وادی گریز:اُجڑنے کے لمحات انتظار گن رہا ہے گلشن!

ماضی قریب میں تاریخی و تجارتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل گریز وادی اپنے وجود کیلئے ارباب اختیار کے سامنے دامن پھیلائے ہوئے ہے۔ گریز جو آج کل کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ کی وجہ سے ہندوپاک میں ہی نہیں بلکہ ریاست کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں موضوعِ بحث بن چکاہے ،اپنی منفرد شناخت کے آخری پڑاؤ پر ہے ۔گریز کی گرد آلود سڑکوں پر اگر کچھ نظر آرہا ہے تو فقط قیمتی گاڑیوں میں رواں دواں کشن گنگا پروجیکٹ کا عملہ یا وہ مشینیں جو ہمہ وقت خوبصورت پہاڑوں کو چیرتے ہوئے ٹنل کھودنے میں مصروف عمل رہتی ہیں۔ ہر طرف جدید مشینری نے قدرتی نقشہ ہی تبدیل کردیا ہے اورماحول کو جہنم زاربنادیا ہے۔اگرچہ کشن گنگا پروجیکٹ گریز کی آبادی کے ایک بڑے حصے کیلئے روزی روٹی کا سامان فراہم کررہا ہے تاہم اس حقیقت سے بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا کہ گریز کے اکثر لوگ مذکورہ پروجیکٹ کو اس پرکشش وادی کی شناخت کے تابوت میں آخری کیل سے تعبیر کررہے ہیں۔
داور گریز کے محمد جبار لون نامی ایک شہری کا کہنا ہے کہ’ ’گریز میں جاری یہ دوڑ دھوپ جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس پسماندہ اورنئے زمانے کے رموز سے بے بہرہ خطے کی ترقی ہوگی اورہر طرف چکاچوند ہوگی لیکن یہ خوشحالی کے نام پہ تباہی ہے‘‘۔لون کے مطابق یہ صرف ایک بجلی پروجیکٹ کی تعمیر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک قبیلہ اور اس کے آبائی مسکن کی موت و حیات کا مسئلہ ہے۔پروجیکٹ کی وجہ سے گریز زیر آب آجائے گا،ہم یہاں سے منتقل ہوجائیں گے ،گریز سے باہر جاکر ہم اپنی ثقافت ،تہذیب و زبان کھو دیں گے۔ لون نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا کہ بجلی پروجیکٹ سے تو بھارت کی کئی ریاستیں منور ہونگی لیکن درد قبیلہ کیلئے ایک لمبی اور نہ ختم ہونے والی کالی رات کا آغاز ہوگا۔لون نے مزید کہا ’’ویسے بھی یہ بات عیاں ہے کہ شمالی بھارت کو جگ مگ کرنے والی ہماری ریاست گھپ اندھیرے میں ہے تو اس صورتحال میں گریزیوں کیلئے کوئی امید بھرلینا کوئی دانشمندی نہیں ‘‘۔
یاد رہے کہ کشن گنگا پروجیکٹ کیلئے ڈیم تعمیر کرنے کے علاوہ دریائے کشن گنگا کے پانی کا رخ موڑنے کیلئے ایک ٹنل تعمیر ہورہی ہے جس کا مقصد پانی بانڈی پورہ لانا ہے جہاں یہ پانی پاور ہاؤس میں استعمال ہوکر نالہ مدھو متی کے ذر یعے بالآخر جھیل ولر میں جائے گا۔کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ کی تعمیر کیلئے پہاڑوں کو چیرکر ٹنل اور ڈیم کی تعمیر کنزل ون نامی گاؤں میں جاری و ساری ہے۔ہندو پاک کی سیاسی صورتحال اور مسئلہ کشمیر جیسے معاملات پر معنی خیز خاموشی اختیار کرنے کے باوجود کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ہند نے معدنی وسائل کھنگالنے کے نام پر کسی اور ریاست کی آبادی کو ان کے آبائی مسکنوں سے نکال کر منتقل کرنے کا ارادہ بھی کیا ہوتا تو سیول سوسائٹی اور انسانی حقوق تنظیموں نے آسمان سر پہ اٹھایا ہوتا؟مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں تو بڑون نامی گاؤں کو مکمل طور منتقل ہونا ہے۔یاد رہے کہ صوبائی کمشنر کشمیر ڈاکٹر اصغر سامون کا تعلق اسی گاؤں سے ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق اس طرح گریز وادی جو ایک قبیلہ کی مانند ہے، ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے قریب ہے ۔
’’بجلی پروجیکٹ کی تعمیر سے جہاں گریز وادی مکمل طور زیر آب آئے گی وہیں اس خطہ میں مقیم جنگلی حیاتیات بھی نیست و نابود ہوجائیں گے۔پروجیکٹ کی تعمیر کے نتیجہ میں بے پناہ تاریخی آثار بھی قصہ پارینہ بن جائیں گے‘‘،لون نے کہا ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مورخین کا دعویٰ ہے کہ یہ قبیلہ( گریز وادی) آریائی تہذیب کی آخری پہچان ہے جو 330میگاواٹ کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ کی وجہ سے اپنی منفرد شناخت کے آخری پڑاؤ پر ہے ۔گریز میں بظاہر ترقی کی نئی راہیں کھولی جارہی ہیں لیکن اصل میں ایک خوبصورت وادی اور اس میں رہائش پذیر ایک منفرد تہذیب کو نیست ونابود کرنے کی سبیل پید اکی جارہی ہے۔مورخین کا کہنا ہے کہ درد قبیلہ اب جموں کشمیر میں گریز وادی ،لداخ میں دراس اور زنسکار کے ایک گاؤں تک محدو درہا ہے اوراب اس منفرد قبیلہ کے باقیات 25ہزار سے30ہزارکے درمیان درد شینا بولنے والے گریز وادی کے لوگوں پر مشتمل ہے۔تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزررہے اس قبیلہ کے وجود کو اب شدید خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔درد قبیلے کی چھوٹی سی پناہ گاہ کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ کی تعمیر کی وجہ سے غرقاب ہونے کی دہلیز پر ہے جس کے نتیجہ میں یہ پورا قبیلہ اپنے آبائی وطن سے محروم ہوگا۔
واضح رہے کہ کشن گنگا پروجیکٹ کی تعمیر کے سلسلے میں گریز اور بانڈی پورہ میں اراضی معاوضہ میں تفاوت پائی جارہی ہے ۔گریز کے اراضی مالکان کوتقریباً5سے 8لاکھ فی کنال کے حساب سے معاوضہ مل رہا ہے جبکہ بانڈی پورہ میں یہ معاوضہ2سے3لاکھ روپے فی کنال کے درمیان رہا۔اراضی معاوضہ میں یہ تفاوت کیوں ؟تو اس ضمن میں صوبائی کمشنر کشمیر ڈاکٹر اصغر حسین سامون نے بھارت کے معروف میگزین’تہلکہ‘کواس سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ گریز والوں کو اس لئے زیادہ معاوضہ مل رہا ہے کیونکہ وہ نہ صرف اپنی اراضی بلکہ اپناتہذیب و تمدن بھی کھورہے ہیں !
ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈیم کی تعمیر سے گریز وادی کے 25دیہات،6 چراگاہیں اور8کیمپنگ مقامات مکمل طور زیر آب آرہے ہیں ۔منصوبہ کے مطابق ریاستی حکومت 7703کنال قابل کاشت اراضی ،7,869کنال غیر زرعی اراضی اور 13,990کنال سے زائد جنگلاتی اراضی این ایچ پی سی کو منتقل کررہی ہے اور اس ضمن میں کئی برس قبل بڈون ،فقیر پورہ،وانپورہ،کھنڈیال ،مستن ،کھوپری ،مرکوٹ اور داور میں اراضی حصولی کیلئے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا تھا۔پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ میں 10ہزاردرد قبیلے کے لوگوں کے گھر زیر آب آجائیں گے جس کے بعد پروجیکٹ کی تکمیل پرپوری درد آبادی بے گھر ہوجائے گی۔3642.04کروڑ کی تخمینہ لاگت والے کشن گنگا پروجیکٹ کی وجہ سے ابتدائی مرحلہ پر 362سے زائد کنبوں کو بڈون ،وانپورہ اور کھوپری سے منتقل کیا جارہاہے کیونکہ وہاں رہائشی اراضی اب دستیاب ہی نہیں ہے ۔
گریز وادی میں کل 27دیہات ہیں جن کی مجموعی آبادی 32ہزار کے قریب ہے جبکہ فوجی ذرائع کے مطابق اس چھوٹے سے خطہ میں 26ہزارفورسز اہلکار تعینات ہیں جن کے زیر قبضہ 2802کنال اراضی ہے جس میں سے918کنال اراضی غیر قانونی طور زیر تصرف ہے جبکہ قانونی طور حاصل کی گئی1883کنال اراضی میں سے صرف1140کنال اراضی کا ہی کرایہ ادا کیا جارہا ہے جبکہ سرحد پر لگی تاربندی کی زد میں بھی 339کنال آچکے ہیں۔ایسے میں حکام کے پاس کوئی اراضی نہیں بچی تھی جہاں انہیں بسایا جاتا اور اس لئے فیصلہ ہوا کہ انہیں سرینگر سے16کلومیٹر دو ر سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر میر گنڈ کے مقام پر آباد کیا جائے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ گریزکا درد قبیلہ اپنے آبائی مسکن سے دور کشمیری کلچر میں کھوجائے گا اور یوں مستقبل میں کشمیر میں درد قبیلہ کا ذکر تاریخ کی کتابوں تک ہی محدود رہے گا اور اس کے ساتھ ہی کشن گنگا دریا کی وہ تابناک تاریخ قصہ پارینہ بن جائے گی ۔
فطری نظام میں بے جا مداخلت!
دلی سے شائع ہونے والے ایک معروف روزنامہ میں شائع ایک مضمون میں مرکزی وزارت آبی وسائل کے سابق سیکریٹری راما سوامی آر ایئر کہتے ہیں پانی کے بہاؤ کا رخ موڑنے سے یقینی طور پر منتقلی کے نکتے سے دریا کے پانی کا بہاؤ کم ہوگا،یہ صحیح ہے کہ منتقل کیا گیا پانی پھر جہلم میں جائے گا لیکن جہلم میں جمع ہونے سے قریبا150کلومیٹر پہلے کشن گنگا خطے میں پانی کا بہاؤ انتہائی کم ہوگا۔ایئر کا کہنا ہے اس سے صرف پانی کے چند فوائد ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ خود دریائی اور ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہوگا۔ماہرین کے مطابق ڈیم کی تعمیرسے مچھلیوں کی پیداوار متاثر ہوگی کیونکہ پانی کا بہاؤکم ہونے کی وجہ سے کشن گنگا میں ٹراؤٹ مچھلیوں کی افزائش ناممکن بن جائے گی جبکہ اس کے علاوہ سرما انتہائی کٹھن ہوگا کیونکہ کم بہاؤ کی وجہ سے پانی جم جائے گا اور درجہ حرارت مزید منفی میں چلاجائے گا۔رپورٹ میں یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ گرمیوں میں بارشوں کے دوران سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے جس کی وجہ سے تلیل کے چند بچے کھچے گاؤں بھی تباہ ہوسکتے ہیں ۔اس کے علاوہ عمارتی لکڑی اور بالن کا وہ قدرتی ذریعہ بھی کافور ہوجائے گا جو کشن گنگا دریا کی وجہ سے لوگوں کو میسر تھا ۔ماہرین کے مطابق بارشوں کے بعد بھاری پسیاں گر آنے اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے جنگلات سے بالن اور درختوں کی وافر تعداد بارشوں کے ساتھ بہتے ہوئے دریائے کشن گنگا میں جاتی تھی اور پھر یہی لکڑی اور بالن نیچے کناروں کو لگ جاتی تھی جو پھر نہ صرف سر حد کے اِس جانب بلکہ دوسری جانب بھی وادی نیلم میں لوگ رسوئی اور تعمیرات میں استعمال کرتے تھے تاہم جب پانی کارخ موڑا جائے گا تو یہ ذریعہ خود بخود ختم ہوجائے گا اور پھر تلیل میں بالن اور لکڑی کا مسئلہ بھی درپیش ہوگا۔اس کے علاوہ پانی کا رخ موڑنے کی وجہ سے تلیل کا سرسبز علاقہ ریگستان بن جائے گا اور بنجر زمین میں لوگوں کو زندہ رہنے کی خاطر کوئی فصل نہیں ملے گی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: