گمشدہ افراد کے عالمی دن پر کشمیر میں تقاریب کا اہتمام

APDPگمشدہ افراد کے عالمی دن پر سنیچر کوسرینگر میں کئی تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔سنیچر کی صبح پرتاپ پارک سرینگر میں گمشدہ افراد کے لواحقین کی تنظیم(اے پی ڈی پی)کے اپنے دھڑے کی سربراہ پروینہ آہنگر کی سربراہی میں ایک دھرنے کا اہتمام کیا گیاجبکہ بعد دوپہر سرینگرکے ایک مقامی ہوٹل میں اے پی ڈی پی کے دوسرے دھڑے کے اہتمام سے ایک اورتقریب کاانعقادکیا گیا۔پرتاپ پارک سرینگر میں سنیچرکی صبح اس وقت رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے جب لاپتہ افراد کے لواحقین دھرنا دے رہے تھے۔ دھرنے میں ریاستی و غیر ریاستی طلباء و طالبات کی ایک خاصی تعداد بھی شریک تھی جبکہ اسلامک اسٹوڈنٹس لیگ کے شکیل احمد بخشی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چئیرمین محمدیاسین ملک بھی اپنی پارٹی کارکنوں کے ہمراہ شریک ہوئے ۔دھرنے کے دوران ایک گمشدہ نوجوان کی ماں پر غشی طاری ہوئی ۔

پروینہ آہنگرنے اس اس موقعہ پر کہا ’’آج دنیا کے مختلف ممالک میں گمشدہ افراد کا عالمی دن منایا جارہا ہے جن کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ہمارا مطالبہ پیسے اور نوکری نہیں ہے ۔ ہمیں صرف اپنے پیاروں کا پتہ بتادیا جائے کہ وہ کہاں ہیں،وہ ہوا میں تحلیل تو نہیں ہوگئے ‘‘۔پروینہ کے مطابق ریاستی حکومت انہیں ایک لاکھ روپئے سے منہ بند کرنا چاہتی ہے جو پروینہ کے بقول ناممکن ہے ۔پروینہ نے کہا’’ ریاست میں اسمبلی انتخابات اب نزدیک آرہے ہیں ۔ ہمیں بہلانے پھسلانے کی کوشش کی جائے گی لیکن کیا یہ حکومت اور انتخابی سیاست میں حصہ لینے والے لوگ اُن فوجی افسران کو سزا دلواسکتے ہیں جنہوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ۔پروینہ کے مطابق انہیں شک ہے کہ ان کے پیاروں کو فرضی جھڑپوں میں قتل کیا گیا ہے اور عسکریت پسند جتلاکربے نام قبروں میں دفن کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن(ایس ایچ آر سی) نے قبرکشائی کی سفارش بھی کی تھی لیکن حکومت نے متاثرین سے کہا کہ وہ خود ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظام کریں۔دھرنے سے لبریشن فرنٹ چئیرمین محمد یاسین ملک اور معروف شاعر ظریف احمد ظریف نے بھی سے خطاب کیا۔اس دوران دن کے ایک بجے سرینگر کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں انسانی حقوق کارکنوں ،صحافیوں اور زندگی کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔تقریب کا اہتمام اے پی ڈی پی کے دوسرے دھڑے جس کی سربراہی ایڈوکیٹ پرویز امروز کررہے ہیں،نے کیا تھا۔ تقریب کا خاص پروگرام ہدایت کارارشدمشتاق کا سٹیج ڈرامہ رہا ۔ڈرامہ کے دوران تقریب میں شامل سبھی افرادزاروقطار روئے۔ارشدمشتاق نے ڈرامے میں لاپتہ افراد اور ان کے لواحقین کو یاددلانے کی بھرپور کوشش کی ۔تقریب میں مختلف علاحدگی پسند لیڈران اورحقوق کارکنوں نے شرکت کی ۔جن میں ایڈوکیٹ پرویز امروز،حریت (گ)کے ترجمان ایاز اکبر،مسلم لیگ کے عبد الاحد پرہ ،جاوید احمد میر،معروف معالج ڈاکٹر الطاف حسین اور صحافی ظہیرالدین شامل ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ریاست میں گمشدہ افرا دکی بازیابی کیلئے ہندوستان دلچسپی نہیں دکھا رہا ہے ۔مقررین کے مطابق 2007میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں باضابطہ طو رپر ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ جبری گمشدگی ختم ہونی چاہئے اور اس قرارداد پر قریب 50ممالک کے دستخط موجود ہیں۔اس موقعہ پر ایڈوکیٹ پرویز امروز نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ لاپتہ ہوئے ہیں مگر کشمیر میں گمشدہ افراد کی شرح تعداد سر فہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بھی 3ہزار گمشدہ افراد کی تعداد کو تسلیم کیا ہے ۔ یاد رہے کہ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ 22 برس کے دوران 8 ہزار افراد لاپتہ ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر حراست میں لینے کے بعد سے گمشدہ ہیں۔گمشدہ افراد کی تنظیم اے پی ڈی پی کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد آٹھ ہزار کے قریب ہے۔تنظیم کے مطابق ڈیڑھ ہزار خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر لاپتہ ہیں اور اب ’نیم بیوائیں‘ کہلاتی ہیں۔ان خواتین نے بتایا’’ ہم نقد امداد یا نوکری نہیں بلکہ مکمل انصاف چاہتی ہیں‘‘۔ پرویز امروز کے مطابق ایسی سینکڑوں خواتین کشمیر میں اپنے اقربا کی گمشدگی کے بعد نفسیاتی تناؤ میں مبتلا ہوچکی ہیں۔

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: