سیلاب سے550واٹر سپلائی اسکیمیں ناکارہ

محکمہ کو ایک سو کروڑ روپئے کا نقصان

حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد وادی کے اکثر علاقوں میں پانی کی فراہمی کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔ سیلاب ا?نے کے بعد وادی کے اکثر علاقے خصوصاً شہر میں پینے کے پانی کی سپلائی معطل ہوئی۔وادی میں مجموعی طور550واٹر سپلائی سکیمیں ناکارہ ہوگئیں جن میں 533دیہی سکیمیں شامل ہیں اورہزاروں لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ( پی ایچ ای) کے مطابق وادی میں مذکورہ محکمہ کو 100کروڑ روپئے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے اور فی الوقت عارضی بنیادوں پر پانی سپلائی کیاجارہاہے۔یکم ستمبرکو شروع ہونے والی قہرانگیز موسلاد ھابارشوں کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب نے وادی کا نقشہ ہی تبدیل کردیا۔ریاست میں نہ صرف سینکڑوں انسانی جانیں تلف ہونے کا اندیشہ ہے بلکہ اربوں روپئے کی سرکاری وغیرسرکاری املاک کونقصان پہنچنے سے جموں کشمیر کانقشہ ہی تبدیل ہوگیا ہے۔سرکاری عمارتیں، پانی اور بجلی کی ترسیلی لائنیں، پل اور سڑکیں تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ لاتعدادرہائشی مکانات یا تو دب گئے یا رہائش کے قابل نہیں رہے ہیں۔ایک طرف ساری وادی زیر ا?ب ا?گئی تو دوسری طرف پینے کا پانی ہی نایاب ہوگیا کیونکہ سیلاب نے کہیں واٹر سپلائی اسکیمیں ناکارہ کردیں تو کہیں سپلائی لائنیں ہی ڈہ گئی ہیں۔انگریزی محاورہwater water everywhere not a drop to drinkکے مصداق لوگ پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترسنے لگے۔اگرچہ پانی کی قلت پر کسی حد تک قابو پالیا گیا تاہم ابھی بھی ہزاروں لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے چیف انجینئر احمد مظفر لنکرنے بتایا’’فی الوقت عارضی بنیادوں پر وادی میں پانی سپلائی کیا جارہا ہے کیونکہ وادی کی اکثر واٹر سپلائی اسکیموں کو کافی زیادہ نقصان پہنچا ہے‘۔لنکرنے مزید کہا’’ فلٹریشن پلانٹ یا سپلائی لائنوں کو ٹھیک کرنے میں شائد زیادہ وقت نہیں لگے گا کیونکہ ہمارے ملازم جنگی پیمانے پرکام کررہے ہیں‘‘۔ چیف انجینئر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’اس وقت محکمے کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ پی ایچ ای کو میکنیکل نقصان بہت زیادہ ہے جس کو ٹھیک کرنے میں وقت لگ سکتا ہے‘‘۔چیف انجینئرنے مزید کہا ’’533 سے زائد واٹر سپلائی اسکیمیں تقریباً ناکارہ ہی ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ‘‘۔چیف انجینئر کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سیلاب کی وجہ سے پی ایچ ای کو کتنا نقصان ہوچکا ہے تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ نقصان 100کروڑ روپئے تجاوز کرے گا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ طبی ماہرین سے پوچھ کر ہی کلورین استعمال کریں کیونکہ محکمہ کی طرف سے جو پانی سپلائی کیا جارہا ہے اس میں کلورین کی اچھی مقدار شامل رہتی ہے۔انہوں نے عوام سے گذارش کی کہ سپلائی لائنیں اور میکنیکل نقصانات ٹھیک ہونے تک محکمہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ جلد از جلد مشکلات کا ازالہ کیا جاسکے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: