متعدد علاقے ہنوز زیر آب

حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد شہر سرینگر کے کئی علاقے ابھی بھی زیر آب ہیں اوران علاقوں میں ابھی تک پانی کا اخراج نہیں ہوا ہے۔جس کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر بدبو پھیل رہی ہے اور بیماریوں کا خدشہ بڑھ چکا ہے۔ سرینگر میونسپل کارپوریشن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ٹٹو گراؤنڈ کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں سے 500مرے ہوئے جانوروں جن میں گائے ، گھوڑے، بھیڑ اور کتے شامل ہیں کو ٹھکانہ لگایا ہے جبکہ مختلف علاقوں سے سڑے ہوئے کوڑ ا کرکٹ جو مکانوں ، دکانوں اور گوداموں سے برآمد ہوا ،کے 4ہزار ٹرکوں کو بھی ٹھکانے لگایا ۔سیلاب زدگان کا تاہم کہنا ہے کہ جمع شدہ پانی سے نہ صرف ان کا عبور و مرورمشکل ہوگیا ہے بلکہ گھروں کی صفائی بھی ناممکن بن گئی ہے۔ شہر کے جن علاقوں میں ابھی پانی بدستور موجود ہے ان میں جواہر نگر، راج باغ، کرسو، ریڈیو کالونی، اخراج پورہ، وزیر باغ، گوگجی باغ، سرائے بالا، بڈشاہ چوک، لالچوک، ریذیڈنسی روڑ، پولو ویواور بمنہ شامل ہیں۔پانی کا اخراج ممکن بنانے کیلئے کئی جگہ سیلاب زدگان نے بنڈ میں شگاف ڈالے ہیں۔اس دوران محکمہ فلڈ کنٹرول اور ڈرنیج محکمہ نے پانی کے اخراج کیلئے کئی علاقوں میں واٹر پمپ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اورسرکاری پمپ ابھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں تاکہ پانی نکالنے کا انتظام کیا جاتا۔ایم آئی جی کالونی کے محمد امین نے بتایا کہ ان کی کالونی میں تین سے چار فٹ پانی ابھی بھی جمع ہے اور کہیں پر اس کی سطح اس سے بھی زیادہ ہے۔محمد امین کے مطابق بجلی ،پانی اور مواصلاتی نظام ٹھپ ہے اورستم بالائے ستم یہ کہ پانی کے اخراج کیلئے کوئی خاطرخواہ انتظام نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔یہی حال شہر کے دوسرے علاقوں کا بھی ہے جہاں پانی موجود رہنے کے نتیجے میں صورتحال بدستور مخدوش بنی ہوئی ہے۔ جمع شدہ پانی کا اخراج ممکن بنانے کیلئے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق مقامی لوگوں نے کانونٹ سکول راجباغ اور فروٹ منڈی پارم پورہ کے قریب بنڈ میں شگاف ڈالے ہیں۔ بمنہ کے اقبال کالونی ،عمر آباد ،مصطفی آباد ،شالہ ٹینگ ،فرینڈس کالونی ،سرسید آباد سیکٹر اے ،بی اور سی ،توحید آباد ،شمس آباد،عثمان آباد،نند ریشی کالونی،غوثیہ کالونی ،اویس آباد ،شاہ ہمدان کالونی اور قمر آباد کے علاوہ دیگر کالونیوں میں گزشتہ 16دن سے پانی رکا ہوا ہے اور آج تک ان علاقوں میں نہ تو حکومت کی جانب سے لوگوں کو نکالنے کیلئے کشتیوں کا انتظام کیاگیا اور نہ ہی کوئی میڈیکل ٹیم وہاں بھیجی گئی۔اب عالم یہ ہے کہ ان علاقوں میں 16دن سے رکے ہوئے پانی سے بڑے پیمانے پر عفونت پھیل رہی ہے اور جو لوگ سیلاب میں اپنے گھروں میں ہی گھروں میں بیٹھے ہوئے تھے ،وہ فرار ہونے لگے ہیں۔یہی صورتحال جواہر نگر ،اخرا ج پورہ ،راج باغ ،گوگجی باغ ،کرسو اور دیگر علاقوں میں ہے جہاں بڑے پیمانے پر عفونت پھیل رہی ہے کیونکہ وہاں پانی کی موجودہ سطح میں انچوں سے کمی ہورہی ہے۔لالچوک اور بڈشاہ چوک کے علاوہ متصلہ علاقوں میں اگر چہ پانی کی سطح کم ہوتی جارہی ہے لیکن گندگی اور پانی سے تباہ شدہ گوداموں میں جو مال پڑا تھا،اس کی وجہ سے ان علاقوں میں چلنا پھرنا ناممکن بن گیا ہے۔چیف انجینئر فلڈ کنٹرول جاوید جعفر کے مطابق محکمہ کے اپنے پمپ زیرآب ہونے کے باوجود شہرکے زیرآب علاقوں میں پانی کے اخراج کیلئے پمپ لگائے گئے ہیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ پانی کا اخراج انتہائی اہم سنگین نوعیت کا معاملہ ہے۔انہوں نے بتایا’’بمنہ کے اڈھائی مربع کلومیٹر ابھی بھی زیر آب ہیں تاہم عوام نے پارمپورہ فروٹ منڈی کے قریب پانی کے اخراج کیلئے خود ہی بنڈ میں ایک شگاف ڈالا تھا اور ہمارے محکمہ نے اسی شگاف کو مزید گہرا اور چوڑا کردیا تاکہ زیادہ سے زیادہ پانی کا اخراج ممکن ہوسکے۔اب اس شگاف سے 80کیوسک پانی کا اخراج ہورہا ہے‘‘۔چیف انجینئر کے مطابق ایسا ہی ایک شگاف کانونٹ اسکول راجباغ کے نزدیک بنڈ میں ڈالا گیا اور یہاں 150سے200کیوسک پانی کا اخراج ہورہا ہے۔جاوید جعفر نے کہا’’راجباغ علاقے میں ہی تقریباً 10پمپ پانی کی نکاسی کیلئے استعمال میں لگائے گئے ہیں‘‘۔جاوید جعفر نے مزید کہا ’’شیوپورہ میں بھی نکاسی آب کیلئے دو شگاف ڈالے گئے جبکہ مولانا آزاد روڈ کو آمد ورفت کے قابل بنانے کیلئے ڑونٹھ کول کے قریب بنڈ میں شگاف ڈالا گیا ہے۔اِدھر پیرزو کے قریب سیلاب سے جو شگاف ہوا تھا اْس کو مزید گہرا کردیا تاکہ سیلاب زدگان کو جلد از جلد راحت نصیب ہوسکے ‘‘۔ چیف انجینئر کے مطابق پانی کی نکاسی کے فوراً بعدشگاف بند کرنا بھی ایک لازمی عمل ہے تاکہ مستقبل میں کوئی خطرہ لاحق نہ رہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: