ایک اور گھر میں ماتم،ایک اور طالب علم جاں بحق

سال 2010کی احتجاجی لہر کے دوران ہوئی ہلاکتوں میں ایک طویل عرصے کے بعدجمعہ کوایک اور نوجوان کا اضافہ ہوگیا۔سجاد احمد نامی طالب علم اہلکاروں کی گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں سے شدید زخمی ہوا تھا۔سجاد کا تعلق شمالی کشمیر کے پٹن قصبے تھا اور 7ویں جماعت کا طالب علم تھا۔اسپتال کی طویل مسافت طے کرنے کے بعد سجادبالآخرجمعرات کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اس طرح ایجی ٹیشن کے دوران فورسز فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد اب123تک پہنچ گئی۔
پٹن کے ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے سجاد احمدکے والد علی محمدنے بتایا کہ’ 2010 کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران سجادکے داہنے ہاتھ میں ایک ٹیئر گیس شل لگ گیا۔جس کا فوری طورعلاج کروایا گیالیکن تھوڑے ہی عرصے میں اس کے ہاتھ میں اچانک سوجن پیدا ہوگئی اورناقابل برداشت درد ہونے لگا‘۔علی محمد کے مطابق سجاد کے ہاتھ کی پہلی جراحی کے دوران خارج شدہ مواد کی تحقیق کروائی گئی اور پتہ چلا کہ اس کے ہاتھ میں سرطان پیدا ہوگیا تھا۔علی محمد کے مطابق جونہی ڈاکٹروں نے اسے یہ خبر دی کہ اگر فوری طور اسکے بیٹے کا علاج نہ کیا گیا تو اس کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔’ اس دوران میرے گھر کی حالت بالکل تباہ ہوئی ، میری بیٹیوں اور بیٹے کی پرورش اور تعلیم سب کچھ متاثر ہوگیا ‘علی محمد نے کہا ۔علی محمد نے مزید کہا کہ’’ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے بازو میں یہ مہلک مرض پھیلنے لگا اورایک سال 3ماہ کے بعد شیر کشمیر میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں اس کا داہنا بازو ہی کاٹ دیا گیا۔بازو کٹنے سے ہمیں انتہائی زیادہ دکھ ہوا لیکن ایک تسلی تھی کہ ہمارا بیٹابچ جائے گا لیکن اللہ کو یہ منظور نہیں تھا‘‘۔علی محمد کے مطابق ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کے جسم میں زہر پھیل گیا تھا لیکن اب تو پورے کنبے کی خوشیوں میں ہی زہر پھیل گیا ہے جو ہماری جان لیکر ہی چھوڑدے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: