سکولوں کی تباہی طلباء پر بھاری

حالیہ تباہ کن سیلاب نے جہاں کشمیری سماج کے تانے بانے کوہلاکررکھ دیا وہیں سینکڑوں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو بھی نقصان پہنچایا۔محکمہ تعلیم نے اسکولوں میں درس تدریس کا عمل شروع کیا تاہم سیلاب کی نذر ہونے والے سکولوں میںبچے کھلے آسمان کے نیچے تھرماکول یا ٹاٹ پر بیٹھے ہیں تاہم حکام کو معلوم بھی نہیں کہ قوم کا مستقبل حصول تعلیم کے نام کھلے آسمان تلے گرد آلود ہورہا ہے۔ واضح رہے کہ ریاست میں 2594اسکول تباہ ہوگئے ہیں جس کا اعتراف سرکار نے بھی کیا ہے۔ سرکاری اسکولوں کی اس قدر تباہی کے باوجود درس وتدریس شروع کرنے کے اس عمل سے عوامی حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکار خود یہ اعتراف کرچکی ہے کہ ریاست میں سیلاب سے اڈھائی ہزاراسکولی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں ،پھر درس و تدریس کا عمل شروع کرناکیا معنی رکھتا ہے۔ایک ریٹائرڈ استادخورشید احمد خان کا کہنا ہے’’اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ سیلاب کی وجہ سے طالب علموں کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ سیلاب سے متاثرہ اسکولی عمارتوں میں درس وتدریس کا عمل شروع کرکے بچوں کی جان خطرے میں ڈالی جائے‘‘۔خان نے کہا ’’ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ہر طرف گردآلود ماحول ہے اورکھانسی اور زکام نے پریشان کرکے رکھا ہے،اس صورتحال میں کھلے آسمان تلے بچوں کو تعلیم دینا ناانصافی ہے‘‘۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں 1906اسکولی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 495عمارتیں ایسی ہیںجو مکمل طور تباہ ہوگئی ہیں جبکہ 601عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں سرکار نے یہ فیصلہ لے لیا کہ سیلاب سے متاثرہ کنبوں کو کمیونٹی ہالوں اور سرکاری اسکولوں میں رہائش فراہم کی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق فی الوقت 35اسکول ایسے ہیں جہاں متاثرینِ سیلاب قیام پذیر ہیں۔جنوبی کشمیر کے کئی اسکولوں میں طالب علم کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کررہے ہیں جن میں مڈل اسکول بجبہاڑہ ،گورنمنٹ ہائی اسکول بجبہاڑہ،گورنمنٹ ہائی اسکول تکیہ بہرام شاہ اور مڈل اسکول لوکٹی پورہ وغیرہ شامل ہیں۔ جنوبی کشمیرمیں ہی سب سے زیادہ اسکولی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں،جہاں 182اسکولی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے ۔محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر طارق علی میر اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ انہیں ایسی کوئی جانکاری نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ چیف ایجوکیشن آفیسر سے رابطہ کرکے ہی کچھ بتاسکتے ہیں ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: