موسمیاتی تغیر انسان کتنا ذمہ دار

lone-pine قدرت نے کائنات کی ہر ایک چیز کو مکمل اور اپنی صحیح جگہ پر رکھ دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قدرتی نظام میں ہر عمل ایک قاعدے اور ضابطے کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے۔ایک معمولی عمل کو بھی اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں ایک تسلسل اور توازن ہے۔Food Chainمیں مختلف کڑیاں اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔جو بظاہر کبھی کبھی ظلم و جفاء سے لبریز معلوم ہوتی ہیں۔مگر جب انسان اس پر تفکر کرتا ہے۔تو یہی عمل سب سے بھلا معلوم ہوتا ہے۔ قدرت نے زمین تو ایک بنائی لیکن اس کو لاکھوں علاقوں میں تقسیم کر دیا تاکہ انواع و اقسام کے موسمی حالات ،جمادات و نباتات اور حیوانات کی فراوانی یکسانیت کی بے رنگی کو پنپنے نہ دے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین ایک خوبصورت جگہ ہے جہاں کثرت تو ہے لیکن اس میں ساتھ ہی توازن بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
مگر جہاں دنیا کی ہر ایک مخلوق اپنا رول فطری انداز میں ادا کر رہی ہے۔وہیں انسان پر لالچ اور طمع کا بھوت سوار ہوا۔اس نے اپنے گرد کے ماحول سے چھیڑ خانی کرنا شروع کی۔ جو اس کا رول تھا، اُس سے بہت زیادہ تجاوز کر کے نہ صرف اپنے لئے مشکلات کا بحرِ بیکراں پیدا کیا بلکہ لاکھوں دیگر مخلوقات کیلئے بھی تباہی کے سامان کر کے اُن کی کائنات کو اجاڑنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی ۔ ہزاروں برس تک انسان نے فطرت کے عین مطابق زندگی گذاری تو اس کے لئے یہ زمین اور اس میں موجود مخلوقات نے اس کا بھر پور ساتھ دیا۔ لیکن جونہی خود غرضی اور لالچ کا کپڑا کُلبلانے لگا ،تو ایک ایک نعمت دنیا سے رخصت ہونے لگی۔انسان نے جنگلات کا صفایا کرنا شروع کیا تو موسمی حالات ہی بدل گئے۔صنعتی انقلاب لاکر آلودگی میں بے انتہا اضافہ کر کے سینکڑوں طرح کے مسائل کو جنم دیا۔ حالت اس حد تک پہنچی کہ آج ہوا صاف ہے نہ پانی۔ زمین محفوظ ہے نہ اس کے سینے میں پنہاں ذخائر ۔انسانی حرص و طمع کا سب سے پہلا شکار جنگلات ہوئے۔ حالانکہ جنگلات ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کی اضافی مقدار جزب کرنے کا ایک موثر اور قدرتی حل ہے لیکن انکے صفایا کرنے سے ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہوئی اور یوں گلوبل وارمنگ یا عالمی تمازت کا مسئلہ سامنے کھڑا ہوا۔ اس کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ قطبین پر ہزاروں برس سے جمی ہوئی برف پگھلنے لگی اور یوں دنیا کے سمندری نظام میں تبدیلی رونما ہونے کے علاوہ بہت سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ بے شمار علاقوں کیلئے خطرات بڑھ گئے ہیں کہ وہ عنقریب یا آئندہ پچاس برسوں کے دوران پانی میں ڈوب جائیں گے۔موسمیاتی ماہرین کے مطابق پچھلی صدی کے دوران عالمی درجہ حرارت میں ایک ڈگری کا اضافہ ہوا ہے جو کسی المیے سے کم نہیں ۔ان ہی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حالات جوں کے توں رہے تو اس صدی میں یہ اس سے کہیں زیادہ ہو گا۔
پائدار ترقی کا تصور بقائے ماحول اور حیاتیاتی تحفظ سے وابستہ ہے۔ماحولیاتی تحفظ کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔عالمی حدت پر قابو پانے کیلئے انسانی رویوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی اورشجرکاری میں اضافے کی ضرورت ہے۔دورِ جدید کا انسانی جہاں آج سائنس و ٹیکنالوجی سمیت تمام علوم میں ترقی حاصل کررہا ہے وہاں ماحولیاتی آلودگی عالمی اقوام کیلئے ایک چیلینج بن کر سامنے آرہی ہے۔ٹیکنالوجی کو ماحول دوست بناکر ماحول کو متوازن کرکے عالمی حدت کے منفی اثرات سے بچاسکتا ہے ورنہ یہ خدشات موجود ہیں کہ موجودہ رفتار سے جاری عالمی حدت کے نتائج عالمِ انسانی کیلئے انتہائی خوفناک ہوسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق عالمی حدت بڑھنے سے طوفان میں اضافہ ہوچکا ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آب وہوا کے تمام عناصر میں اس قسم کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔موسمی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر موسمی تغیرات کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔موسم سرما سردترین اور موسم گرما گرم ترین ہورہا ہے۔گرمی کی وجہ سے جہاں صرف لوگوں کی صھت ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ موسمی تغیرسے عالمی سطح پر پانی کی قلت اور سیلاب کا خطرہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ایک سائنسی تحقیق کے مطابق آئندہ پچاس برس میں موسمی تغیر سے پودوں اور جانوروں کی نایاب نسلیں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق 10لاکھ سے زائد نباتات کی اقسام اور جانوروں کی نسلیں ختم ہوسکتی ہیں۔
ریاست جموں کشمیر بھی عالمی سطح پر واقع ہوئی موسمیاتی تبدیلی سے بچ کر نہیں رہی۔ چونکہ موسمی اور موحولیاتی اعتبار سے جموں و کشمیر ایک نازک علاقہ ہے اسلئے موسم میں ذرا سی بھی تبدیلی کے یہاں پر واضح اثرات نمودار ہوتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ اب موسم گرما روایت کے برعکس انگارے برساتا ہے اور جھاڑے کا موسم کشمیر کو سائبیر یا میں تبدیل کر دیتا ہے۔اتنا ہی ہیں ،اب تو برف بھی توقع کے عین برعکس گرتی ہے ۔کبھی انتہائی کم اور کبھی بہت زیادہ ۔پانی کے حوالے سے بھی ریاست کی صورتحال کچھ تسلی بخش نہیں رہی۔ جہاں پہلے ریاست پانی کے وسیع ذرائع اور ندی نالوں سے پُر تھی، وہیں اب پانی کا عدم دستیابی کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔بہت سے علاقوں میں کم آبی یا خشک سالی کی وجہ سے کسانوں نے شالی کے بدلے دیگر فصلوں کا رُخ کیا ۔چونکہ ہزاروں سال سے ہرے بھرے کھیت اب سب کچھ ہیں لیکن وہ لہلہاتے شاداب شالی کے کھیت نہ رہے۔
انسانی لالچ نے جموں و کشمیر کے ماحولیاتی نظام کو بھی پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔اب توی کا اعتبار نہیں رہا ،جہلم میں پانی کا حجم بے بھروسہ ہے ،لداخ میں سندھ بھی شرارت پر اُتر آیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ریاست کے تینوں خطوں میں لوگوں نے موسیماتی تبدیلی کو اپنے اعمال سے اور خطرناک بنایا ہے۔اب تو روایتی رہن سہن کے طور طریقوں میں بے وجہ اور بہت زیادہ تبدیلی کی وجہ سے آبی اور فضائی آلودگی میں کافی اضافہ ہوا ہے اور ریاست کا شاید ہی کوئی باشندہ ہوگا ۔ جو کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا نہ ہو۔
جس ریاست کو کبھی ایشاء کا سویزر لینڈ کہا جاتا تھا ۔وہ آج غلاظت اور عفونت کا ڈھیر بن گئی ہے۔عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمارے پاس بہت کچھ تھا لیکن ہم نے اسے بروئے کار نہ لایا، اُلٹا اُن ہی وسائل کو برباد کیا۔ہمارے جنگلات یہاں بارش کا سب سے بڑا ذریعہ تھے، یہا ں کے آب و ہوا کو متوازن رکھنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا لیکن انہیں تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ ہمارے آبی ذخائر ہماری سماجی ، معاشی اور اوقتصادی ترقی کی ضمانت تھے لیکن ہم نے اُنہیں آلودہ کر کے انہیں سیال زہر میں تبدیل کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بیدار ہو کر عملی اقدامات کریں تاکہ اتنی دیر نہ ہو جائے کہ ریاست کے سر سبز و شاداب علاقے بنجر اور ریگستان بن جائیں۔

Advertisements

One Response to موسمیاتی تغیر انسان کتنا ذمہ دار

  1. noemi نے کہا:

    This really answered my own problem, thank you!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: