سری پرتاپ میوزیم میں35مسودات کو نقصان، 90فیصد نوادرات محفوظ

SPSجموں کشمیر میں تباہ کن سیلاب کے ایک ماہ بعد نیشنل میوزیم کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم سری پرتاپ سنگھ میوزیم کو ہوئے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے دو روزہ دورہ پر کشمیر پہنچ گئی ہے۔ اس ٹیم کی سربراہی کنزرویشن آف نیشنل میوزیم کے ڈائریکٹرآر پی سویتاکررہے ہیں جو ایک رپورٹ تیار کرکے ریاستی اور مرکزی حکومت کوپیش کرنے والی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ سیلاب کے دوران شری پرتاپ سنگھ میوزیم کو بھی نقصان پہنچا تھا تاہم متعلقہ محکمہ کا کہنا ہے کہ میوزیم کو صرف دس فیصد نقصان پہنچا ہے اور نوے فیصد بالکل محفوظ ہے۔ ڈائریکٹرآرکائیوز، آرکیالوجی اور میوزیم کے ڈائریکٹر محمد شفیع زاہد نے بتایا کہ انہوں نے میوزیم کے تقریباًنوے فیصد نمونوں کو بچالیا ہے تاہم پیپرماشی کی اشیاء اور پارچہ جات کے نمونوں کو داغ لگ گئے ہیں ،جن کو ٹھیک کرانے کیلئے کوششیں جاری ہیں اور اس کیلئے نیشنل میوزیم سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ڈائریکٹر موصوف نے اعتراف کیا کہ 30سے35مسودات تباہ ہوگئے ہیں تاہم ان میں انتہائی اہمیت کے حامل گلگت مسودات شامل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا ’’ہمارے ملازمین نے جان جوکھم میں ڈال کر میوزیم میں موجود نوادرات بچانے کی حتی الامکان کوشش کی جس کے دوران کچھ ملازم زخمی بھی ہوئے ،تاہم سیلاب کی جو شدت تھی ،اْس سے کوئی بے خبر نہیں‘‘۔ ڈائریکٹر میوزیم کے مطابق حال ہی میں میڈیا کے توسط سے یہ بات باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ گلگت مسودات تباہ ہوگئے ہیں لیکن یہ خبر حقیقت سے بعید ہے اور وہ مسودات بالکل محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں آئیندہ چندروز میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ ایس پی ایس میوزیم 1898میں وقت کے مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے گرمائی گیسٹ ہاوس میں قائم کیا گیا۔میوزیم میں 79595 نمونے موجود ہیں ،جن میں جموں و کشمیر اور وسط اشیائی تہذیب وتمدن کے حوالے سے قدیم آثار ،فنون لطیفہ ،تمدن ،دستکاریوں سے متعلق نوادرات شامل ہیں۔معلوم رہے کہ میوزیم سے ماضی میں کئی اشیاء غائب ہوئی ہیں جن میں قرآن پاک کا وہ نسخہ بھی شامل ہے جو400سال قبل مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے ہاتھ کا لکھا ہوا بتایا جاتاہے۔ اسکی تحریر کیلئے استعمال کی گئی روشنائی میں سونے اور زعفران کا استعمال کیا گیا تھا۔اس نادر نسخے پر 1658سے 1707کے دوران برصغیر پر حکومت کرنے والے اس مغل بادشاہ کی ذاتی مہر بھی ثبت تھی۔میوزیم کے ایک افسر نے بتایا کہ عجائب گھر کو بہت پہلے طالع منزل منتقل کر نے کی سفارش کی گئی تھی تاہم نامعلوم وجوہات کی بناء4 پر یہ منصوبہ روبہ عمل نہیں لایا گیا۔مذکورہ افسر نے مزید کہا کہ اس کے بعد جب میوزیم کے بغل میں ایک جدید طرز کی چہار منزلہ عمارت مکمل بھی کی گئی تو اس میں عجائب گھر کے نوادارت منتقل کر نے میں بلاوجہ تاخیر کی گئی۔مذکورہ افسر کے مطابق’ اگر اس نئی عمارت میں میوزیم کومنتقل کیا گیا ہوتا تو شائد تباہی بہت کم ہوتی ‘۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: