ڈرگ پالیسی عوام دوست،شرما کی وضاحت

جموں کشمیر کے وزیر صحت نے ڈرگ پالیسی کو ریاستی عوام کیلئے سودمند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مفاد پرست عناصر بلاوجہ لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اس پالیسی کو3سال کی مشاورت کے بعد منظر عام پر لایا گیا۔اس دوران انہوں نے پرائیویٹ طبی اداروں کیلئے چھوٹے بڑے آپریشن عمل میں لانے کیلئے ریٹ لسٹ بھی جاری کیا اور کہا کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سنگین کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ وزیر صحت سرینگر میں منگلوار کو شمالی ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے ذریعے ٹی بی پر قابو پانے کے حوالے سے اٹھائے جا رہے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعدایک ہنگامی نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت شام لال شرما نے ڈرگ پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کو نقائص سے محفوظ رکھنے کیلئے3سال کا وقت صرف ہوا جبکہ ریاست اور بیرون ریاست سے87ماہرین نے عوامی مفادات کوملحوظ نظر رکھ کر اپنے قیمتی مشوروں سے ریاستی سرکار کونوازا۔وزیر موصوف کے مطابق اتنا ہی نہیں بلکہ6ماہ تک اس پالیسی کو عوام کے سامنے بھی رکھا گیا تاکہ کسی خطرے کی گنجائش نہ رہے اور مجموعی طور پرمذکورہ پالیسی کو عوام دوست بنانے کی خاطر ہرممکن کوشش کی گئی ۔انہوں نے ڈرگ پالیسی کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی سے مریضوں کو مناسب داموں پر ادویات فراہم ہونگی اور مخصوص کمپنیوں کے ادویات تجاویز کرنے والے ڈاکٹروں کے طرز عمل پر بھی روک لگے گی۔وزیر صحت کے مطابق محکمہ صحت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سیول سوسائٹی سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا اوران کی آراء کو بھی ملحوظ نظر رکھا گیا جس کے بعد کابینہ نے باضابطہ طور پر ڈرگ پالیسی کو منظوری دی۔وزیر صحت نے تاہم واضح کیا کہ اس پالیسی میں ہر2سال کے بعد جایزہ لیا جائے گا اوراگر ضرورت محسوس ہوئی تو ترمیمات بھی عمل میں لائی جاسکتی ہیں۔ڈرگ پالیسی کو ریاستی عوام اور صحت عامہ کیلئے ایک اہم جز قرار دیتے ہوئے وزیرصحت شام لال شرما نے کہا کہ ماہرین پر مشتمل سٹیٹ ڈرگ کمیٹی ہر 2سال بعد اہم اور ضروری ادویات کا مشاہدہ کرے گی اور اس کا جایزہ لینے کی سفارش بھی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر ایسی پہلی ریاست نہیں ہے جہاں یہ پالیسی اپنائی جا رہی ہے بلکہ ملک کی مختلف ریاستوں میں اس پالیسی پر کامیابی کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے اور اس سے ادویات کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کے مفادات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ غلط فہمیوں کے نتیجے میں ریاست میں اس پالیسی کے حوالے سے منفی پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے کیونکہ زیادہ تر متعلقین نے پالیسی کا مفصل جائزہ نہیں لیا ہے ۔ شرما نے بتایا کہ نئی ڈرگ پالیسی کو نافذ العمل بنانے سے نہ صرف عام لوگوں بلکہ اس شعبے سے وابستہ دیگر اداروں اور افراد کو فائدہ پہنچے گا ۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی کابینہ نے اس معاملے پر مفصل تبادلہ خیال کرنے کے بعد یہ تاریخی فیصلہ لیا جس کا مقصد ایک عام شہری کے ذریعے طبی سہولیات حاصل کرنے پر ہونے والے خرچے کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی سے نہ صرف ادویات کی تقسیم کاری اور ان کے معیار کو قائم رکھنے میں مددملے گی بلکہ اس سے غیر معیاری ادویات کی خرید و فروخت پر بھی قابو پایا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کے تحت ادویات کی خریداری اور تقسیم کاری کے حوالے سے ایک الگ ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کی مدد سے صوبائی ،ضلع اور بلاک سطح کے اسپتالوں میں ادویات کی دستیابی یقینی بن جائے گی ۔ اس موقعہ پر وزیر موصوف نے پرائیویٹ اسپتالوں میں آپریشن اور اس سے جڑے دیگر معاملات کیلئے ایک ریٹ لسٹ بھی جاری کیا جس کے تحت زچگی کیلئے زیادہ سے زیادہ 10ہزار روپے ، بڑے آپریشن کیلئے 16ہزار روپے ،لیپراسکوپک سرجری کیلئے 20ہزار روپے ، ایڈوانس لیپراسکوپی کیلئے25ہزار روپے ، درمیانہ درجہ کے آپریشن کیلئے12ہزار روپے ، معمولی آپریشن کیلئے4ہزار روپے اور ختنہ کیلئے زیادہ سے زیادہ3ہزار روپے کی رقم مقرر کی گئی ہے ۔وزیر موصوف نے بتایا کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے طبی اداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔وزیر موصوف نے اس موقعہ پر اس بات کا اعتراف کیا کہ کچھ ڈاکٹر اپنے ذاتی فوائد کیلئے مخصوص کمپنیوں کے ہی ادویات تجویز کرتے ہیں اور جس کے عوض اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں۔اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ طبی عملے میں پیشہ وارانہ اخلاقیات کی کمی ہے اور اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر موصوف کے ہمراہ کمشنر سکریٹری صحت و طبی تعلیم جی اے پیر،ناظم صحت ڈاکٹر سلیم الرحمان،این ایچ آر ایم کے مشن ڈائریکٹر ڈاکٹر یشپال شرمااور دیگر افسران بھی موجود تھے ۔تقریب پرپر محکمہ صحت کشمیر کی طرف سے ایک نیوز لیٹر کی بھی رسم رونمائی انجام دی گئی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: