رابطہ کاروں کی رپورٹ منظرعام پر

علاحدگی پسندوں نے ناکام کوشش سے تعبیر کیا
بھارت کی وزارت داخلہ نے 2010میں مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لئینامزد کئے گئے رابطہ کاروں کی رپورٹ کو امور داخلہ کی وزارت کی ویب سائٹ (www.mha.nic.in)پرجاری کیا ہے۔مذاکرات کاروں نے اپنی رپورٹ میں ریاست کے سابق وزیراعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کو برخاست کرنے اور انکی گرفتاری کو’آئینی طور متنازعہ‘ قرار دیتے ہوئے جموں کشمیر میں 1953سے قبل کی پوزیشن کی مکمل بحالی کو یہ کہتے ہوئے خارج از امکان قرار د یا ہے کہ’’گھڑی کی سوئیوں کو پیچھے کی طرف موڑا نہیں جاسکتا اور اگر ایسا کیا گیا توحکومت ہند او ر جموں کشمیر کے تعلقات میں ایک آئینی خلاء پیدا ہونے کا احتمال ہے‘‘۔مذاکرات کاروں نے جموں کشمیر میں 1952کے بعد لاگو کئے گئے تمام مرکزی قوانین اور آئین ہند کی دفعات کا از سر نوجائزہ لینے کیلئے آئینی کمیٹی کے قیام اور دفعہ370کی مکمل بحالی کے ساتھ ساتھ ریاست کے لئے گورنر کی تقرری ریاستی حکومت کے کہنے پر عمل میں لانے کی سفارشات پیش کی ہیں۔ اسکے علاوہ کنٹرول لائن کے آر پار مسافروں اور تجارتی سامان کی آزاد آواجاہی، علاحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے، معمولی نوعیت کے معاملات میں نظر بند قیدیوں کی رہائی، فوج کو حاصل خصوصی اختیارات اور ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ پر نظر ثانی کی بھی تجویز پیش کی ہے۔سینئر صحافی دلیپ پڈگاؤنکر، ماہر تعلیم رادھا کمار اور سابق سرکاری افسر ایم ایم انصاری نے اپنی رپورٹ میں بہت سی ایسی سفارشات تیار کی ہیں جن سے ان کے خیال میں جموں و کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے گذشتہ سال اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی تھی جسے وزارت داخلہ نے آج اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا ہے۔یاد رہے کہ رابطہ کاروں نے جموں کشمیر میں مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں سے بات چیت کی بنیاد پر اپنی رپورٹ تیار کی ہے لیکن علاحدگی پسند رہنماؤں نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔رابطہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے’ جو سیاسی حل تجویز کیا ہے وہ وادی کشمیر کے عوام کے اس تاثر کو پوری طرح مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے‘۔اس دوران وزارتِ داخلہ کے بیان میں واضح کیاگیا ہے کہ رپورٹ میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ رابطہ کاروں کے اپنے خیالات ہیں اور بھارتی حکومت نے ابھی تک رپورٹ پر کوئی فیصلہ نہیں لیاہے تاہم بیان میں کہاگیا ہے کہ حکومت رپورٹ کے موضوعات پر بحث و مباحثہ کا خیر مقدم کرے گی۔رپورٹ شائع ہونے کے بعد مذاکرات کاروں کی ٹیم کے سربراہ دلیپ پڈگاؤنکر نے اپنی حتمی رپورٹ پر سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کیلئے آئندہ چار ماہ کے عرصے میں بحث و مباحثے منعقد کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ کے بارے میں علاحدگی پسندوں کی رائے جاننے کی خاطران سے ملنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’یہ سچ ہے کہ علیحدگی پسند ہم سے نہیں ملے ،ہم نے ان سے ملاقات کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ سامنے نہیں آئے ،لیکن ان کے نظریات بالکل واضح ہیں اور رپورٹ مرتب کرتے وقت ان کو بھی ملحوظ نظر رکھا گیا ہے ‘‘۔ رابطہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ کا حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے جس میں علاحدگی پسند حریت کانفرنس کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔
ادھر جموں کشمیر کے سبھی علاحدگی پسند لیڈران نے رابطہ کاروں کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ رپورٹ میں مسئلہ جموں وکشمیر کیلئے کچھ بھی نہیں۔

حریت کانفرنس (گ) چیئر مین اور سینئر علاحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے رپورٹ مستر د کرتے ہوئے کہا کہ یہ دلی طرف سے مسئلہ کشمیر کو طوالت دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ انہوں نے بتایاکہ رپورٹ مسئلہ کشمیر کے اندورنی پہلوں پر ہی منتج کیا گیا ہے جبکہ اصل مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے کوئی بھی بات نہیں کی گئی اور یہ کوشش کی گئی ہے کہ آئین ہند کے تحت ہی تنازعہ کو حل کیا جائے تاہم یہ کشمیری عوام کو منطور نہیں۔

حریت کانفرنس(ع) کے چیئرمین میرواعظ نے کہا کہ مذاکراتکاروں کو پہلے ہی حریت نے مسترد کیا تھا تاہم اب جو رپورٹ منظر عام پر لائی گئی ہے اس میں بھی ریاست کو صوبوں، خطوں، گرپوں اور جماعتوں کی سطح پر تقسیم کیا گیا ہے۔میرواعظ نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ جموں کشمیر میں یک رائے نہیں ہے اور لوگ بٹے ہوئے ہیں تاہم انہوں نے صاف کیا کہ ریاستی عوام کی اس سلسلے میں ایک ہی رائے ہے اور وہ یہ کہ مسئلہ کا بامعنی اور حتمی حل جولوگوں کی خواہشات اور احساسات کے عین مطابق برامد کیا جائے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک نے کہا کہ مذاکراتکاروں کی رپورٹ میں جموں وکشمیر کو مذہبی ، لسانی ، خطی اور دیگر بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے رپورٹ کو کشمیری عوام کے ساتھ دھوکہ اور مذاق کے ساتھ قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: