متنوع میوہ صنعت

Appleوادی کشمیر زمانہ قدیم سے ہی مختلف پھلوں اور میووں کیلئے مشہور رہی ہے۔ اس سلسلے میں یہاں الگ الگ ادوار میں مانگ کے حساب سے ان کی کاشت ہوا کرتی تھی۔ پچھلی چند دہائیوں سے سیب کی مانگ اتنی بڑھ گئی کہ کسانوں نے زرعی زمین پر بھی سیب کے باغات بنوائے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اور میووں اور پھلوں کی طرف سے منہ موڑ لیا اور میوہ باغ کا تصور بس سیب کے باغات تک محدود کیا۔حالانکہ وادی کا موسم معتدل ہونے کی وجہ سے یہاں کافی زیادہ رس دار اور قیمتی پھلوں اور میووں کے اقسام اگانے کی کافی گنجائش ہے جس سے ریاستی معیشت کے ساتھ ساتھ لوگوں کا معیار زندگی بہتر کرنے میں بہت زیادہ مدد مل سکتی ہے۔یہاں اگرچہ زمینی وسائل محدود ہیں لیکن اس کے باوجود مٹی کے اتنے اقسام پائے جاتے ہیں کہ مختلف علاقوں میں درجنوں پھل اور میوے وافر مقدار میں اگائے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یہاں کا کسان صرف ایک ہی ڈگر پر چلنے کی دھن میں مگن ہے۔
زمانہ قدیم سے ہی یہاں زعفران اور بادام کے ساتھ ساتھ اخروٹ بھی کافی مقدار میں پائے جاتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ ان پھلوں کی رونق سے وادی کشمیر محروم ہوتی جاتی ہے جس سے دیہی آبادی کا ایک وسیع حصہ آمدنی کے ایک بہت بڑے ذریعے سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ زعفران فصلوں کی دنیا میں وہی اہمیت رکھتا ہے جو دھاتوں میں سونے کی ہے۔ و ادی کشمیر کے جنوبی حصے کے پٹھار اس فصل کیلئے دنیا بھر میں مشہورہیں۔مگر بدقسمتی سے جہاں اسپین اور ایران نے زعفران کی کاشت میں جدید ٹیکنالوجی اور طور طریقوں کو اپنا کر اس میں ایک مقام پیدا کیا وہیں کشمیر نے الٹی گنگا بہاکر اپنی منفرد پہچان کو نہ صرف گنوادیا بلکہ اب تو زعفران کے کھیت دلکشی کے بجائے آنکھوں میں ایک کانٹے کی طرح چبھتے ہیں۔ اسے بے حسی نہ کہیں تو اور کیا۔
جہاں جہاں پر بادام کے لاتعداد پیڑ ملتے تھے وہاں پر اب لوگوں نے سیب کے باغات لگائے ہیں۔ پتا نہیں بادام کے شگوفوں کو کس کی نظر لگ گئی کہ اب یہ شاز و نادر ہی اس تعداد میں اکٹھا دکھائی دیتے ہیں جو دیکھنے والوں کے دلوں کو عجیب طرح کی گرم گرم لذت سے محظوظ کرتے تھے۔ حالانکہ اس فصل سے کسانوں کی ایک بڑی تعداد کو فائدہ پہنچتا تھا مگر پھر بھی بادام کے پیڑ کاٹ کر ان کی جگہ سیب کے درخت لگائے گئے۔ بادام کی کاشت سیب کے مقابلے میں کافی آسان ہے اور اس پر اوپری اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں جس سے کسان کو کسی اور کام کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہاں پرانے اور فرسودہ طریقے سے کاشت کی وجہ سے اس فصل پر برا اثر پڑا ہے جس سے بے صبر کسانوں کا دل اس سے اچاٹ سا گیا۔
قدرت نے اگر کسی مقام کو کئی طرح کے فصل اور پھل اگانے کا اہل بنایا تو اس میں یکسانیت کی بے رنگی گھولنے کا حق کسانوں کو نہیں ہے۔ متنوع فصلوں کا ایک مقصد ہے اور وہ یہ کہ اس سے ریاست کی معیشت کسی ایک فصل کے تابع نہیں رہتی اور نہ ہی اس پر کسی انہونی اور غیر متوقع نقصان کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔سیب کی اہمیت سے کسی دیوانے کو ہی انکار ہوسکتا ہے لیکن جب میوہ باغات کی کل زمین کا 95فیصدی حصہ اس کے زیر کاشت ہو تو یہ ایک تشویش کی بات ہے۔اس سے ہم بہت سی اہم اور نقدی فصلوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ زیادہ وقت نہیں گذرا جب وادی کشمیر سے ناشپاتی کی کئی اقسام نہ صرف گھریلو مانگ کو پورا کرتی تھیں، وہیں دوسری ریاستوں کو برآمد ہوکر کسانوں اور ریاست کیلئے بہت سا پیسہ لاتی تھیں۔ اب تو حالت یہ ہے کہ گھریلو ضروریات بھی پوری نہیں ہوپارہی ہیں اور ناشپاتی کے بجائے کیلئے اوردوسرے درآمد شدہ میوے اور پھل سستے پڑتے ہیں۔ آلو بخار، خوبانی، گلاس،آڑو وغیرہ کا بھی یہی حال ہے۔ ان کی سپلائی اتنی کم ہوگئی ہے کہ اب یہ پھل عام کشمیری کی قوت خرید سے باہر ہوچکے ہیں۔
سیب تو ریاستی معیشت کا ایک اہم ستون ہے لیکن اس کی کاشت اگر 50فیصدی باغات اراضی پر ہو اور باقی ماندہ زمین پر دیگر پھل اور میووں کی کاشت ہو تو نہ صرف کشمیر کی متنوع میوہ صنعت کو گھریلو مارکیٹ مل جائے گی بلکہ سیب کی قیمتیں بھی کافی بڑھیں گی۔کشمیر میں کئی بیماریاں آجکل اس وجہ سے بھی سر اٹھا چکی ہیں کیونکہ ان کے تدارک کیلئے قدرت نے جن پھلوں اور میووں سے وادی کو نوازا تھا وہ اب تقریباً عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں۔کینسر پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اور مختلف قسم کے میوے کھانے سے اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔اسی طرح اور بہت سے امراض ہیں جن کا علاج مقامی طور پر پیدا ہونے والے پھلوں اور میووں میں تھا۔اس حوالے سے بھی ایک ہی میوے پر تکیہ لگائے بیٹھنا بھی مناسب نہیں۔
حد تو یہ ہے کہ سیب کی تقریباً پچاس سے زائد اقسام میں سے صرف ڈیلشن کی ہی کاشت وسیع پیمانے پر ہوتی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر اس میں کوئی بیماری لگ گئی تو میوہ صنعت کس قدر ضرر پذیر ہے۔اسلئے میوہ صنعت کی بقاء، کسانوں کی ضمانتی خوش حالی اور ریاستی معیشت کی کلہم بہتری کیلئے ضروری ہے کہ کشمیر میں میوہ صنعت کا دائرہ سیب سے ذرا اور وسیع تر کیا جائے اور اس کے دامن میں ان پھلوں اور میووں کو بھی جگہ دی جائے جو اب ناپید ہوچکے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: