پٹن کی بیوہ کو سائبان کی تلاش

Palhalenجموں و کشمیر میں سیلاب کی بپھری لہروں نے جہاں بستیوں کی بستیوں کا نقشہ ہی بدل دیا وہیں کئی علاقوں میں بہت سے سیلاب زدگان کھلے آسمان تلے یا خالی خیموں میں نہایت کسمپرسی کی عالم میں دال روٹی کی جنگ لڑرہے ہیں۔کئی بے چاروں کے پاس دال چاول تو دور کی بات، دو برتن تک نہیں ہیں۔بہت سارے متاثرین ابھی بھی سر چھپانے کے لئے سائبان ڈھونڈرہے ہیں۔ایسا ہی ایک کنبہ سندری بیگم کا ہے جوبیوہ ہے۔پلہالن گھاٹ کی سندری بیگم چار کمروں پرمشتمل ایک کچے مکان میں رہائش پذیر تھی جو سیلاب کی نذر ہوگیا۔اس خاتون کا شوہر 2003ء میں فوت ہوچکا ہے۔ شمالی قصبہ پٹن سے محض چار کلومیٹر دورگھاٹ کی اس بستی میں تقریباً20مکان مکمل تباہ ہوگئے ہیں۔ بستی کے اکثر لوگ مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔
سندری بیگم کہتی ہیں ’’ سیلاب سے قبل بھی میری حالت قابل رحم تھی لیکن اب مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔صدقہ اور خیرات سے میں اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی تھی لیکن اب جو پریشانی میرے زخموں کو کرید رہی ہے وہ یہ ہے کہ سر چھپانے کیلئے کچھ نہیں بچا‘‘۔اپنی کسمپرسی کی داستان سناتے ہوئے سندری نے کہا’’میرے8بچے ہیں جن میں5لڑکیاں اور2لڑکے ہیں۔ میرا بڑا بیٹا قالین بُنتا ہے اور بڑی بیٹی گھر گھر جاکر مزدوری کرتی ہے جس سے روزمرہ کی ضرورتیں کسی حد تک پوری ہوتی ہیں۔ایک بیٹے وسیم احمد کی پرورش جموں کشمیر یتیم خانے میں ہورہی ہے ۔باقی بچے سرکاری سکول میں پڑھتے ہیں‘‘۔اپنی ماں کے پاس ہی کھڑی اس خاتون کی بیٹی کلثومہ نے مایوس لہجے میں کہا’’انکل میں چوتھی جماعت میں پڑھتی ہوں اور اگر سرکاری سکول میں کاپی پنسل سے لیکر وردی تک نہیں ملے گا تو میرا اور میری بہنوں کی پڑھائی ناممکن ہے‘‘۔ کلثومہ نے مزید کہا’’دوپہر کا کھانا(تہری)بھی سکول میں ہی ملتا ہے اور ہم اُسی پر اکتفا کرتے ہیں‘‘۔اس معصوم لڑکی کے چہرے پر مایوسی چلک رہی تھی۔اپنے زمین بوس مکان کو دیکھ کر بتانے لگی’’ہمارے پاس ساری دولت یہی تھی۔بہن کی مزدوری اور کچھ لوگوں کی امداد سے پیٹ تو پالتے تھے لیکن اب سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ سرما کی ٹھنڈی راتوں میں کہاں جائیں‘‘۔سندری بیگم کے مطابق اُن کے پاس قالین یا دیگر قیمتی سازوسامان نہیں تھاالبتہ جو بھی تھا سب تباہ ہوگیا۔مذکورہ خاتون نے کہا ’’سیلاب نے اتنا موقع بھی نہیں دیا کہ ہم اپنی متاع حیات بچالیتے ۔ہم رات کو ہی بھاگ گئے اور کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون کہاں جارہا ہے۔سب لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے تھے۔پلہالن کے امدادی کیمپ میں 15دن تک پناہ لینے کے بعد جب ہم اپنے گھر کو لوٹے تو نقشہ ہی بدل چکا تھا ‘‘۔اپنے آنسو ؤں پر قابو پاکر اس خاتون نے انتہائی انکساری کے ساتھ کہا ’’میرے پاس زمین یا زراعت کچھ نہیں ہے جو کچھ ہے وہ یہی چار مرلہ ہیں جس پریہ مکان تھا۔ہمارے لئے نیا مکان (کچا ہی سہی)بنانا بھی ناممکن ہے ۔مزدوری کرکے پیٹ پالیں گے یا چھت کا انتظام کریں گے،یہ ہمارے لئے ایک بہت بڑا سوال ہے‘‘۔سندری کا کہنا تھا ’’پتہ نہیں سرکار کب اِس علاقے میں آئے گی اور مجھے معاوضہ ملے گا بھی نہیں ۔ مجھے بس یہ فکرلاحق ہے کہ سردی کا موسم تقریباً شروع ہوچکا ہے ، میں کیسے سرچھپاؤں‘‘۔یاد رہے کہ اس گاؤں میں 20سے زائد مکان مکمل طور گرگئے ہیں اورچند مکانات میں یا شگاف پڑگئے ہیں یا بنیادیں ہی دھنس گئی ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: