74سال قدیم سلک فیکٹری راجباغ کی بچی کھچی تباہی مکمل

Silk factoryسلک فیکٹری راجباغ ،جس کی تباہی 70کی دہائی میں شروع ہوگئی ،کا بچا کچھا حصہ حالیہ سیلاب کی نذر ہوگیا ہے۔یہ فیکٹری جموں کشمیر کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہی،جس کا قیام 1939 میں مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں عمل میں لایا گیا تھااور 1963میں اِسے انڈسٹریز محکمہ کو منتقل کیا گیا تھا۔جانکار حلقوں کے مطابق ابتدائی دور میں اس فیکٹری میں36ہزار میٹرریشم ماہانہ تیار ہوا کرتا تھا جو آج 6ہزار میٹر تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔1939میں اِس فیکٹری کیلئے فرانس سے 130لوم ( second hand) خریدے گئے تھے جن میں سے آج40لوم ہی کام کررہے ہیں جبکہ باقی بیکارپڑے ہیں۔یہ الگ کہانی ہے کہ74برسوں کے بعد بھی ان لوموں کو کیوں نہیں تبدیل کیا گیا یا پھر کیوں مرمت کے نام پر بار بار رقومات کی بندر بانٹ کی گئی۔اتنی اہم فیکٹری کو چلانے کے لئے اور اس میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کی طرف توجہ تو کبھی نہیں دی گئی البتہ یہ صرف وقت وقت کے افسران کے لئے سونے کی کان ثابت ہوئی ہے۔جموں کشمیر انڈسٹریزکے ڈپٹی جنرل منیجر غلام قادر وانی کے مطابق حالیہ سیلاب سے فیکٹری کوساڑھے11کروڑ روپئے سے زیادہ نقصان ہواہے جسے ابتدائی تخمینہ بتایا جارہا ہے۔ڈی جی ایم کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے شوروم میں موجودتقریباً2کروڑ روپے کی مالیت کاقابل فروخت کپڑا ناکارہ ہوگیااورپانچ عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جن میں مختلف قسم کی مشینری موجود تھی۔ فیکٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ مہاراجہ دورکے لوم یہاں پہلے ہی زنگ آلودہ ہوچکے تھے لیکن اب چند سال قبل جو نئے لوم لائے گئے تھے وہ بھی اب کسی کے کام کے نہیں رہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ کچھ لوم ایسے بھی تھے جن پر ریشم کے ہزاروں میٹرتیار ہونے کے آخری مراحل میں تھے جو تباہ ہوگئے ہیں۔ اب فیکٹری کے ملازم باقی عمارتوں میں جانے سے پرہیز کررہے ہیں۔اِن ملازمین کا کہنا ہے کہ ابھی فیکٹری کا بیشتر حصہ زیر آب ہے اور یہاں بیشتر عمارتیں ایک ماہ سے زائد عرصے تک زیر آب رہیں۔ شوروم منیجر محمد افضل کا کہنا ہے کہ جب تک پانی کا اخراج مکمل طور نہیں ہوگا اور انجینئرنگ محکمہ اس کا جائزہ نہ لے وہ خطرہ نہیں مول لے سکتے ہیں۔ جموں کشمیر انڈسٹریز (جے کے آئی)کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فیکٹری کا کل نقصان 11.49کروڑ روپے ہے جو ابتدائی تخمینہ ہے اور اگر مشینری زیادہ خراب ہوگی تو نقصان زیادہ بھی ہوسکتا ہی۔انہوں نے کہاکہ اِس نقصان میں بمنہ وولن ملز بھی شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بمنہ وولن ملز اورراجباغ سلک فیکٹری میں پانچ کروڑ روپے کا سٹاک موجود تھا۔جے کے آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیکٹری کئی سال قبل تقریباً دم توڑ چکی ہے ،پھر بھی اس کو اپ گریڈ کرنے کیلئے 28کروڑ روپے کا ایک منصوبہ مرکز کو بھیجا گیا تھا جونامعلوم وجوہات کی بناء پرابھی التوا میں ہی ہے۔جے کے آئی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جیسے ہی فیکٹری سے پانی کا اخراج مکمل ہوگا تو نقصان کی مکمل صورتحال سامنے آسکتی ہی۔ جموں کشمیر انڈسٹریز ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر دین محمد کا کہنا ہے کہ جن عمارتوں میں اتنے لمبے وقت تک پانی رہا ہے وہاں جانا یا پھر وہاں کام کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: