سکھ برادری سیلاب زدگان کی امداد میں پیش پیش

حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد نقل مکانی کرنے والے سیلاب زدگان کے قیام وطعام کیلئے جہاں محفوظ علاقوں میں بلا لحاظ مذہب مساجد استعمال میں لائی گئیں وہیں سکھ برادری نے بھی گردوارے پیش پیش رکھے۔ان گردواروں میں باغات کا گردوارہ سب سے اہم کردار ادا کررہا ہے۔یہ گردوارہ ایک مکمل امدادی کیمپ کی شکل اختیار کرچکا ہے جہاں متاثرین کیلئے قیام و طعام اور علاج و معالجہ کا بہتر انتظام کیا گیا ہے۔کیمپ میں بلالحاظ مذہب مسلمان ،سکھ اور ہندو برادری کیلئے تقریباًایک ہزار رضاکاردن رات متاثرین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ روزانہ 15سے20کوئنٹل چاول اورڈیڑھ کوئنٹل دال پکائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔گردوارہ پربندھک کمیٹی کے مطابق سیلاب میں جو کام ریاستی انتظامیہ کو کرنا چاہئے تھا ،اُس سے کہیں زیادہ ان کے گردوارے میں ہورہا ہے۔پربندھک کمیٹی نے یہ عزم دہرایا کہ متاثرین کے معمولات زندگی بحال ہونے تک وہ اپنی امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ اس گردوارہ کا انتظام و انصرام گردوارہ پربندھک کمیٹی بڈگام کررہی ہے۔ پربندھک کمیٹی کے صدرگرجیت سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے 7ستمبر پہلے لنگر شروع کیا جہاں آلوچہ باغ اور مہجور نگر کے ایک ہزار متاثرین کیلئے کھانے پینے کا بندوبست کیا گیا تاہم اگلے روز یعنی7ستمبرکو متاثرین کی تعداد4ہزار پہنچ گئی ۔جس کے بعد لنگر پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ رہائش کیلئے سبھی کمروں کومتاثرین کیلئے وقف کیا گیا گیا ۔گرجیت سنگھ نے بتایا’’ہم نے جب جگہ کی کمی محسوس کی تو گردوارہ سے گرنتھ صاحب کو ایک چھوٹے سے کمرے میں منتقل کیا اوروہاں بھی بلا لحاظ مذہب مسلمان،ہندو اور سکھ متاثرین کے قیام کیلئے استعمال میں لایا گیا ‘‘۔گرجیت سنگھ نے مزیدبتایا کہ اس دوران شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی امرتسر نے سارا خرچہ برداشت کرنے کا اعلان کیا۔گرجیت سنگھ کے مطابق امرتسر سے وافر مقدار میں غذائی اجناس اور دیگر ضروریات زندگی پہنچنے کا عمل شروع ہوا۔امدای سامان میں دال چاول سے لیکرآٹا، کمبل،ٹریک سوٹ،صابن،بچوں کیلئے دودھ،دوائیاں، ڈبہ بند روٹیاں اور ڈبہ بند غذائیں سب کچھ شامل تھا۔اس امدادی کیمپ میں صبح کی چائے کا سلسلہ ایک بجے تک جاری رہتا ہے اورپھر ایک بجے سے 4بجے تک دال چاول تقسیم کیا جاتاہے۔ اس دوران اگر کوئی شخص روٹی کھانا چاہے گا تو وہ بھی وافر مقدار میں دستیاب رہتی ہیں ۔4 بجے سے6بجے تک پھر چائے پیش کی جاتی ہے اور 6سے 10بجے رات تک کھانا کھانے کا عمل جاری رہتا ہے‘‘۔ جی پی سی صدر کے مطابق انہوں نے نہ صرف متاثرین کیلئے قیام و طعام کا بندوبست کیا تھا بلکہ ہر ایک شخص کو دو دو کمبل فراہم کی گئیں جبکہ ہر ایک ضرورت مند مرد کو ایک ایک ٹریک سوٹ فراہم کیا گیا ۔جی پی سی نے نہ صرف متاثرین بلکہ مختلف امدادی کیمپوں کو بھی چاول ،سبزیاں،دال اورکھانے کا تیل فراہم کیا۔ جی پی سی صدر نے کہا ’’ہم نے کیمپ کی صفائی کیلئے 20رضاکار متعین کرلئے ہیں جو پورا دن صفائی کے کام میں مصروف رہتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ہمارے ریسکیو ٹیم نے نہ صرف سیلاب زدگان کو امدادی کیمپوں تک پہنچایا بلکہ اپنی جانوں پر کھیل کر جواہرنگر میں دبے ہوئے مکان سے 10لاشیں نکال لائیں۔‘‘۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’ہم نے امور سارفین و عوامی تقسیم کاری کے ڈائریکٹر کے ساتھ کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے فون اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ہمارا ایک اہم سرکاری محکمہ سرینگر میونسپل کارپوریشن ہے جس کی کیمپ میں ایک بار بہت زیادہ ضرورت محسوس کی گئی لیکن میونسپل کمشنر ڈاکٹر جی این قصبہ نے کوئی فون نہیں اٹھایا۔اس پر طرہ یہ کہ ہم نے متعلقہ وزیر نوانگ زنگزن جورا کو فون کیا اور اپنی شکایت درج کی پھر بھی قصبہ صاحب کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔نائب ویز اعلیٰ تارا چند کو بھی فون کیا لیکن قصبہ صاحب نہیں آئے۔جب ریاستی سرکار مسئلہ حل نہیں کرسکی تو ہمیں غلام نبی آزاد سے مدد لینے کی ضرورت پڑی جس کے بعد میونسپلٹی جاگ گئی ۔اسی لئے ہم شائد یہ کہنے میں صحیح ہیں کہ ہم نے ایک سرکاربن کے دکھایا ‘‘۔ گرجیت سنگھ کے مطابق انہوں نے علاجہ و معالجہ کیلئے دو میڈیکل کیمپ لگائے ہیں جس میں 10لاکھ روپئے کی دوائیاں میسر رکھی گئیں اور17ڈاکٹر صاحبان اپنا فریضہ انجام دیتے رہے ۔گرجیت سنگھ کے مطابق اب تک تقریباً2ہزار بیماروں کا علاج کیا گیاہے۔جی پی صدرکا کہنا ہے کہ اس پیمانے پر ہونیوالی تباہی کے دوران امداد اور بچاؤ کا کام کسی ایک تنظیم یا امدادی ادارے کے بس میں نہیں ہے بلکہ مصیبت کی اس گھڑی میں پوری قوم کو اخوت ،مساوات اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہوناہوگا۔جی پی سی صدر نے آزادی پسند حلقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی اور شبیر احمد شاہ ان کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے تشریف لائے تھے جبکہ صدائے مظلومین کے کوارڈنیٹرروف احمد خان اکثروبیشتر کیمپ کی امدادی سرگرمیوں میں شامل رہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: