سیلاب ۔۔۔ 3811ہیکٹئرزرعی اراضی ناقابل کاشت

اکتوبر 18, 2014

وادی میں حالیہ سیلاب کے دوران 3811ہیکٹئرزرعی اراضی ناقابل کاشت بن گئی ہے ۔کئی سیلابی پانی نے زرعی اراضی کو اپنے ساتھ بہالیا ،کہیں چھوٹے بڑے پتھر زرعی راضی پر جمع ہوگئے ہیں اورکہیں اس اراضی نے اب ندی نالوں کی شکل اختیار کی ہے۔ محکمہ زراعت نے اِس ناقابل کاشت اراضی کو قابل کاشت بنانے کیلئے 453 کروڑ روپے کا ایک منصوبہ مرتب کیا ہے۔اس دوران محکمہ زراعت نے اُن کسانوں کی امداد کیلئے 217کروڑ روپے کا منصوبہ بھی ترتیب دیا ہے جن کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں ۔ Read the rest of this entry »


گگن سنگھ جسے سیلاب کی لہروں نے خاموش کردیا!

اکتوبر 11, 2014

Gagenمہجورنگرکی رجندر کور کے گھر کا منظر بڑا ہی دلخراش ہے۔رجندر سیلاب کا شکار ہوئے اپنے بیٹے گگن دیپ سنگھ کوہلی کی تصویرسینے سے لگائے مسلسل آنسو بہا رہی ہے۔جب اس دکھیاری ماں کا کوئی عزیز اُس کے بیٹے کی تصویر لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے تو وہ دیوانہ وار اْس کا ہاتھ جھٹک دیتی ہے۔مکان کے برآمدے پر دو مزدور اُن کاوہ مال دھورہے ہیں جو دکان کی زینت اور خریداروں کی پسندبننے سے پہلے ہی سیلاب سے تباہ ہوگیا۔سیلاب سے خوفزدہ گگن کے دونوں بچے ننیھال میں قیام پذیر ہیں۔رجندرکی دنیا لٹ چکی ہے ،بیٹے کی موت کے صدمے نے اْسے دیوانہ کردیا ہے۔بیوی ارویندر کور صدمے سے نڈھال سکتے کی حالت میں ایک کونے میں خاموش بیٹھی ہے۔ارویندرکے آنسوؤں نے گھر میں موجودعزیز واقارب کو افسردگی میں مبتلا کردیا ہے۔ستمبر کی6تاریخ تک مہجورنگر کا یہ سکھ گھرانہ ہنستا کھیلتا تھا لیکن سات ستمبرکی صبح اِس گھر کی خوشیاں ماند پرگئیں۔گھرمیں سکوت چھایا ہوا ہے اورافراد خانہ کے لبوں پہ مہرِخاموشی چسپاں ہے ۔ Read the rest of this entry »


74سال قدیم سلک فیکٹری راجباغ کی بچی کھچی تباہی مکمل

اکتوبر 11, 2014

Silk factoryسلک فیکٹری راجباغ ،جس کی تباہی 70کی دہائی میں شروع ہوگئی ،کا بچا کچھا حصہ حالیہ سیلاب کی نذر ہوگیا ہے۔یہ فیکٹری جموں کشمیر کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہی،جس کا قیام 1939 میں مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں عمل میں لایا گیا تھااور 1963میں اِسے انڈسٹریز محکمہ کو منتقل کیا گیا تھا۔جانکار حلقوں کے مطابق ابتدائی دور میں اس فیکٹری میں36ہزار میٹرریشم ماہانہ تیار ہوا کرتا تھا جو آج 6ہزار میٹر تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔1939میں اِس فیکٹری کیلئے فرانس سے 130لوم ( second hand) خریدے گئے تھے جن میں سے آج40لوم ہی کام کررہے ہیں جبکہ باقی بیکارپڑے ہیں۔یہ الگ کہانی ہے کہ74برسوں کے بعد بھی ان لوموں کو کیوں نہیں تبدیل کیا گیا یا پھر کیوں مرمت کے نام پر بار بار رقومات کی بندر بانٹ کی گئی۔اتنی اہم فیکٹری کو چلانے کے لئے اور اس میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کی طرف توجہ تو کبھی نہیں دی گئی البتہ یہ صرف وقت وقت کے افسران کے لئے سونے کی کان ثابت ہوئی ہے۔ Read the rest of this entry »


سری پرتاپ میوزیم میں35مسودات کو نقصان، 90فیصد نوادرات محفوظ

اکتوبر 10, 2014

SPSجموں کشمیر میں تباہ کن سیلاب کے ایک ماہ بعد نیشنل میوزیم کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم سری پرتاپ سنگھ میوزیم کو ہوئے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے دو روزہ دورہ پر کشمیر پہنچ گئی ہے۔ اس ٹیم کی سربراہی کنزرویشن آف نیشنل میوزیم کے ڈائریکٹرآر پی سویتاکررہے ہیں جو ایک رپورٹ تیار کرکے ریاستی اور مرکزی حکومت کوپیش کرنے والی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ سیلاب کے دوران شری پرتاپ سنگھ میوزیم کو بھی نقصان پہنچا تھا تاہم متعلقہ محکمہ کا کہنا ہے کہ میوزیم کو صرف دس فیصد نقصان پہنچا ہے اور نوے فیصد بالکل محفوظ ہے۔ Read the rest of this entry »


اسمبلی انتخابات2014۔۔۔ فیصلہ چند روز میں متوقع

اکتوبر 9, 2014

Vinod Zutshiریاست میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا جائزہ لینے کیلئے بھارت کے ڈپٹی چیف الیکشن کمشنر ونود زتشی نے جموں کے بعد سرینگر میں جمعرات کو نیشنل کانفرنس،کانگریس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی۔مخلوط سرکار میں شامل کانگریس نے جہاں مقررہ وقت پرہی انتخابات کرانے کی وکالت کی وہیں نیشنل کانفرنس نے مارچ سے قبل الیکشن نہ کرانے کی رائے ظاہر کرتے ہوئے بازآبادکاری معاملے کو فوقیت دینے کی بات کی جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے بازآبادکاری کا عمل ناممکن ہے اسلئے انتخابات وقت مقررہ پر ہی ہونے چاہئیں۔ اس دوران انتظامیہ اور پولیس نے بھی انتخابات میں تاخیر نہ کرنے کی صلاح دی ہے۔ Read the rest of this entry »


لل دید ہسپتال دن میں کھلا رہتا ہے رات کو بند

اکتوبر 7, 2014
لل دید اسپتال نے تباہ کن سیلاب کے بعد او پی ڈی سہولت توبحال کی ہے تاہم آئی پی ڈی کیلئے بیماروں کو ہڈیوں اور جوڑوں کے اسپتال برزلہ منتقل ہونا پڑتا ہے۔وادی کے واحد زچگی اسپتال میں مریض فقط دن کیلئے داخل کئے جاتے ہیں اورشام کو انہیں رخصت کیا جاتا ہے۔اسپتال انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اگلے چند روز میں اسپتال مکمل طور اپنی سبھی سہولیات فراہم کرے گا۔یاد رہے کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں وادی کے تین بڑے اسپتال مکمل زیر آب آئے تھے اور ان اسپتالوں سے مریضوں کوصورہ میڈیکل انسٹیچوٹ منتقل کرنا پڑا تھا۔ان ہی اسپتالوں میں لل دیداسپتال بھی شامل ہے جو وادی کا واحد زنانہ اسپتال ہے۔

Read the rest of this entry »


سیلابی عید

اکتوبر 6, 2014

دنیا بھر میں ہر سال 10ذوالحج کو عید الاضحی بڑے ہی جوش وخروش سے منائی جاتی ہے۔ جیسے جیسے ذوالقعدہ کا مہینہ اختتام پذیر ہوتا ہے، دنیا بھر کے مسلمان عید الاضحی منانے کی تیاریوںمیں مصروف ہوتے ہیں۔ عیدواقعی خوشیاں منانے کا دن ہے۔ اس دن بچے، جوان اور ضعیف العمر مرد وخواتین نئے نئے ملبوسات زیب تن کرکے عیدگاہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور وہاں دورکعت باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ صدقہ و خیرات کے ذریعہ وہ اپنے غریب بھائیوں کی مدد کرتے ہیںتاکہ انہیں بھی صحیح معنوں میں عید کی خوشیاں میسر ہو سکیں۔ عیدگاہ سے واپسی کے بعد مسلمان بھائی آپس میں گلے مل کرایک دوسرے سے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔ پھر کھاو اور کھلاو کا دور شروع ہوتا ہے۔ انواع واقسام کی ضیافتیں پیش کی جاتی ہیں اور خصوصی طور پرقہوہ ،مٹھائیوں اور روٹی کے مختلف انواع و اقسام کا اہتمام ہر ایک گھرانہ میں ہوتا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں کیاہم صحیح معنوں میں عید کی خوشیاں منا پائیں گے ؟ اگرہم اپنی وادی میں جھانک کردیکھیں تو پتہ چلے گا کہ وہ گھرانے جن کا سب کچھ سیلاب کی نذر ہوگیا،وہ کیا عید منائیں گے؟ ان کے لئے عید کی یہ خوشیاں کیا معنی رکھتی ہیں؟ ۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: