شمالی کشمیر کی ایک بستی کھنڈرات میں تبدیل

Gopalnآبِ حیات جب آبِ ممات میں تبدیل ہوا تو سینکڑوں کی تعداد میں بستیاں غرقآب ہوگئیں۔ایسی ہی ایک بستی شمالی کشمیر کے پٹن تحصیل کا گھاٹ گوپالن ہے جہاں کل گھروں کی دیواریں ہنستی بولتی تھیں آج اکثر زمین بوس ہوگئے ہیں۔جو مکان بچ گئے ہیں ان کی دیواروں میں شگاف پڑگئے ہیں اور وہ بھی اب ناقابل رہائش ہیں۔
پٹن سے محض پانچ کلومیٹر کی دوری پر گھاٹ گوپالن کی بستی واقع ہے جو 82کنبوں پر مشتمل ہے ۔چار سو سے زائد افرادا پر مشتمل اس بستی کے اکثر لوگ مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔حالیہ سیلاب نے اس بستی کا نقشہ ہی بدل دیا ہے ۔75مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں اور جو باقی مکان بچ گئے ہیں کہیں انکی دیواروں میں شگاف پڑگئے ہیں اور کہیں بنیادیں ہی دھنس گئی ہیں۔بستی کے پنچ عبدالرشید ڈار نے بتایا ’’سیلابی پانی کی رفتار دیکھ کرہم نے اپنی بستی سے راہ فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھ لی اور دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے ‘‘۔عبد الرشید نے کہا’’ ہم نے پٹن کے امدادی کیمپوں میں پناہ لی اوربستی سے بھاگتے وقت ہمیں یہ موقع ہی نہیں ملا کہ ہم کچھ سامان بچاکر اپنے ساتھ لے جائیں‘‘۔ڈار کے مطابق سیلابی صورتحال اس قدر بھیانک تھی کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ کون کہاں جارہا ہے اور اس دوران ہمارے دو مویشی بھی پانی میں بہہ گئے‘‘۔ڈار نے مزید کہا’’گذشتہ روز ہم اس امید سے اپنے گھروں کو لوٹے کہ شائد سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوگا تاہم ایسا کچھ نہیں تھا۔سب کچھ بدل گیا تھا۔مکان زمین بوس ہوگئے تھے ۔بستی میں ہر طرف آہ وفغاں کا عالم شروع ہوگیا۔ہر آنکھ اشکبار اور ہر چہرہ مغموم ہوگیا‘‘۔محمد یوسف نامی شہری اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تین کمروں پر مشتمل ایک چھوٹے سے مکان میں زندگی بسر کررہا تھا جسے سیلاب نے زمین بوس کردیا ہے۔محمد یوسف کہتے ہیں’’غربت کی مار نے پہلے ہی ہماری کمر توڑ دی تھی اور اب سیلاب نے زندہ رہنے کے قابل نہیں رکھا‘‘۔محمد یوسف نے مزید کہا’’مزدوری کرکے ہم مشکل سے اپنا پیٹ پالتے تھے اور اب سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ گھر بنائیں یا پیٹ کی آگ بجھائیں‘‘۔ یوسف کے مطابق کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تباہی اس قدر ہوگی ورنہ تھوڑا بہت سامان خوردونوش ہی بچالیتے۔سیلاب سے متاثر ایک اور شخص فیاض احمد ڈار نے کہا ’’ہم تو بچ گئے لیکن اب ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ جائیں تو جائیں کہاں؟‘‘۔فیاض نے مزید کہا’’ہم نے سنا تھا کہ سیلاب جب آتا ہے تو جمی جمالی چیزیں بہہ جاتی ہیں ،آج یہ ثابت ہوا ۔ہمارے پاس گاڑیاں یا دیگر سازوسامان تو نہیں تھا البتہ جھونپڑے تھے جو اب نہیں رہے‘‘۔فیاض کا کہنا تھا’’ سیلاب جب آیا توہم اس غلط سوچ کے بہانے ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ ہمارے حکمران ضرور ہماری دادرسی کیلئے آئیں گے لیکن وہ نہیں آئے‘‘۔فیاض کی ان باتوں سے ایک اور شخص غلام محمد نے ہاں سے ہاں ملائی اور کہا’’یہ اللہ کا فضل ہے کہ پٹن کا ایک غیر سرکاری رضاکار گروپ (ڈزاسٹر منیجمنٹ سیل)نے جان جوکھم میں ڈال کر ہماری مدد کی ورنہ صورتحال اس بھی بدتر ہوتی ۔مکان تو گئے وہ نہیں آتے تو کئی جانیں تلف ہوجاتیں‘‘۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: