آرپار تجارت۔۔۔نصف دہائی بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں

فروری 27, 2014

LOC Tradeحد متارکہ کے آر پار تجارت کو شروع کئے اب پانچ سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور نصف دہائی کے اس طویل عرصے میں اس کاؤبہاؤ حسب منشاء نہ رہا۔ حالانکہ اس کی ابتداء بڑے جذباتی اندازمیں اس وقت ہوئی تھی جب وادی کشمیر میں اس کی مانگ امرناتھ اراضی منتقلی کے خلاف تحریک کے بعد ایک متبادل کے طور پر ہوئی تھی۔ شروع میں اس تجارت میں اکیس اشیاء کو تجارت میں شامل رکھا گیا تھا جس میں کشمیری سیب بھی شامل تھا اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس فہرست میں اور اشیاء کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن سرکار کی طرف سے عدم دلچسپی اور قدیم طرز کے تجارتی لین دین کی وجہ سے اشیاء کی تعداد وہی کی وہی رہی۔۲۱ اکتوبر ۲۰۰۸ کو اس کی شروعات کے موقعے پر سرکار نے کافی بڑے دعوے کئے تھے لیکن ان کو نبھانے کیلئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ پھسلن سے بھرپور اس تجارتی سرگرمی کی ضرر پذیری کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال ۱۷ جنوری کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے سراڑ مظفرآباد کے ایک ڈرائیور کو مبینہ طور منشیات ساتھ لانے کے بعد سلام آباد میں گرفتار کیا گیا تو یہ تجارت بند ہوگئی۔ پار کے تاجروں نے اس کی رہائی تک کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ کیا ۔اگر ایسا ہی واقعہ لکھن پور ٹول پوسٹ پر رونما ہوا ہوتا تو تجارتی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔  Read the rest of this entry »

Advertisements

دربار مو

فروری 14, 2014

Srinagar Secretariatریاست جموں و کشمیر میں کچھ ایسی روایات دیکھنے کو ملتی ہیں جن کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی ہیں جن میں سالانہ دربار مو بھی شامل ہے۔تقریباً ڈیڑھ صدی قبل کی یہ روایت سیاسی تغیر وتبدلی کے باوجود جوں کی توں ہے۔ڈوگرہ حکمرانوں نے جس طرزِ شاہی روایت کو ایجاد کیا وہ جدید دور میں بھی ایک غریب ریاست کیلئے ایک شاہ خرچی کے علاوہ بہت سی پریشانیوں کا باعث بھی ہے۔ڈوگرہ حکمرانوں نے متعلق العنانیت طرز حکمرانی کے دوران اپنے لئے لذت وانبساط کے جن تماشوں کی اختراع کی تھی ان میں چھ ماہی دربار مو بھی شامل ہے۔حالانکہ ڈوگرہ شاہی دور حکمرانی میں انتظامی امور کافی کم تھے اور دربار مو کے دوران فقط درجن بھر گاڑیوں میں سامان لاد کر سردیوں میں جموں اور گرمیوں میں سرینگر میں دربار سجایا جاتا تھا۔ چونکہ ڈوگرہ دور میں موجودہ طرز کی بیوروکریسی اور دوسرے محکمہ جات کا طرزِ کام بھی آج سے بالکل مختلف تھا۔لیکن اس دور میں تو اب ایسی خرافات کا موجود ہونا ہی باعث شرم اور پریشانی ہے۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: