اردو صحافت کے کردار کا اعتراف کیوں نہیں؟

اردو زبان جو ہندوستان کی آزادی کے فوراً بعدسرکاری زبان بنائے جانے کی دعوے دار تھی آج اپنی بقاء کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ہندوستان کی قومی زبان بننے میں اپنوں کی سازشوں نے اس کا گلہ گھونٹ دیا یا سیاسی ،غیر سیاسی یا مذہبی رنگت دیکر اس کو بے رنگ کردیا گیا البتہ ریاست جموں و کشمیر میں کہنے کو تو اسے ’’سرکاری زبان‘‘ کا درجہ حاصل ہے لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سر کاری سطح پر بھی اس سے وہ سلوک نہیں کیا جارہا ہے جس کی یہ حقدار ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ جموں کشمیر میں اس کو دفن کرنے کی تمام کوششیں سیاسی وغیر سیاسی اورسرکاری و غیر سرکار ی سطح پر جاری ہیں ۔ پھر بھی گذشتہ نصف صدی سے اگر اردو زندہ ہے تو یہ کرشمہ ہے اردو والوں کے بجائے خود اردو کی قوت بقاء کا کہ ایسے دگرگوں حالات میں بھی نہ صرف خود زندہ ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی موجودگی کا ثبوت دے رہی ہے۔
زبان کسی بھی انسان کے دوسرے انسان سے رابطے اور تعلق کا ایک ذریعہ ہے اور ہم زباں ہو نا اس کام کو سہل اور آسان بنا دیتا ہے۔زبان نہ صرف رابطے کا ذریعہ بلکہ قوموں کی پہچان بھی ہوتی ہے۔ کسی بھی زبان کے فروغ میںیوں تو کئی عوامل کارفرماہوتے ہیں لیکن زبان کی ترویج یا اشاعت یا اسے عوامی سطح پر مقبول بنانے میں ذرائع ابلاغ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر چہ عوامی سطح پر اردو سے محبت کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں لیکن موجودہ دور میں جب ہم اردو زبان کی ترویج اور اشاعت کے مختلف شعبوں پر نظر ڈالتے ہیں تو اس میں صحافت کا کردار سب سے زیادہ روشن اور تابندہ نظر آتا ہے۔اگرچہ ادبی حلقوں میں صحافیوں کو آج بھی دوئم درجے کی مخلوق سمجھنے اور ان کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کا رجحان عام ہے لیکن اردو اخبارات اوراس سے وابستہ صحافیوں نے نامساعد حالات میں بھی زندہ رہنے کا ہنر سیکھا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اردو صحافت زندہ ہے بلکہ زبان کے فروغ میں بھی دوسروں سے کئی گنا زیادہ کردار ادا کررہی ہے۔
ہندوستان میں اردو صحافت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اردو نثر کی ،بلکہ یوں کہا جائے کہ اردو نثر کو اصل بال وپر اردو صحافت نے ہی عطا کئے ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔یہ دعویٰ کرنا بھی بیجا نہ ہوگا کہ اردو زبان کو عام فہم لیکن معیاری بنانے، اسے سنوارنے اور سجانے میں اردو صحافیوں کا قابل قدر حصہ ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی خطابیہ صحافت ہو یا مولانا حسرت موہانی کی شگفتہ بیانی، مولانا ظفر علی خاں کی پرجوش تحریریں ہوں یا مولانا عبدالماجد دریابادی کے طنز میں بجھے ہوئے شذرات، انہوں نے صحافت کے وسیلہ سے اردو کے نثری خزانے میں بے پایاں اضافہ کیا ہے۔اردو صحافت، بنگلہ صحافت کے بعد ہندوستان کی قدیم ترین صحافت ہے۔ ہمارے ادیبوں اور نقادوں کا صحافت پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ صحافتی تحریروں کو دوام حاصل نہیں ہے۔اسلئے انکی ادبی حیثیت کا تعین تقریباً ناممکن ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہر زمانے کی صحافت اپنے دور کی ایک تاریخ ہوتی ہے اور تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ماضی کی بہت سی صحافتی تحریریں آج ہمارے ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔خود ہندوستان کے معروف اخبار ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ کیلئے لکھی گئی مولانا ابو الکلام آزاد کی تحریریں اکثر وقتی اور ہنگامی مسائل سے تعلق رکھتی ہیں مگر ان کی ادبی اور تاریخی حیثیت آج بھی مسلّم ہے۔کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ اردو کے ساتھ روا سلوک کے باوجود بھی اگر یہ زبان زندہ ہے تو اس کو زندہ رکھنے اور فروغ دینے کا سہرا صرف اردو صحافت کے سر ہی باندھا جاسکتا ہے۔اس کے برعکس وہ سرکاری اور نیم سرکاری ادارے جن کے کاندھوں پر اس زبان کا فروغ یا اس کی ترویج و اشاعت کی ذمہ داری ہے وہ اردو اخبارات و رسائل کی طرف ٹیڑھی اور ترچھی نگاہ رکھتے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اردو صحافت ان تبدیلیوں کا سامنا نہیں کرپائی ہے جودنیا میں رونما ہو رہی ہیں جس کا اثر اس کی ترقی اور اس کی رسائی پر نظرآرہا ہے۔سینئر کالم نویس اشفاق ملک کہتے ہیں’’ اردو میڈیا اپنے روایتی طریقہ کار پر ہی کاربند رہا۔ جس کی ایک وجہ پیشہ ورارنہ صلاحیتوں کی کمی اور ناکافی رپورٹنگ بھی ہے‘‘۔مذکورہ کالم نویس مزید کہتے ہیں کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو صحافت کووسائل کی کمی کا سامنا ہے لیکن اس بات سے انحراف نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اردو میڈیا صحافت کی دنیا میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے بے خبر رہا‘‘۔اشفاق جو کئی نامور مقامی اخبارات کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں، نے تاہم امید ظاہر کی کہ اس وقت ٹیکنالوجی نے اردو صحافت میں جان ڈال دی ہے جس کی وجہ سے ایک امید قائم ہوئی ہے کہ اسے اپنی روایتی شبیہ سے باہر نکالنا ہے ۔
یہاں یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ ہندوستان میں یہ زبان پہلے ہی وینٹی لیٹر پر تھی لیکن اب افسوس اس بات کا ہے کہ عالمی سطح پر بھی اسے ایک بہت بڑا دھچکہ پہنچا ہے۔ وائس آف جرمنی نے اپنی اردو سروس بند کرنے کافیصلہ کرلیا ہے جو عالمی سطح پر اردووالوں کیلئے کسی سانحہ سے کم نہیں۔واضح رہے کہ وائس آف جرمنی ان چند عالمی صحافتی اداروں میں شامل ہے جہاں نہ صرف ریڈیو کے ذریعے پروگرام پیش کئے جاتے تھے بلکہ اُنکی اردوویب سائٹ کے ذریعے بھی اردو کو عالمی سطح پر قابل فخر اور بااعتبارطریقے پرفروغ حاصل تھااور ایک معتبر ادارہ تصور کیا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں وائس آف جرمنی کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبرگ نے واضح کردیاہے کہ وہ اردو ریڈیو سروس بند کررہے ہیں ۔ڈائریکٹر موصوف نے اسی بات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں وہ اردو ویب سائٹ بھی بند کررہے ہیں۔ پیٹر کے مطابق وائس آف جرمنی ہند وپاک میں اپنے سامعین سے اب فقط انگریزی میں ہی مخاطب ہوا کرے گی۔جموں کشمیر کے نامور اردو اخبار ’روزنامہ کشمیر عظمیٰ‘ کے سابق سینئرسب ایڈیٹرسیدین وقار وائس آف جرمنی کے اس اقدام کو نہ صرف اردو صحافت کیلئے نقصان قراردے رہے ہیں بلکہ اردو زبان کیلئے ایک بہت بڑا المیہ تصور کررہے ہیں ۔مذکورہ صحافی کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عالمی سطح پر اردو زبان نے اپنے محسن کھودئے ہیں۔جانکار حلقوں کے مطابق معاملہ صرف وائس آف جرمنی کا ہی نہیں ہے بلکہ دکھ کی بات یہ ہے کہ بی بی سی نے بھی اردو ریڈیو سروس بند کرنے کا من بنالیا ہے۔
سہارا ٹائم کے نامہ نگار پرویزمجیدجنہوں نے کافی عرصے تک اردو میڈیا میں نمایاں رپورٹنگ کی ،یوں اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں’’ جب تک اردو طبقہ جدید خیالات و نظریات کے ساتھ آگے نہیں آئے گا تب تک اردو میڈیا میں انقلابی تبدیلی ممکن نہیں‘‘۔پرویز کہتے ہیں’’ آج ہندوستان میں اخبارات اور رسائل کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا بے حد مقبول ہے۔اردو کے روز ناموں کی تعدادبھی بہت زیادہ ہے لیکن میری ذاتی رائے ہے کہ اردو زبان ہی نہیں بلکہ اردو صحافت مقدار اور معیار کے حوالے سے رو بہ زوال ہے‘‘۔مذکورہ صحافی کے مطابق میڈیا کے میدان میں آجکل اردوصحافت کو شدید چیلنجوں کا سامنا ہے اورخود اردو زبان کے کئی معاملات و مشکلات میں گھرے رہنے کی وجہ سے اردوصحافت بھی ان چیلنجوں کا اُس طرح سے مقابلہ نہیں کرپارہی ہے جس طرح دیگر غیر انگیزی زبانیں کرپارہی ہیں۔
اردو صحافت سے وابستہ اکثرصحافیوں کا مانناہے کہ اردو زبان اور اردو صحافت کی بقا ، پہچان اور وقار کی بحالی کے لئے منظم جدو جہد کی ضرورت ہے۔ اردو صحافت کو انصاف دلانے ، اس کاوقار بحال کرانے اور اس کا جائز حق دلانے کے لئے ایک طویل جد و جہد کرنی ہوگی اور اس جد وجہد کی راہ میں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کی مخالفت و مخاصمت بھی جھیلنی ہوگی۔سینئر صحافیوں کے مطابق اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ اردو صحافت کی موجودہ صورتحال کیلئے کون کون سے عناصر و عوامل ذمہ دار ہیں بلکہ اردو دشمنوں کے ان چہروں کو بھی بے نقاب کرنا ہوگا جو دوستی کی آڑ میں گزشتہ ساٹھ سال سے مسلسل دشمنی کرتے آرہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس زبان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا جائے تو اسے بین الاقوامی سطح پر بھی وہ اہمیت اور احترام ملنا شروع ہو جائے گا جو دوسری زبانوں کاہے کیونکہ عزت کی پہلی منزل گھر سے ہی شروع ہوتی ہے۔

2 Responses to اردو صحافت کے کردار کا اعتراف کیوں نہیں؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: