مودی کی آمد پر وادی میں ہڑتال

ایک طرف جہاں آج برصغیر میں روشنیوں کا تہوار منایا گیا وہیں کشمیر کے سیلاب زدہ منظرنامے پر ہڑتال کا راج رہا۔ہڑتال کی کال حریت (گ) سمیت کئی دیگر علیحدگی پسند تنظیموں نے دی تھی،جس کا خاطر خواہ اثر رہا۔علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ جب حالیہ سیلاب سے یہاں لوگ مررہے تھے تو اس وقت نریندر مودی کو کشمیری یاد کیوں نہیں آئے۔وزیرِ اعظم کی حیثیت سے یہ دوسری مرتبہ اُن کا دورئہ کشمیر ہے۔ دیوالی کے پیش نظر اگرچہ آج سرکاری ادارے چھٹی پر تھے تاہم سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات اور ہڑتال کے نتیجے میں معمول کی زندگی تھم کر رہ گئی ۔پائین شہر اورسول لائنز کے بعض علاقوںمیں سخت بندشیں تھیں۔وزیر اعظم نریندر مودی کے دورئہ وادی کے سلسلے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔شہر کے چپے چپے پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی جبکہ فوج کے ہیلی کاپٹر صبح سے ہی شہر کی فضائوں میں گشت کررہے تھے۔ پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں دوران شب ہی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری پیمانے پر تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور لوگوں کی نقل و حرکت پر قدغن عائد کرتے ہوئے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔پائین شہرکے گلی کوچوں میں بھی پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا تھا اور لوگوں کو سڑکوں کی طرف آنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی،جس کے نتیجے میں وسیع آبادی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی۔اس دوران خانیار ،رعناواری،نوہٹہ ،گوجوارہ ،راجوری کدل،نوا کدل ،کائوڈارہ ،صفاکدل ،نالہ مار روڑ،سکہ ڈافر اور دیگر ملحقہ علاقوں میں سڑکوںپر جگہ جگہ خار دار تارلگائی گئی تھی اور فورسز کی بکتر بند گاڑیاں موجود تھیں۔اس دوران مائسمہ، گائو کدل، ریڈ کراس روڑ اور سول لائنز کے کچھ ایک علاقوں میں بھی اسی طرح کی پابندیاں عائد رہیں ۔پائین شہر کے نوہٹہ ،سکہ ڈافر ، نوا کدل ، کائوڈارہ ،نالہ مار روڑ، خانیار ، راجوری کدل اور اسلامیہ کالج سمیت کئی علاقوں کے لوگوں نے بتایا کہ انہیں صبح سے ہی اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے انہیں یہ بتایا کہ شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔سرینگر کی اہم شاہراہوں،جن میں بلیوارڈ روڑ ،گپکار روڑ،چشمہ شاہی روڑاور آس پاس کی سڑکوں پر عام لوگوں کی نقل وحرکت محدود رہی۔ان سڑکوں پر جگہ جگہ خار دار تار اور فورسز کے موبائیل بنکر کھڑے کئے گئے تھے۔راج بھون اور اسکے گردونواح میں سکیورٹی انتظامات انتہائی سخت تھے ۔ زبرون پہاڑیوں پر فوج تعینات تھی جبکہ ڈل جھیل کے اندر فورسز اہلکار خصوصی موٹر بوٹوں کے ذریعے گشت کررہے تھے۔اس دوران سرینگر ائرپورٹ روڑ پر بھی حفاظت کے سخت انتظام کیا گیا تھا۔دریں اثناء علیحدگی پسندوں کی ہڑتالی کال پرسرینگر سمیت دیگر اضلاع میں گاڑیوں کی نقل و حمل متاثر رہی۔شہر میں دکانیں ،تجارتی مراکز، کاروباری ادارے ،دفاتر اور بنک بند رہے جبکہ مسافرگاڑیوں کی آمدو رفت معطل ہو کر رہ گئی۔البتہ پرائیویٹ گاڑیاں سڑکوں پر نظر آئیں جبکہ مختلف اضلاع کے درمیان چلنے والی چھوٹی مسافر گاڑیوں کی آمدورفت بھی جزوی طور جاری رہی۔ادھرشہر کے سول لائنز علاقوں کی سڑکوں اور بازاروں میں بھی ہو کا عالم تھا اور سڑکوں پر صرف پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکار بھاری تعداد میں تعینات کئے گئے تھے۔پارمپورہ پانتھ چوک بائی پاس پر بھی حفاظت کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور شاہراہ کے مختلف علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے تھے اورجگہ جگہ ناکے بٹھائے گئے تھے جبکہ بکتر بند گاڑیاں تیار حالت میں رکھی گئی تھیں۔شمالی اور جنوبی کشمیر کی اہم شاہراہوں پر بھی غیر معمولی حفاظتی پہرہ بٹھا دیا گیا تھا ۔ دریں اثناء اسلام ۤباد،بارہمولہ،کپوارہ،بڈگام ،بانڈی پورہ ، گاندربل ، پلوامہ اور شوپیان سے بھی اطلاعات ہیں کہ ان اضلاع میں مکمل ہڑتال کے نتیجے میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئیںجبکہ ان تمام اضلا ع میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

 

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: