وادی گریز۔۔۔راہوں پہ تاریخ رقم ہے جس کی

گریز ایک حسین وادی ہے جو اپنے قدرتی حسن کے باعث انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ وادی ریاست جموں وکشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پورہ کی ایک تحصیل ہے۔ دریائے کشن گنگا اس وادی کے قلب میں بہتا ہے۔ یہ وادی ریاست کی گرمائی راجدھانی سرینگر سے 123کلومیٹر دوراور سطح سمندر سے 8ہزار فٹ کی بلندی پر اونچے ہمالیائی سلسلے میں واقع ہے ۔ یہاں کی آبادی کشمیری اورشینا جانتی ہے۔ یہ علاقہ جنگلات اور چرا گاہوں سے اٹا ہوا ہے اور خوبصورت نظارے اس کو زمین پر جنت بناتے ہیں۔ یہ وادی موسم گرما (مئی تا ستمبر) میں سیاحوں کی منتظر رہتی ہے۔موسم سرما میں نقل و حمل مشکل ہو جاتی ہے۔ بانڈی پورہ سے سومو گاڑیوں یا دیگر ذرائع نقل و حمل سے گریز پہنچا جا سکتا ہے۔ بانڈی پورہ سے گریز تک کے تمام راستے میں حسین جنگلات اور پہاڑ دعوت نظارہ دیتے رہتے ہیں۔
بانڈی پورہ سے نکل کر سونرونی کے بعد پہاڑی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔پہلا پڑاؤ تراگ بل کا وہ بلند مقام آتا ہے، جہاں سے جھیل ولر کی وسعتیں اور قصبہ بانڈی پورہ اور سکے مضافات دور دور تک نظر آتے ہیں۔ یہیں سے پرانے دردستان کی سرحدیں شروع ہوجاتی ہیں۔راج ترنگنی میں کلہن لکھتے ہیں کہ تراگ بل کے مقام پر کشمیری بادشاہ ہرش وردن نے دردوں کا محاصرہ کیا اور خونین لڑائی شروع ہوئی تاہم انہیں پسپائی کا سامنا کرناپڑا۔1947میں بھی قبائلی حملہ کے وقت تراگ بل کوقبائلیوں نے بیس کیمپ بنایا تھا۔سطح سمندر سے11700فٹ کی بلندی پر واقع رازدان درے سے دو راستے نکلتے ہیں۔ایک سیدھا گریز جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ چیلاس(پاکستان)کو جاتا ہے۔اس کے بعد کنزلون آتا ہے ۔یہاں دریائے کشن گنگا چھوٹی سی ندی کا روپ پیش کرتی ہے تاہم آگے اس میں کئی معاون ندیاں مل جاتی ہیں ۔کشن گنگا کا اصل منبع کابلی گلی میں بتایا جاتا ہے۔مورخین کے مطابق یہی وہ مقام ہے کہ جہاں آخری عالمی بودھ کانفرنس منعقد ہوئی تھی ۔اس کے کچھ کلو میٹر بعد ہی بگتور کی جانب شاردا یونیورسٹی کے آثار ملتے ہیں جو دریائے کشن گنگا کے دوسری جانب پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہے ۔لینگوسٹک سروے آف انڈیا میں جارج گریر سن لکھتے ہیں کہ دراصل شینا زبان سے ہی کشمیری زبان نکلی ہے ۔کنزلون کے مقام پر ہی آج وہ ٹنل تعمیر ہورہی ہے جس کے ذریعے کشن گنگا کے پانی کا رخ موڑ کر اسے پہاڑوں کو چیرتے ہوئے بانڈی پورہ لایا جائے گا جہاں یہ پانی جھیل ولر میں چھوڑا جائے گا۔گریز کے آلو اور کالا زیرا کافی مشہور ہیں۔ اسمرگ نامی دیہی علاقہ آلوؤں کی کاشت کے ساتھ ساتھ قدرتی خوبصورتی کیلئے بہت مشہور ہے ۔ اسمرگ بگتور سے جڑا ہوا ہے جہاں سے تارہ بل پہنچ جاتے ہیں جو سرحد کے اِس جانب گریز کا آخری گاؤں ہے جبکہ دوسری جانب نیلم وادی ہے ۔ان علاقوں میں بیشتر لوگ کشمیری بولتے ہیں۔ اسمرگ پیچھے چھوڑ کر ایک پل آتا ہے جسے ملک کدل کہتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ملک خاندان ماضی میں اسطور کے جاگیردار تھے اور انہوں نے کافی وقت تک گریز پر حکمرانی کی ہے جس کے دوران ہی انہوں نے اس پل کو تعمیر کیا تھا ۔ملک کدل سے نکل کر گریز پہنچ جاتے ہیں۔گریز تک کشمیری اور شینا بولنے والے ایک ساتھ رہتے ہیں لیکن اس کے آگے صرف درد قبیلہ کے لوگ آباد ہیں اور خالص شینا بولی جاتی ہے ۔درحقیقت شینا بولنے والوں کے مسکن تراگہ بل بانڈی پورہ سے ایک طرف پامیر بدخشان اور دوسری جانب دراس کرگل تک سابقہ دردستان تک پھیلے ہوئے ہیں جبکہ مغرب میں سرحدیں کاغان وادی کے ذریعے پشاور تک جاتی ہیں۔گریز کے بعد بڈون گاؤں آتا ہے جہاں ایک چشمہ موجود ہے جسے پشکر ناگ کہتے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ کہ زمانہ قدیم میں یہ’ شیوازم‘ یعنی سانپوں کو پوجنے والوں کا مقدس مقام رہا ہے اور یہاں انہوں نے ایک پاٹھ شالہ تعمیر کرنے کے علاوہ وسط ایشیا تک جانے والے مسافروں کیلئے ایک سرائے بھی تعمیر کی تھی جس کے آثار آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ دری کھون نامی ایک اور جگہ کوراج ترنگنی میں کلہن نے دوگی داگھاٹ کا نام دیا ہے اور ان کے بقول یہاں یہاں وسطی اور بالائی قبائل کے درمیان کئی جنگیں لڑی گئی ہیں ۔یہاں سے بھی کشمیر کو راستہ جاتا تھا۔کھنڈیال پہنچ کرپہاڑی کی چوٹی پر ایک خوبصورت جھیل کسر سرواقع ہے جبکہ کھنڈیال میں ہی ہم آستان نالہ پن بجلی پروجیکٹ کے باقیات دیکھ سکتے ہیں جسے گریز وادی میں ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنانے کے بعد بیچ میں ہی ادھوراچھوڑا گیاتھا۔ماہرین کے مطابق اگر یہ پروجیکٹ تعمیر کیا گیا ہوتا تو اسے پوری گریز وادی کو بنا خلل بجلی فراہم ہوسکتی تھی اور اس سے ماحولیات کو کوئی نقصان بھی لاحق نہیں ہوتا۔یہاں بابا درویش کا مزار ہے جو ان سات سو سادات میں ہیں جنہیں حضرت امیر کبیر اپنے ساتھ کشمیر لائے تھے۔یادرہے کہ بابا درویشؒ کے علاوہ گریز میں کئی اور بزرگوں کی زیارت گاہیں بھی موجود ہیں۔گلگت بغاوت کے دوران مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے کھنڈیال کے ادیار سامون کو اسطور تک پھیلے ہوئے اس علاقہ کا حاکم بنایا جنہوں نے کھنڈیال میں ایک قلعہ اور تالاب تعمیر کیا جس کے آثار آج بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔اس کے بعد بابا زراقؒ کی زیارت آتی ہے اور پھر گریز کا مرکزی گاؤں داورآتا ہے جہاں گریز کے بیشتر دفاتراورہسپتال قائم ہے۔داور کے بعد مستن آتا ہے جہاں آج بھی ایک بڑا مٹی کا ٹیلا موجود ہے جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اسے پرانے وقت میں راجے مہاراجے اور معتبر شخصیات خطاب عام کیلئے سٹیج کے طور استعمال کرتے تھے۔گریز کے پہلے رہائشی میربرادران تھے ۔ایک میرنے جھولہ پل بنا کر تاجرو ں سے ٹیکس وصولی کیلئے یہاں چوکی قائم کی تھی جبکہ دوسرے میر نے نیرو تلیل جاکر نیرو میں سکونت اختیار کی ۔آج بھی مستن اور نیرو میں میر زیادہ تعداد میں پائے جاسکتے ہیں۔ اچھورہ اور مرکوٹ کے درمیان ایک پل ہے جس کے دونوں جانب پرانی عمارتوں کے کھنڈرات موجود ہیں ۔ان کھنڈرات کے بارے میں مورخ کہتے ہیں کہ یہ مقامی راجاؤں کی عدالتیں تھیں ۔ اچھورہ کے مقام پروہ پہاڑی ٹیلا نظر آتا ہے جسے حبہ خاتون کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اور یہاں ایک چشمہ بھی اسی خاتون کے نام سے منسوب ہے۔ چورون گریز وادی کا آخری گاؤں ہے اور اس کے بعد پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔یہاں سے ہی برزل اور کمری دروں کو راستہ جاتا ہے۔
برزل سے راستہ اسطور ،گلگت اور بالآخر وسط ایشیا جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ بلتستان اسکردو کی جانب جاتا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ 1999کے کرگل جنگ میں کشمیری جنگجوؤں کے ہمراہ پاکستانی افواج اسی پہاڑی راستے کے ذریعے ٹائیگر ہل اور مشکوہ وادی تک پہنچ چکے تھے ۔چک نالہ کے نزدیک تلیل علاقہ شروع ہوجاتا ہے اور اس کے پہلے گاؤں برنائی کے مقام پر بودھ اور ہندومذہب کے کئی مجسمے پائے گئے ہیں۔کاشپت علاقہ میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاقوں کو انتہائی قریب سے دیکھا جاسکتا ہے ۔بڈوگام تلیل کا مرکزی علاقہ ہے جہاں نیابت اور دوسرے سرکاری دفاتر قائم ہیں ۔اس کے بعد بڈ وآب آتا ہے ۔یہاں دوراستے نکلتے ہیں ۔ایک رمن نالہ ،گنگہ بل جھیل اورنارا ناگ جو کنگن سے ہوتے ہوئے سرینگر پہنچتا ہے جبکہ دوسرا راستہ بگروت نالہ سے ہوتے ہوئے گلگت پہنچ جاتا ہے۔چکوالی شمال کی جانب تلیل کا آخری گاؤں ہے اور یہاں سے ہی کابلی گلی کے راستے دراس کو راستہ جاتاہے جو دردستان کا حصہ رہا ہے ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: