نجی کتب خانے۔۔۔۔عظیم نقصان جسکی تلافی شائد ہی ممکن ہوپائے

حالیہ تباہ کن سیلاب نے وادی کشمیر بالخصوص سرینگر اور دیگر قصبہ جات کو جس شدت کے ساتھ تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے ،وہ آنے والے برسوں میں شائد ہی لوگوں کے حافظے سے محو ہو۔طوفان کی تباہی کے شکار نجی املاک اور کاروباری اداروں کو واپس اپنی ڈگر پر لانے کیلئے اگرچہ ایک اچھا خاصا وقت درکار ہوگا تاہم جنوبی کشمیر اور سرینگرشہر میں متعدد نجی کتب خانوں میں ہوئی تباہی کا ازالہ شائد ہی ہوسکے کیونکہ ان کتب خانوں میں موجود کئی نادر اور نایاب کتابیں اْن اعصاب شکن باقایات کا حصہ بن چکی ہیں جو سیلاب نے اپنے پیچھے چھوڑدئے ہیں۔کتب بینی کے شوقین لوگوں کو اس بات کا صدمہ ہے کہ علم و دانش کے ان تباہ شدہ ذخیروں میں ہماری ثقافت،مذہب اور سماجی ارتقاء پذیری کے حوالے سے ایسی تفصیلات موجود تھیں جو آنے والی نسلوں کی اْٹھان اور ارتقاء کیلئے بنیاد فراہم کرتی ہیں لیکن آج یہ سب کچھ تخت و تاراج ہوچکا ہے۔

جنوبی کشمیر کے قصبہ بجبہاڑہ میں رہنے والے معروف ادیب اور قلمکار پروفیسر غلام محمد شاد، سابق چیف انجینئر آر اینڈ بی پیرزادہ محمد مظفر الدین اور معروف براڈکاسٹر نعیمہ احمد مہجور اپنے نجی کتب خانوں کی تباہی کو اپنی زندگیوں کا سب سے بڑا سانحہ تصور کرتے ہیں جبکہ وزیر باغ جواہر نگر کے ایک عام شہری شبیر احمدبٹ اپنے نجی کتب خانے کی تباہی کے صدمے سے ابھی تک باہر نہیں آرہے ہیں۔ پروفیسرغلام محمد شاد کا کہنا ہے کہ اْنہوں نے عمر بھردنیا کے کونے کونے سے کتابیں جمع کرکے اپنے کتب خانے کی زینت بنائی تھیں لیکن 10 ہزار کے قریب کتابوں اور 12ہزاررسائل وجرائد سے مزین یہ کتب خانہ آج تباہ و برباد ہوچکا ہے اور تقریباً80فیصد کتابیں مٹی میں مل گئی ہیں۔ زندگی کے اس بہت بڑے نقصان کے بارے میں انہوں نے کہا’’جیسے تنکا تنکا آشیانہ بنایا جاتا ہے ویسے ہی میں 1956ء سے اپنے کتب خانے کوروز نت نئی کتابوں سے سجایا اور سنوارتا رہالیکن آج سیلابی ریلوں نے سب کچھ ملیامیٹ کردیا‘‘۔شاد کے مطابق انہوں نے یہ کتابیں ریاست میں ہی نہیں بلکہ دلی ، لندن اور امریکہ سے بھی خرید لی تھیں۔انہوں نے کہا ’’میں نے کچھ ایسے رسائل اور کتابیں پاکستان سے بھی منگوائی تھیں جو کشمیر مسئلے کے حوالے سے وہاں کے موقف پر مشتمل تھیں اور یہاں دستیاب نہیں ہیں، حتیٰ کہ کشمیر سے متعلق کچھ کتابوں کی فوٹواسٹیٹ کاپیاں تو لندن اور امریکہ میں کافی محنت کے بعد حاصل کی تھیں‘‘۔اپنے کتب خانے میں شامل چند ایک نادرکتابوں کا ذکر کرتے ہوئے شاد نے کہا’’مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت نے ’کشمیر انسائیکلو پیڈیا ‘ تیار کرکے اسکی 500 کاپیاں شائع کی تھیں،جن میں سے ایک کاپی میرے کتب خانے میں تھی۔اسی طرح مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور حکومت کے بارے میں ’گلاب نامہ ‘کے اولین ایڈیشن کی 500 کاپیوں میں سے خوش قسمتی سے میرے کتب خانے میں بھی ایک کاپی موجود تھی‘‘۔گلاب نامہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کتاب فارسی زبان میں تھی جس کا ترجمہ بعد میں ڈاکٹر سکھ دیو سنگھ چاڑک نے کیا تھا۔پروفیسر شاد کے مطابق ان کے پاس فارسی زبان میں بہت ساری ایسی کتابیں تھیں جو بازار میں کہیں دستیاب ہی نہیں ہیں۔انہوں نے کہا ’’میرے پاس کشمیر کی تاریخ پر اتنا ذخیرہ جمع تھا جس کا کشمیر یونیورسٹی میں بھی ملنا ناممکن ہے‘‘۔واضح رہے کہ غلام محمد شاد تاریخ کے پروفیسر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا’’مرحوم شیخ محمد عبداللہ پر جب مقدمہ چلاتو اْس مقدمے کی عدالتی کارروائی کو ایک کتابی صورت دی گئی تھی ،جس کی ایک کاپی میرے کتب خانے میں تھی‘‘۔تاریخ کے مذکورہ پروفیسرنے اپنے کتب خانے کویادگار تاریخ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ’’میرے پاس برصغیر کے شہرۂ آفاق جریدے ’نگار‘کے کئی شمارے اورمسلم کانفرنس کے’ صدارتی خطبے‘ موجود تھے‘‘واضح رہے کہ’ نگار ‘کو نیاز فتح پوری نے1922میں جاری کیا تھا جو اردو کا معروف ادبی وفکری رسالہ تصور کیا جاتا تھا۔غلام محمدشاد کہتے ہیں’’جب سے ریاست کے معروف اخبار گریٹر کشمیر اور کشمیر عظمیٰ شائع ہوئے ہیں، میں نے اہم خبروں اور مضامین پر مشتمل2ہزار صفحات کی ایک فائل جمع کرلی تھی جسے تاریخی حیثیت حاصل تھی لیکن وہ بھی تباہ ہوگئی‘‘۔پروفیسر شاد کے مطابق انہوں نے اپنے کتب خانے میں موجود تمام کتابیں اوررسائل و جرائد کشمیر یونیورسٹی ،دارالعلوم رحیمیہ اوردیگرتعلیمی اداروں کو عطیہ کرنے کا ارادہ باندھا تھا لیکن سیلاب نے اْنکے اس ارادے پر پانی پھیر دیا۔ یاد رہے کہ جنوبی کشمیر کو لپیٹ میں لینے کے چند روز بعد سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی سرینگر میں مچادی۔یہاں بھی ایسے ہی کچھ نجی کتب خانے برباد ہوگئے۔جن میں ریٹائرڈ چیف انجینئر پیرزادہ محمد مظفرالدین کا کتب خانہ بھی قابل ذکر ہے۔پیرزادہ محمد مظفر کہتے ہیں کہ اْن کے گھر کی بالائی منزل کتابوں سے بھری ہوئی تھی اورکچھ کتابیں ایک سو سال پرانی تھیں۔پیرزادہ کے مطابق نایاب کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ انہیں اپنے والدپیرعبدالاحد جو، صحافی اور سیاستدان تھے ،سے ورثے میں ملا تھا۔انجینئر مظفر نے کہا’’میرے کتب خانے میں تاریخ ،سائنس،مذہب ،سیاسیات اور دیگر موضوعات پر موجود10ہزار سے زائدکتابیں تباہ ہوگئیں ،جن میں انگریزوں کے دور کی کتابیں بھی شامل ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ تاریخ کشمیر،مسلم تاریخ،اقبال اور اسلام پر کچھ نادر نسخے میرے کتب خانے کی زینت تھے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ مرزا غالب کے بارے میں چند ایسی کتابیں تھیں جو روس میں شائع ہوئی تھیں۔پیرزادہ نے کہا ’’لاہور اور اقبال اکیڈمی میں چھاپی گئی کچھ پرانی کتابیں بھی سیلاب کی نذر ہوگئیں‘‘۔پیرزادہ نے مزید کہا ’’مذہبی کتابیں تو بہت ساری تھیں لیکن قرآن پاک کی 7 تفاسیر اورسیرت طیبہ کی بہت ساری کتابوں کے علاوہ روحانی موضوعات پر اچھا خاصا ذخیرہ تھا،جس میں مولانا رومیؒ کی شہرۂ آفاق مثنوی مولائے روم کے اردو اورانگریزی تراجم بھی شامل ہیں‘‘۔پیرزادہ مظفر آج بھی کتابیں خریدنے کے بہت شوقین ہیں۔دو کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’ایک کتا ب پردہ کے موضوع پر تھی جو اب نایا ب ہے اور حیات طیبہ پر ایک قیمتی کتاب کا ترجمہ میں نے دورۂ امریکہ کے دوران خرید کرلایا تھا ‘‘۔پیرزادہ مظفر کے مطابق وہ اپنے کتب خانے کی تباہی کو زندگی کے سب سے بڑے نقصان سے تعبیر کرتے ہیں۔وہ ہر سال نئی دلی میں منعقد ہونے والے عالمی کتب میلے میں اہتمام سے شرکت کرتے تھے اور دنیا بھر کے اشاعتی اداروں سے شائع ہونے والی تازہ کتابیں خریدنے کے عادی تھے۔معروف براڈکاسٹر نعیمہ احمد مہجورکی کہانی بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔انکا کہنا ہے کہ ’’ مکان یا گاڑی جیسے نقصانات کی وجہ سے میرا دل آج رنجیدہ نہیں ہے بلکہ دکھ صرف اِس بات کا ہے کہ دنیا بھر سے تاریخ کے موضوع پر جوکتابیں جمع کرلی تھیں وہ ملیا میٹ ہوگئیں۔میرے مغموم ہونے کی اس سے بڑی وجہ کیا ہوسکتی ہے کہ کشمیر کے بارے میں بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنفین نے جو کتابیں لکھی تھیں ،وہ آج مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔میری آنکھیں آج اسلئے بھی اشکبار ہیں کہ شاعر کشمیر مہجور کے وہ مسودے برباد ہوگئے جن کو مجتمع کرنے کیلئے میں نے ریاست کا کونہ کونہ چھان مارا ہے۔مجھے ورلڈ بک کی اْن 24جلدوں کی تباہی کابہت شاک ہے جنہیں میرے بچے بہت پسند کرتے تھے۔اس سے بڑا صدمہ اور کیا ہوگا ،میرے کتب خانے میں موجود وہ انمول نمونے اور نوادرات ملیامیٹ ہوگئے جنہیں میں نے لندن کے عجائب گھر سے حاصل کرلیا تھا‘‘۔ حال ہی میں فوت ہوئے مرحوم مولوی افتخار حسین انصاری کو اپنے دادا مرحوم حیدر علی انصاری سے ایک ضخیم کتب خانہ ورثے میں ملاتھا جس میں فقہ اور اصول کی کچھ نایاب کتب شامل ہیں۔مرحوم کے فرزندعمران رضاانصاری کا کہنا ہے کہ اْن کے کتب خانے میں تقریباً ایک ہزار کتابیں تباہ ہوگئیں جو صرف عربی اور فارسی زبان میں تھیں۔

 

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: