آرپار تجارت۔۔۔نصف دہائی بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں

LOC Tradeحد متارکہ کے آر پار تجارت کو شروع کئے اب پانچ سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے اور نصف دہائی کے اس طویل عرصے میں اس کاؤبہاؤ حسب منشاء نہ رہا۔ حالانکہ اس کی ابتداء بڑے جذباتی اندازمیں اس وقت ہوئی تھی جب وادی کشمیر میں اس کی مانگ امرناتھ اراضی منتقلی کے خلاف تحریک کے بعد ایک متبادل کے طور پر ہوئی تھی۔ شروع میں اس تجارت میں اکیس اشیاء کو تجارت میں شامل رکھا گیا تھا جس میں کشمیری سیب بھی شامل تھا اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس فہرست میں اور اشیاء کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن سرکار کی طرف سے عدم دلچسپی اور قدیم طرز کے تجارتی لین دین کی وجہ سے اشیاء کی تعداد وہی کی وہی رہی۔۲۱ اکتوبر ۲۰۰۸ کو اس کی شروعات کے موقعے پر سرکار نے کافی بڑے دعوے کئے تھے لیکن ان کو نبھانے کیلئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ پھسلن سے بھرپور اس تجارتی سرگرمی کی ضرر پذیری کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال ۱۷ جنوری کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے سراڑ مظفرآباد کے ایک ڈرائیور کو مبینہ طور منشیات ساتھ لانے کے بعد سلام آباد میں گرفتار کیا گیا تو یہ تجارت بند ہوگئی۔ پار کے تاجروں نے اس کی رہائی تک کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ کیا ۔اگر ایسا ہی واقعہ لکھن پور ٹول پوسٹ پر رونما ہوا ہوتا تو تجارتی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 
کٹرول لائن کے آرپار سلام آباد۔ چکوٹی تجارتی مراکز کے بیچ تجارت کا حجم اب تک دو ہزار کروڑ ہے جس سے اس کی سبک روانی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لکھن پور ٹول پوسٹ پر اس مقدار کی تجارت صرف پندرہ دنوں میں ہوتی ہے۔ زمانہ قدیم سے کشمیر اور باہر کی دنیا کا واحد سڑک رابطہ مظفرآباد سے ہوکرجاتا تھا اور تقریباً ساری تجارت اسی راستے سے ہوتی تھی۔ لیکن تقسیم ہند کے بعد اس پر مکمل پانبدی لگادی گئی تھی۔ اگرچہ اس روڈ کے کھلنے سے روایتی شاہراہ دوبارہ تجارتی سرگرمیوں کیلئے آرپار کے لوگوں کیلئے ایک متبادل کے طور پر سامنے آئی تھی لیکن اس پر اتنی قدغن ہے کہ یہ اب تک ابتدا کے دور سے باہر نہیں نکلی ہے۔ اوڑی قصبہ سے آگے جانے کیلئے پولیس اور فوج کی اجازت لینا پڑتی ہے اور پھر ہفتے میں ایک دن تجارت ہوتی ہے جس سے اس متبادل تجارتی رابطے کی متعین حدود اور محدود حجم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ لکھن پور کے عین برعکس اس تجارتی روڈ پر اشیاء کے لین دین پر بھی قدغن لگائی گئی ہے۔ فقط اکیس اشیاء میں تجارت ممکن ہے ۔ ان کی مقدار پر بھی ایک حد قائم کی گئی ہے جس سے تجارت پر الٹا اثر پررہا ہے۔ مثلاً کشمیر کے سیب کی پاکستان میں کافی مانگ ہے لیکن یہاں سے مانگ کے مطابق سیب نہیں جاتے ہیں۔ اسی طرح پار سے آنے والی سبزیوں کا یہاں خوب بازار ہے لیکن قلیل مقدار کی وجہ سے یہ اپنا مارکیٹ بنانے میں ناکام رہی ہیں۔اکثر اوقات پاکستان کے بجائے چین سے درآمد کئے گئے پیاز اور لہسن اس تجارت کا حصہ بنتے ہیں جس سے اس کی ہیت اور مقصد دونوں پر برا اثر پڑتا ہے۔
کیونکہ یہ تجارت جدید کاروباری اصولوں کے برخلاف پرانے طرز کے اشیاء کے تبادلے پر چل رہا ہے جس سے تاجر لوگ کافی خائف رہتے ہیں۔ اس تجارت کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس میں پیسے کا لین دین نہیں ہوتا اور اشیاء کے بدلے اشیاء کا استعمال ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہاں سے جانے والے مال کیلئے چکوٹی میں کوئی ضامن ہونا چاہئے جو اس کے بدلے وہاں سے مال بھیجے۔ ورنہ بقول شوکت احمد راتھر، کسٹوڈین سلام آباد تجارتی مرکز،بھیجا ہوا مال چکوٹی کے گود ام میں سڑ جائے گا اور تاجر ہاتھ ملتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تجارت آرپار رشتے داروں میں ہی پنپ رہی ہے۔اس تجارت سے وابستہ نوے فیصد ی افراد آپس میں قرابت دار ہیں اور جو قرابت سے محروم ہیں انھوں نے خود جاکر آرپار تجارتی روابط قائم کئے ہیں اور آپس میں کاروبار کررہے ہیں۔ چونکہ اس تجارت کو فروغ دینے کیلئے کنٹرول لائن کے آرپار کوئی بنک سہولت بھی موجود نہیں ہے اسلئے اکثر تاجر اس کاروبار سے جی چراتے ہیں۔ سلام آباد چکوٹی تاجر یونین کی اس پار شاخ سے تقریباً ایک سو تاجر وابستہ ہیں جن میں سے صرف تیس کے قریب تجارتی سرگرمیوں میں باقاعدہ حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند اور سال میں ایک یا دو بار اس تجارت میں شامل ہوتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر بڑے بڑے کاروباری اداروں کی عدم شمولیت سے یہ کاروبار ایک معمولی تجارتی سرگرمی سے آگے نہیں جا پہنچا ہے۔
ایک اور مصیبت یہ ہے کہ آرپار بھیجے جانے والے مال کی سخت ترین جانچ ہوتی ہے اور وہ بھی کسی مشین کے بغیر۔ سلام آباد میں تقریباً ایک سو گاڑیوں کی چیکنگ کیلئے فقط آٹھ افرادموجود ہیں۔ تمام مال کی جانچ ہوتی ہے اور اس کیلئے ڈبہ بند اشیاء مثلاً سیب کی پیٹیوں تک کو کھولا جاتا ہے جس سے نہ صرف وقت کا زیاں ہوتا ہے بلکہ مال کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اس تکلیف دہ مسئلے سے نمٹنے کیلئے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ حالانکہ ایک یا دو ایکسرے مشینوں یا کسی اور جدید جانچ مشین کے استعمال سے اس کا تدارک کیا جاسکتا تھا مگر یہاں بھی سرکار کی عدم دلچسپی مکمل طور پر عیاں ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سلام آباد۔چکوٹی تجارتی یونین کے صدر طارق خان کا کہنا ہے کہ ’’ہم اس تجارت میں اس وجہ سے حصہ لے رہے ہیں کیونکہ یہ آرپار بسے کشمیریوں کے مابین ہورہا ہے۔ صدیوں سے اسی راستے سے تجارت ہوا کرتی تھی لیکن پھر ساٹھ سال تک اس راستے پرندے کو بھی پر مارنے کی اجازت نہ تھی۔ اس سے ہم جذباتی طور جڑے ہوئے ہیں اور انشاء اللہ ایک دن یہ لکھن پور ٹول پوسٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا‘‘۔
لیکن اس تجارت سے جڑے بہت سے تاجر فکرمند ہیں کہ اگر حالت یہی رہی تواس کا مستقبل مخدوش ہے۔ ’’ہمارے یہاں بڑے بڑے تاجر ہیں جو ایک دن میں سو سو کروڑ کا مال بھیج سکتے ہیں۔ اسی طرح کنٹرول لائن کے اُس پار بھی کئی ایسے تاجر ہیں جو اس تجارت کو اونچائیوں تک پہنچانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر ان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے حد متارکہ کے آرپار یہ تجارت ہم جیسے معمولی تاجروں کے سر آگیا ہے جو ایک یا دو گاڑیاں مال بھیج سکنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ہماری رسائی بھی اتنی ہی محدود ہوتی ہے اسلئے سرکار بھی ہماری مانگ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے یہ تجارت آگے نہیں بڑھ رہی ہے‘‘،اسلام آباد کے ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر  بتایا۔
چونکہ اس تجارت میں شامل اشیاء پر کوئی ٹیکس نہیں ہے اسلئے بہت سے غیر کشمیری تاجر بھی اس میں بلا واسطہ شریک ہوئے ہیں اور کافی منافع کمارہے ہیں۔ کئی مقامی تاجر مبینہ طور ان کیلئے ایجنٹ کے طور پر کام کررہے ہیں۔حالانکہ زیادہ سے زیادہ منافع کی تک ودو میں مصروف پاکستان اور بھارت کے غیر کشمیری تاجروں کی عقابی نگاہیں ابتدا سے ہی اس تجارت پر تھیں لہذا انھوں نے مبینہ طور اپنے اپنے ایجنٹ منتخب کئے جو ایک قلیل منافع کے عوض ان کیلئے کام کررہے ہیں۔اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے شوکت احمد راتھر نے بتایا:’’ہم پوری طرح سے اس تجارت سے وابستہ افراد کی جانچ پڑتال کریں گے اورجو بھی غیر ریاستی تاجروں کیلئے کام کرتے ہوئے پائے گئے ان کو باہر نکال دیا جائے گا‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس تجارت کے فروغ کیلئے ہر ضروری اقدام اٹھانے کے سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
کشمیریوں میں اس تجارت کے حوالے سے کافی امیدیں تھیں بھی اور ہیں بھی۔ اس لئے سرکارکو اس جانب خاص توجہ دینی چاہئے۔ ان وعدوں کو وفا کرنا چاہئے جو اس کی افتتاح کے موقعے پر کئے گئے تھے۔ یہ تجارت بھارت اور پاکستان کے مابین اعتماد سازی کے ایک اقدام کے طور پر بھی کافی اہم ہے اسلئے اس کا فروغ بھی اتنا ہی اہم ہے۔

One Response to آرپار تجارت۔۔۔نصف دہائی بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    آپ نے بالکل درست لکھا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ گو جموں اور سیالکوٹ سڑک اور ریل سے ملے ہوئے تھے لیکن 1947ء تک کشمیر کی تجارت مظفرآباد کے راستے ہی ہوا کرتی تھی ۔ اس طرف کے لوگ کہتے ہیں کہ بھارتی حکومت اس تجارت کو بڑھنے نہیں دیتی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: