شمالی کشمیر کے متعدد دیہات ہنوز زیر آب

پینے کا پانی نایاب،انتظامیہ غائب
جموں و کشمیر میں سیلاب کی بپھری لہروں نے آن کی آن میں کئی بستیاں اجاڑدیں۔ریاست کے مختلف حصوں میں بدترین تباہی ہوئی۔گھروں کے گھر اجڑ گئے ،لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی سیلاب کی نذر ہو گئی۔کئی علاقے ابھی بھی زیر آب ہیں اوران علاقوں میں ابھی تک پانی کا اخراج ممکن بنانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔سرینگرشہر میں اگرچہ حکام کا دعویٰ ہے کہ پانی کے اخراج کیلئے کئی جگہ پمپ لگائے جاچکے ہیں اور بنڈ میں شگاف ڈالے گئے ہیں تاہم شمالی قصبہ پٹن کے کئی گاؤں مسلسل زیر آب ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر بدبو پھیل رہی ہے اور بیماریوں کا خدشہ بڑھ چکا ہے۔پٹن کے جن علاقوں میں ابھی پانی بدستور موجود ہے اْن میں سلطان پورہ، وازپورہ ،ٹینگ پورہ، گھاٹ پلہالن، گھاٹ گوپالن، منڈیاری، زاڈی محلہ، جانوی پورہ، ریشی پورہ،متی پورہ، کرپال گڑھ، آرم پورہ، دسلی پورہ، ہری نارہ اورآرچنددرہامہ وغیرہ شامل ہیں۔سیلاب زدگان کا کہنا ہے کہ محکمہ فلڈ کنٹرول نے ایک بارانہیں اس پریشانی سے نجات دلوانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اورسرکارخواب خرگوش میں ہے ۔
پٹن قصبے سے محض پانچ کلو میٹر دور گھاٹ پلہالن کی بستی ایک جھیل کا منظر پیش کررہی ہے۔ہر طرف پانی ہی پانی اور بدبو ہے ۔متاثرین کی ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ پینے کا پانی بالکل نایاب ہے ۔ اگر دن میں ایک دفعہ محکمہ پی ایچ ای کی گاڑی کادیدار نصیب ہوجائے تومیلہ سالگ جاتا ہے اور ایک دوسرے پر سبقت لینے کی غرض سے خواتین کو انتہائی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گھاٹ کے ڈپٹی سرپنچ محمد امین ڈار نے بتایا کہ ہماری بستی ہی نہیں بلکہ متعدد بستیاں ابھی زیر آب ہیں۔دو سے تین فٹ پانی ابھی بھی جمع ہے اور کہیں پر اس کی سطح اس سے بھی زیادہ ہے‘‘۔محمد امین کے مطابق افسوس کا مقام ہے کہ پانی کے اخراج کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہیں ۔ڈپٹی سرپنچ نے کہا ’’سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ انتخابات میں اگر ووٹ حاصل کرنے کیلئے سیاستدان ہمارے سامنے بھیک مانگتے ہیں تو آج کہاں غائب ہوگئے۔ڈپٹی سرپنچ کے مطابق ریاستی انتظامیہ کا حال اس سے بھی ابتر ہے ،کہیں کوئی افسر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔عبدالرشید ڈار نامی ایک شہری نے بتایا’’ہمیں نہ صرف سیلابی پانی نے گھیر رکھا ہے بلکہ پینے کے پانی کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ پریشان کن ہے ۔ہم سیلابی پانی سے کپڑے بھی دھوتے ہیں اورنہاتے بھی ہیں جبکہ ریڈیو پر ہم یہ اعلانات سنتے رہتے ہیں کہ سیلابی پانی برتن صاف کرنے یا نہانے یا کسی اور کام کیلئے استعمال نہ کریں ‘‘۔عبد الرشید نے جذباتی لہجے میں کہا’’خدارا آپ ہماری طرف سے ان ریڈیو والوں کو بتائیں کہ ہمیں مشکل سے پینے کا پانی دو دو دن بعد نصیب ہورہا ہے ،ہم کریں تو کیا کریں‘‘۔ یہی حال پٹن کے دوسرے علاقوں کا بھی ہے جہاں پانی موجود رہنے کے نتیجے میں صورتحال بدستور مخدوش بنی ہوئی ہے۔ گھاٹ گوپالن میں اس قدر بدبو ہے کہ چند لمحوں میں سرچکراجاتا ہے اور انسان وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھ لیتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے ۔دائیں بائیں پانی بہت زیادہ ہے لیکن پینے کیلئے ایک بوندھ بھی نہیں۔محمد اکبر نامی ایک شخص نے بتایا کہ انہیں پانچ کلو میٹر دور جاکر پینے کیلئے پانی لانا پڑتا ہے اور یہ روز کا معمول ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہماری طرف سے سرکار کو بتاؤ کہ ہم بھی اسی کشمیر کے باشندے ہیں اور ہمیں بھی صاف پانی پینے کا حق ہے اور ہماری غریب بستی بھی یہ حق رکھتی ہے کہ یہاں سے پانی کی نکاسی عمل میں لائی جائے‘‘۔

2 Responses to شمالی کشمیر کے متعدد دیہات ہنوز زیر آب

  1. homes ideas نے کہا:

    Hi there, I enjoy reading through your article post. I wanted to write a little comment to support you.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: