سیلاب سے نیم بیواؤں کی مصیبتوں میں اضافہ

Tahiraطاہرہ صنعت نگر کے امدادی کیمپ میں اُن سینکڑوں متاثرین میں ایک ہے جو پچھلے 15دن سے وہاں مقیم ہے۔طاہرہ کے تین بچے ہیں اورگذشتہ12سال سے نیم بیوگی کی زندگی بسر کررہی ہے۔۔سال2002سے اِس خاتون کا شوہر لاپتہ ہے اور تب سے آج تک طاہرہ اُس کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔طاہرہ بونیار بارہمولہ کے ناگاناڑی پیر نیاں گاؤں سے تعلق رکھتی ہے اورگذشتہ12سال سے سرینگر کے اخراج پورہ میں کرایہ کے ایک مکان میں قیام پذیر ہے۔سرینگر کے دیگر سیلاب زدگان کی طرح 8ستمبر اِس خاتون کیلئے تباہ کن ثابت ہوا ۔
یہ خاتون 8ستمبر کی اُس صورتحال کی چشم دید گواہ ہے جب سیلابی پانی اُس کے گھر کا سارا سازوسامان بہاکر لے گیا۔طاہرہ بیگم نے کسمپرسی کی داستان سناتے ہوئے کہا’ستمبر کی سات تاریخ کو معمول کے مطابق میں اپنے بچوں کے ساتھ ڈیرے پر تھی تاہم سیلاب کا خوف ہر طرف چھایا ہوا تھا۔کوئی سونا نہیں چاہتا تھا۔کوئی محلہ چھوڑنے کی صلاح دے رہے تھا تو کوئی تسلی دے رہا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں البتہ ساماں مکان کی دوسری منزلوں میں منتقل کردو۔رات کو میرے لئے بھاگ جانا ممکن نہیں تھا اور مکان بھی یک منزلہ ہی تھا۔اسلئے میں نے بہتر یہی سمجھا کہ سامان چھت کے نیچے پہنچادیا جائے۔ رات دیر گئے تک میں اپنوں بچوں کے ساتھ یہ کام کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اس کے فوراً بعد پڑوسیوں کے مکان میں پناہ لی ۔اس دوران رات ختم ہونے کو آئی اور ہم دیکھ رہے تھے کہ سیلاب اخراج پورہ کی بستی کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔آناً فاناً سیلابی پانی ایک ایک منزل میں جمع ہوتا گیا ۔پانی کا بہاو اتنا تھا کہ ہم جس مکان میں پناہ گزین تھے وہاں سب لوگ مکان کی تیسری منزل میں چلے گئے ۔پانی جب دوسری منزلوں کو عبورکرنے لگا تو میں ایک کھڑکی پر اپنے سامان کی طرف دیکھنے لگی جو پانی میں بہہ رہا تھا ۔میں نے چیخ و پکار کی کہ کوئی میرے سامان کو بچاؤ لیکن کون بچالیتا ،ہر طرف قیامت برپا تھی ۔ عمر بھر کی جمع پونجی کو بہتے ہوئے دیکھ کر میں زاروقطار روئی اور اُسی وقت یہ سوچنے لگی کہ اگر ہم اس سیلاب سے بچ گئے تو میں کیا کروں گی اورکہاں جاؤں گی ‘‘۔طاہرہ نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا’’8ستمبر کو جب ہمیں اخراج پورہ سے نکال کر صنعت نگر پہنچایا گیا تو ہمارے پاس صرف وہ کپڑے بچ گئے تھے جو ہم پہنے ہوئے تھے ۔آج میرے لئے یہ زندگی کا سب سے کٹھن امتحان ہے۔میں ایک بوٹیک پر کام کرتی ہوں اور چھوٹے بیٹے ساحل طارق کو لاپتہ افراد کی تنظیم سے ہر ماہ5سو روپئے وظیفہ ملتے ہیں جس سے ہم اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ایسا محسوس ہورہا کہ میں سال 2002میں واپس پہنچ گئی ہوں جب میرے شوہر کو لاپتہ کیا گیا تھا۔تب بھی میرے پاس کچھ نہیں تھا اور آج بھی میں بے یارومددگار ہوں‘‘۔ طاہرہ کے مطابق اس کاشوہر طارق احمد راتھر2002ء سے لاپتہ ہے۔صنعت نگر کے امدادی کیمپ میں یہ خاتون آج اپنے تین بیٹوں مدثر طارق،رئیس طارق اور ساحل طارق کے ساتھ اس سوچ میں گم ہے کہ اب زندگی کو کہاں سے نئی سمت دوں۔

One Response to سیلاب سے نیم بیواؤں کی مصیبتوں میں اضافہ

  1. Valentina نے کہا:

    Hey There. I discovered your blog using msn. This is a very well written article.
    I will be sure to bookmark it and return to learn more of your helpful information. Thank you for the post.
    I’ll definitely comeback.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: