گگن سنگھ جسے سیلاب کی لہروں نے خاموش کردیا!

Gagenمہجورنگرکی رجندر کور کے گھر کا منظر بڑا ہی دلخراش ہے۔رجندر سیلاب کا شکار ہوئے اپنے بیٹے گگن دیپ سنگھ کوہلی کی تصویرسینے سے لگائے مسلسل آنسو بہا رہی ہے۔جب اس دکھیاری ماں کا کوئی عزیز اُس کے بیٹے کی تصویر لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے تو وہ دیوانہ وار اْس کا ہاتھ جھٹک دیتی ہے۔مکان کے برآمدے پر دو مزدور اُن کاوہ مال دھورہے ہیں جو دکان کی زینت اور خریداروں کی پسندبننے سے پہلے ہی سیلاب سے تباہ ہوگیا۔سیلاب سے خوفزدہ گگن کے دونوں بچے ننیھال میں قیام پذیر ہیں۔رجندرکی دنیا لٹ چکی ہے ،بیٹے کی موت کے صدمے نے اْسے دیوانہ کردیا ہے۔بیوی ارویندر کور صدمے سے نڈھال سکتے کی حالت میں ایک کونے میں خاموش بیٹھی ہے۔ارویندرکے آنسوؤں نے گھر میں موجودعزیز واقارب کو افسردگی میں مبتلا کردیا ہے۔ستمبر کی6تاریخ تک مہجورنگر کا یہ سکھ گھرانہ ہنستا کھیلتا تھا لیکن سات ستمبرکی صبح اِس گھر کی خوشیاں ماند پرگئیں۔گھرمیں سکوت چھایا ہوا ہے اورافراد خانہ کے لبوں پہ مہرِخاموشی چسپاں ہے ۔
ریاست میں حالیہ سیلاب نے آناً فاناً کئی بستیاں اجاڑ دیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اس تباہ کن سیلاب نے نقشہ ہی بدل ڈالا تو بیجا نہ ہوگا۔281افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے196جموں صوبے میں اور 85کشمیری وادی میں سیلاب کی نذر ہوئے۔ان ہی ہلاک شدگان میں گگن دیپ سنگھ کوہلی بھی شامل ہے،جو پیشے سے ایک دکاندار تھا۔گگن کی ماں رجندر کور کہتی ہیں کہ ستمبرکی6تاریخ کو مہجورنگر زیرآب آگیا اور شام آٹھ بجے تک ایک ایک منزل پانی سے بھر گیا تھااورانہوں نے اپنے گھر کی دوسری منزل میں پناہ لے لی تاہم گراؤنڈ فلور میں موجود سامان دوسری منزل پر پہنچایا تھا ۔ رجندر کور کے مطابق دس بجے تک دوسری منزل کا نصف حصہ بھی پانی سے بھرگیا اور سبھی افراد خانہ سامان تیسری منزل پر پہنچانے کی کوشش کرتے رہے جو تقریباً ناکام ہی ثابت ہوئی۔اس بزرگ خاتون کا کہنا ہے کہ تقریباًنوے فیصد سامان تباہ ہوگیا ۔انہوں نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا ’’میرے بیٹے کی دکان لالچوک میں ہے اور موسم سرما کے تناظر میں اُس کا بہت سارا سامان دلی اور دیگر شہروں سے آچکا تھاجو ہم نے گھر میں رکھا ہوا تھا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’پانی کی رفتار دیکھ کر ہم تیسری منزل میں چلے گئے۔ہمارے گھر میں کچھ پڑوسی بھی پناہ لئے ہوئے تھے‘‘۔اپنے نہ تھمنے والے آنسوؤں پر قابو کرتے ہوئے رجندر کور نے کہا’’رات کے چار بجے کچھ لوگ کشتی لیکر آئے جس میں گگن سمیت تقریباً سات افراد سوار ہوکر بنڈ کی طرف بڑھنے لگے ۔ کشتی بنڈ کے قریب پہنچنے ہی والی تھی کہ اُس میں پانی بھر گیا اور ایک لڑکے نے چھلانگ لگادی جس کے نتیجے میں کشتی اُلٹ گئی۔ہم زور زور سے چلارہے تھے کہ ہمیں بچاؤ لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ پاس میں ہی موجود سی آر پی ایف والوں نے کوئی مدد نہیں کی۔روشنی بہت کم تھی ، پھر بھی کچھ لوگ آگئے اور ہمیں بچالیا‘‘۔رجندر کور نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا’’کشتی میں میرا 5سالہ پوتا بھی تھاجسے انتہائی نازک حالت میں پانی سے نکالا گیا ۔اُس کو بچانے کی کوشش کے دوران میں گگن کو تلاش کرنے لگی لیکن وہ کہیں نہیں ملا‘‘۔ گگن کی بیوی ارویندر کورنے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا’’کشتی جب یہاں سے روانہ ہوئی توچند ہی منٹوں کے بعدبچاؤ بچاؤ کی آوازیں آنے لگیں۔مجھے کافی تشویش ہوگئی کیونکہ میراسارا کنبہ اس کشتی میں سوار تھا۔میرے شوہر نے مجھ سے کہا تھا کہ کشتی میں جگہ نہیں ہے ،ان لوگوں کو بنڈ پر چھوڑ کے ہم آپکو لے جائیں گے۔میں اپنی بیٹی کے ساتھ گھر میں بیٹھی اپنی باری کا انتظار کرر ہی تھی‘‘۔ارویندر نے مزید کہا’’ 6بجکر30منٹ پر جب میں بنڈ پر پہنچ گئی تو میں بیٹے کی حالت دیکھ کررونے لگی۔میں نے ممی سے کہا کہ گگن کہاں ہے لیکن کسی نے کچھ نہیں بتایا ۔ تقریباً پانچ منٹ بعد کسی شخص نے کہا کہ گگن کی لاش مل گئی اور میں وہیں بے ہوش ہوگئی‘‘۔ارویندر کور کے مطابق گگن کا انتھم سنسکار کھاد مل آلوچہ باغ میں کیا گیا کیونکہ باقی ہر جگہ پانی تھا۔ارویندر نے کہا کہ مہجورنگر سے تھانہ صدر تک اور وہاں سے لیکر آلوچہ باغ تک مسلمان بھائیوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ گگن کے سر سے باپ کا سایہ 2013ء میں اُٹھ گیاتھا اور اب یہ گھرانہ چار افراد پر مشتمل تھا جس میں گگن دیپ سنگھ،اس کی ماں رجندر کور،اس کی بیوی ارویندر کور،8سالہ بیٹی بانی جیت کور اور 5سالہ بیٹا توش دیپ سنگھ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: