسوں سے کشمیر میں روز مرہ کا مشاہدہ گھر گھر کی کہانی اور گلی گلی کی داستان ہیں۔ وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بستی بستی لوگوں کو اس قسم کی شکایتیں ہیں لیکن شہر ناپرساں جسے کشمیر کہتے ہیں میں طوطے کی آواز پر کون کان دھرتا ہے۔ البتہ 2007 میں فرضی جھڑپوں اور ہلاکتوں سے ڈرامائی انداز میں نقاب سرک گئی۔گاندربل میں کوکرناگ کے عبدالرحمان پڈر کے اہل خانہ کشمیر کے اطراف و اکناف میں پولیس تھانوں ، چوکیوں اور فوجی و نیم فوجی کیمپوں کی خاک چھاننے کے بعد اتفاقیہ طور پر 2007 کے ابتدائی ایّام میں شادی پورہ (گاندربل) کی پولیس چوکی میں ایک ’’ہلاک شدہ پاکستانی جنگجو’’ کی تصویر کو دیکھ کر چونک گئے۔ تصویر کو دیکھ کر ہی عبد الرحمان کے والد 70 سالہ غلام رسول پڈر کو یقین ہوگیا کہ یہ ان کے بیٹے کی تصویر ہے۔ ’’میں اندھا بھی ہوتا، تو بھی اپنے بچے کو پہچان لیتا‘‘ غلام رسول پڈر نے اخباری نمائندوں کو بتایا۔ یہ نقطہ آغاز تھااور اب تک کئی سارے واقعات میں ایسی نعشوں کو قبروں سے کھود نکالا گیا ہے، جنہیں فورسز نے فرضی جھڑپوں میں مار ڈالنے کے بعد پاکستانی جنگجو قرار دیا تھا۔ حد یہ ہے کہ گاندربل میں قبروں پر کتبے بھی لگائے گئے تھے جن میں ان کے نام اور پاکستان میں ان کی جائے سکونت بھی درج تھی۔ مثلاً عبدالرحمان پڈر کی قبر پر لگائے گئے کتبے میں ان کی شناخت یہ درج کی گئی تھی: ابو حافظ ساکن ملتان پاکستان۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)نے حیرت انگیز طور پرسرکردہ انسانی حقوق کارکن اور قانون دان ایڈوکیٹ جلیل احمد اندرابی کی ہلاکت میں ملوث اشتہاری ملازم میجر اوتار سنگھ کو مطلوب ترین ملزمان کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔میجر اوتار جو 35آر آر میں بلبل کے نام سے جانا جاتا تھا،نے8مارچ1996کو رام باغ علاقے میں نامور انسانی حقوق کارکن اور ایڈوکیٹ جلیل اندرابی کود ن د ھاڑے اس وقت گرفتار کرلیا تھاجب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ماروتی گاڑی میں سوار ہو کر گھر کی طرف جا رہا تھا۔ فوج نے تاہم جلیل اندرابی کی گرفتاری سے ہی انکار کیا تھاجس کے دوران27مارچ کو ایڈو کیٹ جلیل اندرابی کی لاش راجباغ علاقے میں دریائے جہلم سے بر آمد کی گئی۔ذرائع کے مطابق 42سالہ ایڈو کیٹ جلیل اندرابی کو فوج نے حراست کے دوران سر میں گولی مار کر جاں بحق کیا تھااور اْن کی آنکھیں تک نوچ لی گئی تھیں۔چنانچہ ریاستی حکومت نے 4اپریل2011کو ایک خط زیر نمبرPros۔7/11کے تحت وزارت خارجہ سے اس بات کی اپیل کی کہ وہ میجر اوتار کی بھارت منتقلی کیلئے امریکہ میں قائم اپنے سفارتی دفتر کو متحرک کریں۔خارجہ وزارت کو مطلع کرنے کے با وجود ابھی تک ملزم کی گرفتاری یا بھارت حوالگی کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں اور جب سے لیکر آج تک یہ کیس بھی لٹکا ہوا ہے۔واضح رہے کہ میجراوتار اس وقت امریکہ کے شہرکیلیفورنیا میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ’’ گذشتہ 22سال میں پولیس یا فورسز نے جھڑپوں کے بعد متعدد نوجوانوں کو پاکستانی جنگجو قرار دیا، عوام نے انہیں مذہبی رسوم کے مطابق دفن کیا لیکن کیا وہ واقعی پاکستانی تھے، اس پر کل بھی شک تھا، آج بھی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا وہ واقعی جنگجو بھی تھے، یا عبدالرحمان پڈر ہی کی طرح نہتے شہری تھے جنہیں پیسے اور پرموشن کی لالچ میں پولیس والوں نے ان کو فرضی جھڑپوں کے ڈرامے رچا کر مارڈالا۔فرضی جھڑپ ، فرضی نام اور فرضی سکونت لیکن زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ کشمیر یا اس سے باہر کسی بھی رجل رشید اور بھلے مانس نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ جب پاکستانی جنگجو جاں بحق ہوجاتے ہیں تو ان کے نام ا ور دیگر تفصیلات کہاں سے نازل ہوتی ہیں؟ کیا وہ اپنا’ بیوڈاٹا’ یا ’سی وی ‘جیبوں میں لئے پھرتے ہیں!‘‘کیا فرضی جھڑپوں میں مارے گئے افراد واقعی پاکستانی تھے یا پھر کیا وہ واقعی جنگجو تھے؟ سوال اتنا ہی نہیں ہے، ایک مقامی قانون دان کہتے ہیں ’’ جنگجوؤں کو بھی حراست میں لینے کے بعد اس کو قانونی چارہ جوئی کے بغیر قتل کرنا ایک سنگین جرم ہے، جو سزا کا مستوجب ہے‘‘ ۔ معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جو کچھ سامنے آیا ہے، یہ محض نمونہ مشتے از خروارے یاTip of the Ice Bergکہا جاسکتا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرکاری طور پر بھی ایک ہزار سے زائد افراد کی ’’گمشدگی’’ کا اعتراف کیا گیا ہے جبکہ غیر کاری تنظیمیں اس تعداد کو10 ہزار کے آس پاس بتاتی ہیں۔ حقیقت جو بھی ہو، عوام کو اور گمشدہ افراد کے لواحقین کو اس بات کا حق ہے کہ انہیں صحیح صحیح صورت حال کی جانکاری دی جائے۔
حراستی قتل اور فرضی جھڑپوں کے دوران جاں بحق کئے جانے کے خلاف وادی میں ہر بار عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار ہوتا رہا، احتجاج اور ہڑتالیں ہوئیں لیکن اس کے باوجود یہ مہیب اور خوفناک سلسلہ نہیں رک سکا ۔ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق نومبر 2002 سے حراستی ہلاکتوں اور فرضی جھڑپوں کے 173واقعات رونما ہوئے ہیں ۔

Advertisements

2 Responses to افسپا۔۔۔قتل عام کا لائسنس کب منسوخ ہوگا؟

  1. Ali Hasaan نے کہا:

    لکھتے رہیے جنوں کی حکایت ۔۔۔۔۔۔

  2. Fayaz Wani نے کہا:

    Keep it up. Allah jazaai kher de.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: