دربار مو

Srinagar Secretariatریاست جموں و کشمیر میں کچھ ایسی روایات دیکھنے کو ملتی ہیں جن کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی ہیں جن میں سالانہ دربار مو بھی شامل ہے۔تقریباً ڈیڑھ صدی قبل کی یہ روایت سیاسی تغیر وتبدلی کے باوجود جوں کی توں ہے۔ڈوگرہ حکمرانوں نے جس طرزِ شاہی روایت کو ایجاد کیا وہ جدید دور میں بھی ایک غریب ریاست کیلئے ایک شاہ خرچی کے علاوہ بہت سی پریشانیوں کا باعث بھی ہے۔ڈوگرہ حکمرانوں نے متعلق العنانیت طرز حکمرانی کے دوران اپنے لئے لذت وانبساط کے جن تماشوں کی اختراع کی تھی ان میں چھ ماہی دربار مو بھی شامل ہے۔حالانکہ ڈوگرہ شاہی دور حکمرانی میں انتظامی امور کافی کم تھے اور دربار مو کے دوران فقط درجن بھر گاڑیوں میں سامان لاد کر سردیوں میں جموں اور گرمیوں میں سرینگر میں دربار سجایا جاتا تھا۔ چونکہ ڈوگرہ دور میں موجودہ طرز کی بیوروکریسی اور دوسرے محکمہ جات کا طرزِ کام بھی آج سے بالکل مختلف تھا۔لیکن اس دور میں تو اب ایسی خرافات کا موجود ہونا ہی باعث شرم اور پریشانی ہے۔
ریاست جموں و کشمیر پہلے ہی کافی مالی مشکلات کا سامنا کررہی ہے اور یہ فضول اور خرافات کے اخراجات اُٹھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔موجودہ زمانے میں دنیا میں شاید ہی کوئی اب علاقہ یا ریاست ہوگی جہاں دربار مو جیسی ناپسندیدہ روایت موجود ہو حالانکہ جنوبی افریقہ،آسٹریلیا اور کنیڈا جیسے ممالک میں بھی انتظامی امور ایک سے زیادہ مراکز سے چلائے جارہے ہیں۔لیکن یہاں پر بھی صورتحال جموں و کشمیر کے برعکس ہے۔جنوبی ایشیا میں جہاں Pretoriaانتظامی امور کا محور ہے وہیں Johanesbergعدالتی نظام کار کا مرکز ہے۔اسی طرح آسٹریلیا میں مستقل طور پر الگ الگ انتظامی امور سر انجام دئے جارہے ہیں۔
جموں و کشمیر ایک چھوٹی سی ریاست ہے اور یہاں پر دو مراکز سے حکومت چلانا ایک بے محل اور قابل شرم بات ہے۔روس جیسے دنیا کے سب سے بڑے ملک کا نظامِ حکومت ماسکو سے چلایا جارہا ہے۔یہ بات اپنی جگہ ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا ملک یعنی روس دو براعظموں پر پھیلا ہوا ہے ۔جب روس جیسا ترقی یافتہ اور وسیع ملک ایک ہی مرکز سے نظامِ حکومت چلاسکتا ہے تو جموں و کشمیر اس کے برعکس ایک انتہائی چھوٹا علاقہ ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے موجودہ دور میں دنیا کو ایک چھوٹی سی جگہ بنا رکھا ہے جہاں ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک سیکنڈوں میں رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے ۔ہماری ریاست بھی اسی دنیا کا ایک حصہ ہے اور یہاں پر بھی e-governanceکا چلن شروع ہوچکا ہے۔سیکریٹریٹ کا تقریباً سارا کام کمپیوٹروں کے ذریعے ہوتا ہے اور روابط کا بھی ایک قابل بھروسہ نظام موجود ہے۔لہذا کوئی وجہ نہیں کہ اس فرسودہ روایت کو زیادہ بقائے دوام بخشا جائے۔ہمارے یہاں ایک جمہوری نظام موجود ہے اور جمہوری طور طریقے اپنا کر اس فضول روایت سے چھٹکارا پانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔مگر اس کیلئے سیاسی تدبر اور مستقبل سے متعلق ایک بہتر لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ریاست میں جس طرح سے اس نامعقول روایت نے جڑپکڑلئے ہیں۔ اس سے یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔اس میں کسی بھی قسم کے ردوبدل کے نتائج نکلنا کوئی انہونی بات نہیں مگر جب کسی خرافات کو جڑ سے اکھڑپھینکنا ہوتا ہے تو پھر وقتی اختلافات کے نتائج پر دھیان نہیں دیا جاتا ہے۔ریاست کی کلہم بہتری کیلئے جو بھی قدم ضروری ہے اس کیلئے اگر چند لوگوں کو ناراض بھی کرنا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
آج ہماری ریاست مرکز کے فنڈس پر اپنے انتظامی امورات چلانے کیلئے منحصر ہے۔ریاست سے سالانہ آٹھ ہزار کروڑ کی برآمدات ہوتی ہے جبکہ درآمدات تقریباً چالیس ہزار کروڑ ہے۔پہلے ہی مالی اعتبار سے ہماری حالت ملک کی دوسری ریاستوں کی نسبت پتلی ہے۔اس پر خرافات اور فرسودہ اخراجات کی عمل آوری سے انتظامی امور پر بھی برا اثر پرسکتا ہے ۔کئی ہزار ملازمین کی ہر چھ مہینے بعد دوسری جگہ منتقلی کے علاوہ پوری ریاست کا ریکارڈ خطرناک اور ضرر پذیر طریقے سے دشوار گذار پہاڑی راستوں کے ذریعے سرمائی یا گرمائی دارالخلافہ تک پہنچانا ایک گھسی پٹی اور قابل افسوس روایت ہے جسے ترک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جموں وکشمیر میں دربار مو کی روایت اسلئے بھی ناپسندیدہ ہے کہ جب جموں صوبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو انتظامیہ کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کے نمائندے تمام کارِ حکومت کے ساتھ سرینگر میں خیمہ زن ہوتے ہیں اسی طرح وادی کشمیر اور لداخ کیلئے کٹھن اور دشوار گذار موسم سرماہوتا ہے۔مگر اس آزمائشی وقت میں نطام حکومت یعنی دربار جموں کے گرم علاقے میں ہوتا ہے ۔یعنی حکومت اور عوام کے درمان رابطہ مخالف سمتوں میں ہوتا ہے ۔اگر یہ مانا بھی جائے کہ دربار مو جاری رہے تو پھر اس پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔سرما میں بجلی اور پانی کے علاوہ غذائی اجناس اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی کمی کشمیر میں ہوتی ہے لیکن عوامی نمائندے جموں مین قیام پذیر ہوتے ہیں اسی طرح گرما میں جموں کے مسائل کافی زیادہ بڑھ جاتے ہیں مگر نظام حکومت سرینگر میں ہوتا ہے،جس سے جموں کے عوام کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگر دربار مو کی روایت کو موجودہ طرزِ کار کے برعکس کیا جائے تو اسکی جوازیت کا کوئی امکان یا باقی رہ سکتا ہے ،ورنہ ہرگز نہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: