کشمیری طالب علموں کی معطلی

جگ ہنسائی ہوئی اس کوتاہ بینی پر
ایشیا کپ میں روایتی حریف پاکستان اوربھارت کے درمیان دو مارچ کو کھیلے گئے ایک میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کامیابی پر خوشی ظاہر کرنے کی پاداش میں اترپردیش کے میرٹھ شہر کی سوامی ویویک آنند سبھارتی یونیورسٹی نے 67کشمیری طلبہ کو یونیورسٹی سے معطل کردیا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی حکام کی شکایت پر میرٹھ پولیس نے کشمیری طلبہ کے خلاف باضابطہ طور پر ایف آئی آر درج کی جس میں تمام 67طلبہ پر انڈین پینل کورٹ کی دفعات ( A 124 (ملک سے بغاوت یا غداری کرنے)،(A) 153 (مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو ہوا دینے) اور (427)(شرانگیزی )کے تحت الزامات عائد کئے گئے ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق بعض طلبہ نے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے جبکہ کشمیری طلبہ کا کہنا ہے کہ غیر کشمیری طلبہ نے جشن منانے پر ان کی مار پیٹ کی۔
حقیقت کچھ بھی ہو لیکن پچھلی دو دہائیوں کے دوران جو کچھ سامنے آیا ہے، اس سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ بھارت میں کشمیریوں کے ساتھ بد تر سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ ایک طرف چاپلوس سیاستدان کشمیریوں کی خوشامد کرکے انھیں بھارت کی ”جمہوریت“ کی خوبیاں گنواتے ہیں تو دوسری طرف بیرون ریاست جانے والے کشمیریوں سے غلاموں جیسا برتاﺅ کیا جاتا ہے۔ اب تک بیسیوں افراد کو ناحق قتل کیا گیا اور ہزاروں کشمیریوں کو دلی اور دیگر شہروں سے اٹھا اٹھا کر فرضی کیسوں میں پھنسا کر جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ دس دس سال سے بے گناہ کشمیری بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں ایام اسیری کاٹ رہے ہیںجس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کاغذی سطح پر تو کشمیریوں کے ساتھ کسی طرح کا امتیاز نہیں لیکن عملی طور پر یہاں کے لوگ بھارت میں ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ روز بروز اس عناد اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ شاید ہی کوئی ہفتہ گذرتا ہو جب بھارت کی کسی ریاست میں کوئی کشمیری نا حق کسی فرضی جرم میں پھنسایا نہ جاتا ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت کی مرکزی اور ریاستی حکومتیں کشمیریوں کو اپنے یہاں تعلیم حاصل کرنے، تجارت یا کوئی اور کام کرنے کا روادار نہیں۔
شاید اسی بات کا ادراک کرتے ہوئے میرٹھ میںیونیورسٹی سے نکالے گئے کشمیری طلبہ نے سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر حکومت ہند اجازت دے تو وہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ وہ پاکستان میں خود کو بھارت کے مقابلے میں محفوظ پائیںگے۔فی الوقت پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی کشمیری طلبہ کی ایک کثیر تعداد تعلیم حاصل کررہی ہے لیکن نہ ہی پاکستان اور نہ بنگلہ دیش میں ہی کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس میں کوئی کشمیری غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہو۔ یہ سب بھارت میں ہی کیوں ہورہا ہے، اس کی وجہ کشمیریوں کے تئیں بھارت کا رویہ ہے جو انھیں ہر صورت میں مشتبہ تصور کرتا ہے۔ ورنہ ایک معمولی کرکٹ میچ کے دوران کسی ٹیم کیلئے تالیاں بجانے سے کیا ہوسکتا ہے۔ کیا بھارت کی حسینائیں شاہد آفریدی کیلئے تالیاں نہیں بجاتیں۔ ثانیہ مرز ا جیسی حسین ٹینس کھلاڑی نے پاکستانی کھلاڑی کے ساتھ شادی نہیں کی۔ توفیق عمر کی بیوی حیدر آباد آندھرا پردیش کی نہیں ہے۔۔۔اگر کسی پاکستانی کھلاڑی کیلئے تالی بجانا جرم ہے تو اس کے ساتھ شادی کرنا تو بغاوت ہے! اس کی سزا بھی اتنی ہی سنگین ہونی چاہئے۔۔۔مگر نہیں۔۔۔ ایسا نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ ثانیہ پاکستان کی بہو تو ہے لیکن جیت بھارت کی چاہتی ہے۔وہ سپوت ہے، پردیس میں بھی بھارت کو یاد کرتی ہے!!!
اگر یو پی سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کا اطلاق بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں پر کیا جائے تو ایک ہی مہینے کے اندر ان میں سے 80فیصدی لوگ بھارت واپس لوٹائے جائیں گے۔آسٹریلیا کا مقابلہ بھارت سے ہو تو بھارتی نژاد آسٹریلیائی شہری بھارت کے حق میں تالیاں بجاتے ہیں، بھارت کی جیت پر خوشیاں مناتے ہیں۔ انھیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں لیکن جب یہی حرکت کوئی بھارت میں کرتا ہے تو اس پر ملک سے غداری کا مقدمہ چلایا جاتا ہے۔اس سے بھارت میں مذہبی منافرت میں روز افزوں اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے جو کسی بھی صورت میں اس کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ کشمیری طلباءکیلئے اگر بیرون ریاست دروازے بند کئے جائیں گے تو وہ بھارت سے باہر تعلیم کیلئے جاسکتے ہیں لیکن کوتاہ اندیشی سے پھر اس ملک کا کتنا نقصان ہو سکتا ہے، بھارت کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔
کشمیری طلباءکی معطلی پر سب سے زیادہ حیران کن بیان جموںو کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا ہے۔ نے میرٹھ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت پر جشن منانے والے کشمیری طلباکے معاملے پر جمعرات کی صبح سماجی نیٹ ورک ٹویٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس نے لکھا” میں مانتا ہوں کہ طلبہ نے جو کچھ کیا ، وہ غلط اور گمراہ کن تھا۔ایک مایوس کن حقیقت یہ ہے کہ یہ طلبہ کشمیریوں کے لئے وزیر اعظم کی سکالر شپ اسکیم حاصل کرچکے ہیں، شاید انہیں اپنا محاسبہ نفس کرنا چاہئے“۔ پی ڈی پی کے نعیم اختر نے اس بیان کو بد قسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کشمیری طلاب کیلئے کی گئی کاروائی کا جواز بخش رہے ہیں۔نعیم اختر نے کہا ”جب وزیر اعظم،سونیا گاندھی اور راہل گاندھی جیسی اہم شخصیات کو پاکستانی کھلاڑیوں کیلئے تالیاں بجانے پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا تو پھر معصوم غریب کشمیری کو اس ستم کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے اور یہ فاشسٹ سوچ کی ایک بدترین مثال ہے“۔
واقعی یہ سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ ریاست کا وزیر اعلیٰ چراغ پا ہونے کے برعکس اپنی کرسی کو لیکر فکر مند ہے۔ اسے یہ پریشانی لاحق ہے کہ اگر اس نے معطل شدہ طالب علموں کی براہ راست حمایت کی تو مرکز ناراض ہوجائے گا اور ان پر بھی ”ملک دشمنوں“ کی اعانت کرنے کا مقدمہ چل سکتا ہے۔ حالانکہ مسئلہ دراصل میچ میں پاکستان کی جیت کا نہیں بلکہ بھارت کی ہار کا ہے۔ پاکستان نے جب افغانستان کے ساتھ میچ جیت لیا تو کشمیریوں کی جانب سے ایسا کوئی ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا۔ یہاں پر چونکہ بھارت کی ہار ہوئی اسلئے کشمیریوں نے مخصوص ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایسا کیوں؟ دلی کو خود اس کا احتساب کرنا چاہیے کہ بھارت کی ہار پر کشمیر میں خوشی کا اظہار کیوں کیا جاتا ہے۔
بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کشمیر کے صاحب فکر، صاحب ثروت اور بااثر افراد سے اپیل کی کہ وہ اس خطرناک صورتحال سے نپٹنے اور بھارت میں تعلیم حاصل کرنے کے متبادل پر غوروفکر کریں اور مقامی طور پرائیویٹ سیکٹر میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کرانے کے امکانات کا جائزہ لیں، جن میں معیاری اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی سہولیت میسر ہو، تاکہ ہمیں اپنے بچوں کو بیرون ریاست بھیجنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے لیکن اس پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اور پھر کشمیر کے بھارت کے ساتھ صرف تعلیمی رابطے ہی نہیں ہیں۔ فی الوقت ہر طرح کے کام کیلئے بھارت ہی کشمیریوں کی سرگرمیوں کا محور ہے۔ درآمدات ہوں یا برآمدات، تجارت ہو یا ملازمت، بھارت اور کشمیر کا رشتہ سر دست ناگزیر ہے۔ اس لئے بھارت کو اس بات پر آمادہ کرنا ہوگا کہ اگر کشمیریوں کے بیرون ریاست تجارت یا تعلیم حاصل کرنے سے وہاں کے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے تو پھر متبادل راستوں کو کھولنا ہوگا جس سے نہ بھارت کو بھارت کی ہار پر کشمیریوں کی تالیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور نہ ہی کشمیر ی اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کریں گے۔

One Response to کشمیری طالب علموں کی معطلی

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    بالکل درست لکھا ہے آپ نے ۔ اور یہ بھارت کے مفاد میں ہے کہ ظلم و جبر ختم کیا جائے ورنہ وقت کی مار تو بے آواز ہوتی ہیں ۔ جب فیصلے کا وقت آتا ہے تو جابر قومیں نابود ہو جاتی ہیں
    http//:www.theajmals.com

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: