سکڑتی زرعی زمین اور سمٹتی میوہ صنعت

Appleزمانہ قدیم سے ہی کشمیر اپنی میوہ صنعت کیلئے مشہور ہے۔یہاں کا معتدل آب وہواکئی طرح کے میٹھے اور رس دار پھل اور میوہ جات اگانے کیلئے کافی ساز گارہے۔ ساری دنیا میں کشمیری سیب، اخروٹ اور بادام مشہور ہیں۔ پہلے جہاں کشمیر بھارت کی دیگر ریاستوں کو سیب اور دوسرے میوے برآمد کیا کرتا تھا وہیں اس کا دائرہ وسیع ہوکر بنگلہ دیش تک پھیل گیا اور سیب اتارنے کے موسم میں کئی ایک بنگلہ دیشی تاجروں کو سوپور اور شوپیان کی منڈیوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔نیپال اور پاکستان جیسے پڑوسی ممالک مین بھی یہاں کے سیب بر آمد کئے جاتے ہیں۔ سیب کی اس مانگ کو دیکھتے ہوئے اب ہماری ریاست خاص کر وادی کشمیر میں زمینداروں نے دھان کیلئے مخصوص کھیتوں کو بھی سیبوں کے باغات میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے اور اب تک ایک اچھا خاصا حصہ اس دیکھا دیکھی کی نذر ہوچکا ہے۔
حالانکہ میوہ صنعت کسی بھی ملک یا علاقے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے لیکن جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے، یہ کسی بحران سے کم نہیں۔ یہاں کے لوگوں کی خاص خوراک چاول ہے اور اس کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے زرعی زمین ضروری مقدار میں ہونا لازمی ہے۔ لیکن پچھلی دو دہائیوں سے دیکھنے میں آیا ہے کہ وادی کشمیر کے ہر علاقے میں کسانوں نے دھان کے کھیتوں کی جگہ سیب کے باغات لگائے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ یہاں کے زرعی اور باغبانی شعبے غیر صحت مند طریقے اور فطرت کے اصولوں کے خلاف پروان چڑھ رہے ہیں۔جموں و کشمیر میں پہلے ہی زرعی زمین اس مقدار میں موجود نہیں ہے کہ یہ بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ سہہ سکے۔ اس پر زرعی اراضی پر بے تحاشا اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے معاملے کو اور زیادہ سنجیدہ بنادیا ہے۔محققین کا ماننا ہے کہ اگر اسی طرز سے سب کچھ چلتا رہا تو اگلی صدی کی شروعات تک ریاست جموں وکشمیر میں اناج کی پیداوار میں 30فی صد تک کمی آجانے کا احتمال ہے جس کے نتیجہ میں ریاست اشیائے خوردنی کیلئے در آمدات پر مزید منحصر ہو جائے گی۔محکمہ زراعت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ’ محکمہ لوگوں کو اپنی زمینوں کو زراعت کو چھوڑ کر دوسرے مقاصد کیلئے استعمال کرنے سے روک بھی نہیں سکتا کیونکہ نہ تو زرعی زمین کو تعمیرات کیلئے استعمال سے روکنے کیلئے کوئی مضبوط قانون موجود ہے اور نہ ہی محکمہ کو زمین کے مالکان کو کھیتوں کو میوہ باغات میں تبدیل کرنے سے روکنے کا اختیار ہے‘۔ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کی طرف سے چند ایک قوانین موجود بھی ہیں تاہم چند پیسوں کے عوض ان قوانین کو دن دھاڑے پامال کیاجارہا ہے۔
ہر دن کے ساتھ زرعی اراضی سکڑنے کے ساتھ ساتھ خوراک کے حوالے سے ریاست جموں و کشمیردوسرے علاقوں پر منحصر ہوتی جاتی ہے جو کسی بھی صورت میں ایک صحت مند علامت نہیں ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت خودیہ اعتراف کر چکی ہے کہ جموں وکشمیر میں 357306کنال زرعی اراضی کو غیر زرعی ا راضی میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔محققین کاکہنا ہے کہ زرعی اراضی کو میوہ باغات میں منتقل کرنے کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے اور1972سے اب تک 700مربع کلومیٹر شالی پیدا کرنے والی زمین کو میوہ باغات میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔اس صورتحال کی وجہ سے اب تو حالت یہاں تک پہنچی ہے کہ محکمہ خوراک کی دکانیں یا سیل ڈیپو ان علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں سے کبھی بھاری مقدار میں چاول دوسرے علاقوں کو برآمد کی جاتی تھی۔شاید ہی وادی کشمیر کا کوئی گاؤں ہوگا جہاں اتنی زمینیں دھان کے کاشت کیلئے میسر ہوں جو اس گاؤں کی چاول کی ضروریات پوری کرتی ہوں۔اور پھر زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں ترقی اور جدیدیت کے فقدان کی وجہ سے رہی سہی کسر پوری ہوجاتی ہے۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ وادی کشمیر بھارت میں سیب برآمد کرنی والی سب سے بڑی ریاست تھی۔ اس وقت یہاں کا سیب بھی کافی مشہور تھا کیوں کہ اس کا معیار بھی اعلیٰ تھا اور مندیوں میں اس کی مانگ کے آگے دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے سیب پھیکے پڑ جاتے تھے۔شوپیان میں کاڈر علاقے کے سیب تو دنیا بھر میں اپنی قدرتی رنگت ، رس اورمٹھاس کیلئے مشہور تھے۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تنزلی آئی اور آج حال یہ ہے کہ ہماچل پردیس جیسی چھوٹی ریاست سے اس مقدار اور معیار کے سیب مارکیٹ میں آرہے ہیں کہ اب کشمیر کے سیب کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
سیب اور دوسرے میوہ جات کے معیار میں تنزلی کی کئی وجوہات ہیں۔ وادی کشمیر میں اس صنعت سے وابستہ لوگ اب بھی کئی دہائی پرانی ٹیکنالوجی یا غیر موثرروایتی طریقے اپنا رہے ہیں جس سے میوہ کے معیار میں بہتری کے بدلے ابتری واقع ہوئی ہے۔اس کے علاوہ غیر معیاری اور ادنیٰ درجے کی ادویات کے استعمال سے بھی میوہ صنعت کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔نقلی کھادوں کے بے جا اور غیر ضروری استعمال سے بھی میوہ باغات پر بہت برا اثر پڑا ہے۔اس سے کشمیر جیسے سازگار ماحول میں بھی ایسی بیماریاں پروان چڑھی ہیں جنہوں نے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ باغ مالکان کی نیندیں حرام کی ہیں۔ دنیا میں بہت سے علاقوں میں سیبوں کی کاشت ہوتی ہے لیکن وہاں پر باغبانی کے جدید ترین طریقوں پر عمل کرنے کے علاوہ کارآمد ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں بارش کم پڑتی ہے وہاں پر بھی اس طرح کے انتظامات کئے گئے ہیں کہ مصنوعی بارشوں سے میوے اگائے جاتے ہیں۔
وادی کشمیرمیں میوہ اگانا جتنا آسان ہے اتنا ہی یہاں باغ مالکان کی جدید ٹیکنالوجی اور کارآمد طور طریقوں سے لا علمی کی وجہ سے یہ صنعت کافی پر خطر بن چکی ہے۔سیبوں کو ساتھ ساتھ جس فصل پر یہاں سب سے زیادہ برا اثر پڑا ہے، وہ زعفران ہے۔ ایک وقت وہ بھی تھاکہ کشمیری زعفران پورے دنیا میں مشہور تھا۔کئی صدیاں پہلے یورپی سیاحوں اور تاریخ نویسوں نے کشمیری زعفران کی مدح سرائی کی ہے۔لیکن اپنی لاعلمی اور غیر فائدہ بخش طریقہ کاشت کی وجہ سے یہ فصل بھی اب پوری طرح سے تنزلی کا شکار ہے۔ زعفران کے کھیتوں میں پانی کی دستیابی کا ناقص انتظام اور ان کھیتوں کے بیچ سڑکوں کا جال پھیلانے سے بھی حالات بگڑ گئے۔ اس کے برعکس اسپین اور ایران میں زعفران پر تحقیق ہوئی اور نئی نئی تکنیکوں اور طور طریقوں سے زعفران کی کاشت کرنے سے یہ دونوں ممالک اب سر فہرست ہیں۔
اس کے علاوہ مارکیٹنگ کے غیر تسلی بخش انتظامات کی وجہ سے بھی میوہ صنعت کو کافی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔سچ تو یہی ہے کہ باہر کی منڈیوں میں پہنچ کر ہی کشمیری سیب کی مارکیٹنگ شروع ہوتی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیری سیب کے بیوپاری اس کے اگانے والوں سے کافی مطمعین ہیں۔اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صنعت کی خامیوں کو دور کیا جائے اور اسے ایک فائدہ بخش پیشے کا درجہ دیا جائے۔ جدید طور طریقوں اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاکر ملکی اور غیر ملکی منڈیوں میں کشمیری پھلوں اور میوؤں کو مسابقتی درجہ عطا کیا جائے تاکہ ریاستی معیشت کیلئے یہ واقعی ریڈھ کی ہڈی بن جائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: