حریت کا اندرونی خلفشار بیچ راستے میں

جموں کشمیر کے علاحدگی پسند خیمے میں پروفیسر عبدالغنی بٹ کے حالیہ بیان کے بعد انتشاری کیفیت روز افزوں تقویت پارہی ہے اور حریت کانفرنس(میرواعظ گروپ )کے کئی لیڈران آپس میں دست و گریباں ہیں۔واضح رہے کہ سینئر حریت لیڈر پروفیسر عبدالغنی بٹ نے اپنے آبائی گاؤں بوٹینگو سوپور میں ایک تقریب پر کہا تھا کہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں اب فرسودہ ہوچکی ہیں لہٰذا مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے علاحدگی پسندوں اور ہندنواز گروپوں کو مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔ حریت کانفرنس کی جنرل کونسل کے تقریباًسبھی لیڈران نے پروفیسر کے بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اورپروفیسر کی اپنی پارٹی’ مسلم کانفرنس‘ کے جنرل سیکریٹری شبیر احمد ڈار نے اپنے اخباری بیان میں اعلان کیا کہ انہوں نے پروفیسر کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کرلیا تاہم حریت کانفرنس نے انکے خلاف کوئی’ آئینی‘ کارروائی کرنے سے اجتناب کیا جس کی وجہ سے حریت کی دیگر اکائیوں خصوصاً نیشنل فرنٹ اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے پروفیسر بٹ کے خلاف کارروائی کا پرزور مطالبہ کیا۔اس صورتحال کے نتیجے میں حریت کانفرنس چئیرمین میرواعظ عمر فاروق نے گذشتہ ہفتے گروہ بندی کو روکنے کیلئے ایک اجلاس طلب کیا تھا تاہم اجلاس کے دوران اس وقت ہنگامہ خیز صورتحال پیدا ہوگئی جب نوجوانوں کے الگ الگ گروپوں نے اپنے اپنے رہنماؤں کے حق میں نعرے بازی کی۔درجنوں حریت کارکن حریت دفتر میں اْس وقت داخل ہوگئے جب میر واعظ عمرفاروق کی سربراہی میں اجلاس جاری تھا۔شدید نعرے بازی کے بیچ میرواعظ عمرفاروق نے حریت دفتر میں ہی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے بتایا :’ہم نے تمام اراکین کو اس ضابطہ کا پابند کر دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی ذاتی آراء کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے کی بجائے حریت کے اندر زیربحث لائیں‘۔
واضح رہے کہ حریت کانفرنس اس سے قبل بھی 2003 میں دو پھاڑ ہوچکی ہے جس میں سینئر علاحدگی پسندرہنما سیّد علی گیلانی نے کئی حریت اکائیوں پر مشتمل ایک الگ حریت کانفرنس بنائی جس کی بھاگ ڈور تب سے ان کے ہاتھ میں ہے۔ حریت کانفرنس سے علاحدگی اختیار کرنے کیلئے سید علی گیلانی کا دعویٰ ہے کہ حریت کانفرنس کے بعض پراکسی امیدواروں نے2002کے انتخابات میں حصہ لے لیا۔ دریں اثنا سید علی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کہا ہے’اقوام متحدہ کی قراردادیں مسئلہ کشمیر کی قانونی بنیادیں ہیں، ان قراردادوں سے دستبردار ہونے کا مطلب بھارت کے ناجائز فوجی قبضہ کو تسلیم کرنا ہے‘۔وادی میں پیداشدہ اس صورتحال کے پیش نظر حریت کانفرنس (گیلانی گروپ) نے ’’ مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادیں کیا ناقابل عمل بن چکی ہیں ‘‘ کے موضوع پر ایک سمینار کا بھی اہتمام کیاجس کے دوران ماہرین تعلیم ، قانون دان اورصحافیوں کے علاوہ زندگی کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر مقررین نے مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ شملہ ، تاشقند اور دیگر معاہدوں سے جب قرار دادوں پر کوئی اثر نہیں پڑا تو ان کی اہمیت ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اس دوران حریت کانفرنس (میرواعظ گروپ)کے دفتر راجباغ میں مرحوم مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی برسیوں کے سلسلے میں ’’شہیدوں کا خون اور ہمارا سیاسی مستقبل‘‘ کے عنوان سے ایک سمینار میں نیشنل فرنٹ سربراہ نعیم احمد خان نے اپنے خطاب میں پروفیسر عبدالغنی بٹ کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’حریت چیر مین میرواعظ عمر فاروق نے ہمیں خاموش رہنے کی ہدایت دی اور ہمارے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کو فرسودہ قرار دیکر جب پروفیسر بٹ نے کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کی تو میرواعظ نے ان (پروفیسر بٹ )کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیوں نہیں کی؟ ۔‘‘نعیم احمد خان ابھی اپنی تقریر کر ہی رہے تھے کہ حریت کے کچھ کارکنوں نے اعتراض جتلاتے ہوئے انکے نعرے بازی شروع کی۔انہوں نے نعیم احمد خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کافی شور شرابہ کیا جبکہ نعیم احمد خان اور شبیر احمد شاہ کے حامیوں نے بھی جوابی نعرے بازی کی۔اس دوران سینئر علاحدگی پسند لیڈر شبیر احمد شاہ نے پروفیسرعبدالغنی بٹ کے حریت سے اخراج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے لہو سے ہاتھ رنگنے والے لوگوں کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا جاسکتا ۔ انہوں نے حریت کانفرنس کے احیاء نو پر زور دیتے ہوئے سید علی گیلانی اور محمد ملک یاسین سمیت تمام علاحدگی پسند لیڈران سے حریت کو سر نو منظم اور متحرک بنانے کیلئے آگے آنے کی اپیل کی ۔حریت دفتر کے صحن میں فریڈ م پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ کی تقریر کے دوران ہی میرواعظ عمر فاروق کے کچھ حامی گاڑیوں میں سوار ہوکر وہاں پہنچ گئے اور نعرے بازی شروع کی جبکہ شاہ اور خان کے حامیوں نے بھی جم کر نعرے لگائے تاہم حالات کو بگڑتے دیکھ کر نعیم احمد خان او ر شبیر احمد شاہ اپنے حامیوں سمیت حریت دفترسے چلے گئے۔قابل ذکر ہے کہ حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی خانہ نظربندی کی وجہ سے سمینار کی صدارت اتحا د المسلمین کے سرپرست مولانا عباس انصاری کررہے تھے جبکہ شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان نے ایوان صدارت میں بیٹھنے سے انکار کیا جسکے نتیجے میں مولانا انصاری ایوان صدارت میں بیٹھے واحد لیڈر تھے اور ان کے آس پاس کی کرسیاں خالی تھیں ۔
یاد رہے کہ ریاست کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے حریت کانفرنس کی اس صورتحال پر اپنے ردعمل میں کہا ہے ‘حریت میں گروہ بندی یا پھوٹ ان کے لئے پریشانی کا باعث نہیں ہے بلکہ یہ حریت والوں کے ہی مفادات کے خلاف ہے‘۔ریاست کی کئی ہند نواز سیاسی جماعتوں نے بھی پروفیسر بٹ کے بیان کو حوصلہ افزاء قرار دیتے ہوئے علاحدگی پسندوں کو انتخابات میں شرکت کا مشورہ دیا ہے۔

One Response to حریت کا اندرونی خلفشار بیچ راستے میں

  1. سعود نے کہا:

    اتحاد۔۔۔ اتحاد۔۔۔ اتحاد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: