شاہراہوں کا مرکز۔۔۔گریز

 

گریز وادی کو وسطی ایشیاء سے کم وبیش 6شاہراہیں ملاتی تھیں ۔1947ء کے بعد وہ سب راستے بند کئے گئے اورگریزکا وسطی ایشیاء تو دور وادی کشمیر سے بھی 6ماہ ہی سڑک رابطہ رہتا ہے۔شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع صدر مقام سے86اور سرینگرسے123کلومیٹر کی دوری اورسطح سمندر سے8ہزار فٹ کی بلندی پر اونچے ہمالیائی سلسلے میں واقع یہ وادی چاروں اطراف سے پہاڑوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔یہ وادی جہاں اپنے منفرد تہذیب و تمدن کی وجہ سے پوری ریاست میں منفرد مقام رکھتی ہے وہیں یہاں کثیر تعداد میں جنگلی حیاتیات پائے جارہے ہیں جن میں برفانی تیندوے،ہرن ،کالے ریچھ اور انتہائی نایاب برفیلے بلرے،IBEX یعنی مارخور شامل ہیں جبکہ جڑی بوٹیوں کی نادر اقسام بھی کثرت سے پائی جاتی ہیں ۔جڑی بوٹیوں میں’کوٹھ،پطریس ،منال ،ڈوتھ اورپتھر مونیا‘ وغیرہ شامل ہیں۔سرحد کے اِس پار کشن گنگا اور اُس پار دریائے نیلم کہلائے جانے والا یہ دریا اسی وادی کے بیچوں بیچ سے بہتا ہے۔گلگت کو جانے والی شاہراہ بھی گریز سے ہوکر ہی جاتی ہے۔گریز وادی تین خطوں میں منقسم ہے۔بگتور سے آگے شاردا پیٹھ تک کا علاقہ ضلع نیلم کہلاتا ہے جو پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پڑتا ہے۔کامری اور منہ مرگ کے درمیان کا علاقہ پاکستان کے موجودہ شمالی علاقہ جات میں اسطور ضلع کا حصہ ہے جبکہ بگتور سے چکوالی تلیل تک کے علاقہ کو تحصیل گریز کہتے ہیں جو بانڈی پورہ ضلع کا حصہ ہے۔اس طرح اگر دیکھا جائے تو گریز جہاں پاکستانی شمالی علاقہ جات سے ملتا ہے وہیں دوسراحصہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور ایک حصہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہے ۔شمالی علاقہ جات میں اسطور ضلع کو جانے والے شاہراہ پر’ برزل ‘درہ کے نزدیک واقع ہونے کی نسبت گریز کے بیشتر رہائشی درد قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں جو شینا زبان بولتے ہیں اور ان کا رہن سہن ،پوشاک اور تمدن بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پایا جاتا ہے۔سرما میں بھاری برفباری کی وجہ سے یہ علاقہ چھ ماہ تک باقی وادی سے کٹا رہتا ہے۔دریائے کشن ،جو150کلومیٹر لمباہے ،نہ صرف پینے کے پانی اور آبپاشی سہولیات کا اہم ذریعہ ہے بلکہ یہ دنیا کی بہترین اقسام کی ٹراؤٹ مچھلیوں کے لئے بھی مشہور ہے ۔چینی سیاح او کونگ نے کشمیر کی تین اہم تجارتی شاہراہوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلی شاہراہ زوجیلہ درے سے ہوتے ہوئے لداخ اور پھر دومیل کے راستے تبت تک جاتی ہے جبکہ دوسری شاہراہ گریز وادی سے ہوتے ہوئے پہلے اسکردو ،پھر خنجراب درے سے ہوتے ہوئے گلگت اور وسط ایشیا تک پہنچنے کے علاوہ چینی ترکستان تک پہنچ جاتی ہے ۔تیسری شاہراہ جس کا نام بعدکے ایام میں جہلم ویلی روڈ پڑا، جو بارہمولہ سے ہوتے ہوئے مظفر آباد اور پھر شاہراہ ابریشم سے مل جاتی تھی۔اس وقت بھی بانڈی پورہ سے ہوکر رازدان ٹاپ کو عبور کرکے پہلے گریز وادی اور اس کے بعد ’کمری‘ درے سے ہوکر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوسکتے ہیں جبکہ برزل درے سے ہوکر پاکستان کے شمالی علاقہ چیلاس میں داخل ہوسکتے ہیں۔ گریز تقسیم سے قبل ضلع ہوا کرتا تھا اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا ضلع نیلم اس کا حصہ ہوا کرتا تھا۔تقسیم کی وجہ سے بیشتر حصہ پاکستان کے انتظام میں کوچلاگیا جبکہ چھوٹا حصہ گریز ضلع سے گھٹ کر تحصیل ہوکر رہ گیا۔ مورخین کا کہنا ہے کہ گریز جموں وکشمیر کو وسط ایشا سے ملانے والی شاہراہ کا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یاد رہے کہ اسی روٹ سے تاجر،مذہبی سفر کرنے والے اور تبلیغ کرنے والے آیا جایا کرتے تھے ۔مبصرین کا ماننا ہے کہ کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ سے یہ تاریخی شاہراہ تاریخ بن جائے گی۔

2 Responses to شاہراہوں کا مرکز۔۔۔گریز

  1. Jalaluddin Mughal نے کہا:

    محترم امتیاز بھائی
    میرا تعلق مظفر آباد سے ہے اور آپ کی تحریریں اکثر پڑتا رہتا ہوں۔ میں سیاحت سے متعلق ایک میگزین کا ایڈیٹر ہوں اور آئندہ کچھ عرصے تک کنٹرول لائن کے آر پار سیاحت کے حوالے سے ایک تحققی مضۘون لکھنے کی تیاری کر رہا ہوں اس میں مجھے آپ کا تعاون درکار ہو گا بمہربانی اپنا ای میل ایڈریس دے دیں تاکہ میں آپ سے رابطہ کرسکوں

    • imtiyazkhan نے کہا:

      محترمی و مکرمی
      یہ بات میرے لئے باعث مسرت ہے کہ آپ جیسے دوست میری تحاریر پڑھ کر میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔سیاحت میراایک پسندیدہ موضوع ہے اور اپنے صحافتی کیرئرکے دوران میں نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔روزمرہ کے خشک وتر ،سیاسی،مالی،سماجی اور دیگر موضوعات سے ذرا فراغت پاکر میری پہلی پسند سیاحت سے متعلق کوئی نہ کوئی سٹوری ڈھونڈ نکالنا ہوتی ہے۔
      بہرحال آپ نے مجھ سے تعاون طلب کیا تو انشاء اللہ آپ مجھے معاونین میں سے پائیں گے۔بے فکر رہئے گا۔آپ میرے ای میل imtiyazkhan008@gmail.com پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: