تپ دق کے مریض اللہ کے رحم وکرم پر

ایک ایسے وقت پر جب پوری دنیا میں تپ دق (ٹی بی)کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے، جموں وکشمیر میں گذشتہ پانچ روز سے اس مرض میں مبتلا مریض اللہ کے رحم وکرم پر ہیں۔اِن بیماروں کی دیکھ بال اور دوائیاں پہنچانے والے ملازم ہڑتال پر ہیں ۔ان عارضی ملازمین کے بقول وہ پچھلے9ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر میں10ہزار افرادتپ دق کے مرض میں مبتلا ہیں،جن میں سے150 افراد ٹی بی کے علاج کی ادویات سے مزاحمت (Multi Drug Resistent ) رکھتے ہیں یعنی جس میں مریض کو ٹی بی کے عام طریقہ علاج سے ہٹ کے طویل، پیچیدہ اور مہنگا علاج مہیا کرنا پڑتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ MDRٹی بی کے شکار افراد کو 24سے27ماہ تک کسی وقفے کے بغیر دوائیاں جاری رکھنی پڑتی ہیں۔یاد رہے کہ نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اور عالمی ادارہ صحت نے ٹی بی کے علاج کے لیے DOTS طریقہ علاج وضع کیا ہے ، جس میں مرض کی تشخیص ہو جانے کے بعد کسی ذمے دار فرد کی زیر نگرانی ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیاں بغیر کسی وقفے کے مسلسل 6سے9 ماہ تک جاری رکھنی پڑتی ہیں اور MDR یاXDR ٹی بی کی صورت میں 24سے 27ماہ تک کسی وقفے کے بغیر دوائیاں جاری رکھنی ہوتی ہیں ۔واضح رہے کہ MDR ٹی بی میں مریض پر پہلے درجے کی ادویات کا بالکل اثر نہیں ہوتاجبکہ XDR ٹی بی اس کا آخری درجہ ہوتاہے۔اگر مریض ابتدائی علاج میں تساہلی یا لا پر واہی کا مظاہرہ کرے اور ادویات کے باقاعدہ استعمال کے ساتھ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہیں کرتا تو پھر اس میں ٹی بی کی دوسری قسم کی افزائش ہو جاتی ہے۔ یہ بات قابل ذخر ہے کہ دنیا بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں تپ دق کے باعث ہوئی ہیں۔ صرف 2012ء کے دوران دنیا بھر میں 86 لاکھ افراد اس مہلک بیماری سے متاثر ہوئے اور ان میں سے 13 لاکھ افراد موت کا شکار ہو گئے۔ہندوستان میں ہر تین منٹوں کے دوران2افراد تپ دق سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔
جموں کشمیر آر این ٹی سی پی( Revised National Tuberculosis Programme) ایمپلائز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے 2004میں یہ پروگرام شروع کیا اور اس وقت 181ملازمین افراد اس پروگرام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ایسوسی ایشن کے صدرمصدق رفیق کا کہنا ہے’’ ریاست میں تپ دق (ٹی بی)کے مکمل خاتمے کے لئے آر این ٹی سی پی ملازمین دن رات کام کررہے ہیں لیکن حکومت ہمیں نظر انداز کر رہی ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ہم دور دراز علاقوں تک پہنچتے ہیں حتیٰ کہ ہمارے 8ملازمین خود بھی ٹی بی میں مبتلا ہوگئے ہیں لیکن آج تک حکومت نے ہماری مستقلی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا‘‘۔مصدق کے مطابق ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں آر این ٹی سی پی ملازمین کو مستقل کیا گیا لیکن ریاست میں اِس جان لیوا بیماری کے خلاف مہم میں جو ملازم پیش پیش ہیں ،اُن کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔مصدق نے کہا کہ جنوری 2014سے انہوں نے کوئی تنخواہ نہیں لی ہے ۔مصدق نے مزید کہا’’اس سلسلے میں ہم وزیراعلی ٰعمر عبداللہ،طبی تعلیم کے وزیر تاج محی الدین،محکمہ صحت کے سیکریٹری اور ڈائریکٹر سے بھی ملاقی ہوئے لیکن یقین دہانیوں کے سوا کچھ نہیں ملا‘‘۔اِن ہڑتالی ملازمین کے بقول انہوں نے اس سلسلے میں محکمہ کو تحری142ی طور بھی آگاہ کیا ہے لیکن وہ کبھی ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔تپ دق کے اس مرض میں مبتلا ایک مریض نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا’’تب دق پر کسی نہ کسی حوالے سے محفلیں سجانے کا مقصد محض شمعیں جلانا نہیں ہوتا ہے بلکہ جائزہ لیناہوتا ہے‘‘۔مذکورہ مریض نے مزید کہا’’ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہماری دوائیاں ختم ہورہی ہیں لیکن متعلقہ حکام بے خبر ہیں‘‘۔واضح رہے کہ تپ دق کے مرض میں مبتلا مریض سماجی مشکلات کی وجہ سے اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے ہیں۔آراین ٹی سی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں 10ہزار افراد تپ دق کے مرض میں مبتلا ہیں جن میں سے 150مریض MDRٹی بی کا شکار ہیں جبکہ ایک شخص XDRٹی بی کا مریض ہے جس کا تعلق جنوبی کشمیر سے ہے۔ MDRٹی بی کیشکار افرادکی عمر 20سے 50 سال بتائی جارہی ہے جبکہ XDRٹی بی کا شکار ایک نوجوان ہے جس کی عمر 26سال ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تپ دق کے مریض کی دوائیوں کا تسلسل نہیں رہا تو مذکورہ مریض کو ازسرنو کورس کا آغاز کرنا پڑتا ہے۔
اسٹیٹ ٹی بی آفیسر ڈاکٹر غلام احمد وانی نے ملازمین کی مانگ کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ’’یہ حقیقت ہے کہ یہ ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں اور میں نے مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) ڈاکٹر یشپال شرما کو اس صورتحال سے آگاہ کیا ہے ‘‘۔ڈاکٹر وانی نے کہا کہ مشن ڈائریکٹر کے مطابق اُن کے پاس فنڈس ہی نہیں ہیں ۔ڈاکٹر وانی کے مطابق انہوں نے اس سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر آر ایس گپتا کو بھی باخبر کیا ہے اور امید ہے کہ اگلے چند روز میں یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: