لل دید ہسپتال دن میں کھلا رہتا ہے رات کو بند

لل دید اسپتال نے تباہ کن سیلاب کے بعد او پی ڈی سہولت توبحال کی ہے تاہم آئی پی ڈی کیلئے بیماروں کو ہڈیوں اور جوڑوں کے اسپتال برزلہ منتقل ہونا پڑتا ہے۔وادی کے واحد زچگی اسپتال میں مریض فقط دن کیلئے داخل کئے جاتے ہیں اورشام کو انہیں رخصت کیا جاتا ہے۔اسپتال انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اگلے چند روز میں اسپتال مکمل طور اپنی سبھی سہولیات فراہم کرے گا۔یاد رہے کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں وادی کے تین بڑے اسپتال مکمل زیر آب آئے تھے اور ان اسپتالوں سے مریضوں کوصورہ میڈیکل انسٹیچوٹ منتقل کرنا پڑا تھا۔ان ہی اسپتالوں میں لل دیداسپتال بھی شامل ہے جو وادی کا واحد زنانہ اسپتال ہے۔

اس اسپتال میں اگرچہ کئی روز تک طبی و نیم طبی عملے نے اپنی خدمات بہم رکھیں تاہم جب اسپتال کی ایک منزل زیرآب آگئی تو بیماروں کو میڈیکل انسٹچوٹ صورہ منتقل کیاگیا۔اس دوران اسپتال کو کافی نقصان ہوا جس میں آسی لیٹر ،جنریٹر،لنگر اوردیگر سازوسامان شامل ہے جبکہ بلڈ بنک سب سے زیادہ متاثر ہوا۔سیلابی صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے اسپتال انتظامیہ نے صنعت نگر کے زچگی اسپتال میں ایمرجنسی سروسز شروع کیں تاہم جوں ہی برزلہ اسپتال سے پانی کا اخراج ہوا تو لل دید انتظامیہ نے برزلہ اسپتال میں ایمرجنسی سروسز شروع کیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اسپتال میں25ستمبر سے او پی ڈی ڈپارٹمنٹ شروع کیا گیا اور آج تک 700کے قریب بیماروں کا علاج و معالجہ کیا جاچکا ہے۔ اسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر کا کہنا ہے کہ سیلاب کس قدرتباہ کن تھا اِس سے ریاست کا ہر شہری واقف ہے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں اسپتال کی قیمتی مشینری زیرآب آگئی جس میں آسی لیٹر،جنریٹر ،لنگراور دیگر الیکٹرک و الکٹرانک سازوسامان شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ نقصان بلڈ بنک کا ہواکیونکہ وہ بنڈ سائڈ میں ہی واقع ہے۔میڈیکل سپرانٹنڈنٹ کے مطابق اسپتال کی صورتحال مکمل طوربحال کرنے میں اگرچہ ابھی تھوڑا بہت وقت لگ سکتا ہے تاہم مجبوری160 کی حالت میں ہڈیوں اور جوڑوں کے اسپتال میں زچگی کیلئے 30بیڈ اور تھیٹر سہولیات دستیاب رکھی گئیں۔ڈاکٹر مشتاق نے کہا’’برزلہ میں ایمرجنسی سروسز مسلسل جاری ہیں اورہمارا طبی ونیم طبی عملہ اپنے فرائض بحسن وخوبی انجام دے رہا ہے اور آج تک ایک سو بیماروں کا آپریشن کیا گیا‘‘۔ڈاکٹر مشتاق نے مزیدکہا’’لل دید اسپتال میں مرمت اور دیگر کام جاری ہیں بلکہ ہم نے 25 ستمبر سے ہی ہم نے او پی ڈی ڈپارٹمنٹ شروع کردیا ہے اور آج تک650کے قریب بیماروں کا علاج کیا جاچکا ہے‘‘۔واضح رہے کہ سیلاب آنے سے قبل مذکورہ اسپتال میں روزانہ 700بیماروں کا اوپی ڈی میں علاج ومعالجہ کیا جاتا تھا جبکہ 150کے قریب بیماروں کو داخل کیا جاتا تھا۔ ایم ایس لل دید اسپتال نے کہا کہ انتہائی اہمیت کا حامل آکسیجن پلانٹ شروع کیا گیا ہے جبکہ بلڈ بینک کو بہت زیادہ نقصان ہوگیا تھا جو انتظامیہ کیلئے واقعی ایک پریشان کن معاملہ تھا تاہمNational AIDS Control Organisation نیکونے بلڈ بینک کو پھر سے قابل کار بنانے میں کافی مدد کی۔انہوں نے کہا کہ’ نیکو‘ نے کچھ مشینیں فراہم کیں تاہم بلڈ بنک کا ایک بہت بڑا مسئلہ خون کا تھا جوایک غیر سرکاری رضاکار تنظیم نے حل کیا۔میڈیکل سپرانٹنڈنٹ کے مطابق مذکورہ این جی او نے 50پوئینٹ خون کا عطیہ دیکر یہ مسئلہ حل کردیابلکہ انہوں نے ضرورت پڑنے پر مزید خون عطیہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لل دید اسپتال کیلئے خون کا عطیہ سینئر آزادی پسند لیڈر سید علی گیلانی کی تنظیم تحریک حریت نے دیا ہے جو آجکل امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔آسلیٹر ،جنریٹر اور دیگر مشینری کے نقصان کے بارے میں ڈاکٹر مشتاق نے کہا’’ آسی لیٹر ایک قیمتی مشین ہے ،اْس کی بیٹری چارج کرنے کا عمل جاری ہے اور امید ہے کہ اگلے چند روز میں مذکورہ مشین کے ساتھ ساتھ دیگر الیکٹرک اور الیکٹرانک مشینیں قابل استعمال ہوجائیں گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت اسپتال میں ا?ئی پی ڈی کیلئےDay Careسسٹم شروع کیا گیا ہے،یعنی ضرورت پڑنے کی صورت میں مریض شام تک ہسپتال میں داخل کئے جاتے ہیں اور شام کو باضابطہ تشخیص کے بعد انہیں رخصت کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ڈاکٹر حضرات کو محسوس ہوگا کہ کسی مریض کو مزید داخل کرنے کی ضرورت ہے تو اْسے برزلہ اسپتال منتقل کیا جاتا ہے جہاں اْن کی مکمل ٹیم دن رات دستیاب رہتی ہے۔ادھر برزلہ اسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر شبیر کا کہنا ہے کہ اسپتال مکمل طور قابل کار ہے۔انہوں نے کہاکہ اسپتال کے دونوں شعبے او پی ڈی اورآئی پی ڈی گذشتہ ہفتے سے اچھی طرح کام کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب کی وجہ سے بیماروں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ کم ہی ہوگیا ہے۔ڈاکٹر شبیر نے کہا’’سیلاب سے قبل خدشہ تھا کہ بیماروں کی تعداد میں شائد اضافہ ہوجائے گا تاہم ایسا نہیں ہوا‘‘۔ڈاکٹر شبیر کے مطابق سیلاب سے قبل روزانہ 600سے لیکر 700بیماروں کا علاج ومعالجہ کیا جاتا تھا تاہم ابھی یہ تعداد350تک پہنچ گئی ہے‘‘۔ڈاکٹر شبیر نے مزید کہا ’’بیماروں کی کم تعداد کی وجہ سے اب سارے آپریشن تقریباً جلدی ہوتے ہیں بلکہ ا?جکل روزانہ 15سے20بیماروں کا آپریشن کیا جاتا ہے‘‘۔اسپتال کی خراب مشینری کے بارے میں میڈیکل سپرانٹنڈنٹ نے کہا کہ ایکس رے پلانٹ کی مرمت جاری ہے ،وہ اگلے چند روز میں قابل استعمال ہوگا۔یو ایس جی مشین کی خرابی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اِس مشین کا ایڈاپٹر خراب ہے اورماہرین نے اْسے اگلے ہفتے تک ٹھیک کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔لل دید اسپتال کو30بیڈ فراہم کرنے کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ لل دید بری طرح متاثر ہوا تھا اسلئے انہوں نے یہاں اپنا نظام قائم کیا تھا تاہم اب وہ واپس لوٹ رہے ہیں۔

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: