کشمیر کے سیاسی،ثقافتی اور صحافتی اوراق کا سرمایہ بھی باقی نہ رہا

RR-Infoمستقبل کامورخ شاید ستمبر2014کے سیلاب کی شدت اور تباہی کا اندازہ اْس وقت محسوس کرے گا جب وہ کشمیر کی سیاسی، ثقافتی اور صحافتی اوراق کھنگالنے کی کوشش کرے گا،کیونکہ حالیہ تباہ کن سیلاب نے اس بیش قیمتی سرمایہ کو ملیامیٹ کردیاہے۔ریاست کے محکمہ اطلاعات اور اْس کے ذیلی اداروں کے پاس موجود اخبارات، رسائل وجرائد،آڈیو ویڈیو کلپس اور مختلف سیاسی شخصیات کی تقاریر ،پریس نوٹ وغیرہ کو سیلابی پانی نے ختم کردیا ہے۔واضح رہے کہ ریاست میں محکمہ اطلاعات کو اخبارات اور رسائل وجرائد وغیرہ کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کا کام تفویض کیا گیا ہے لیکن کشمیرجہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہے،میں اِس بیش قیمتی سرمایہ کی حفاظت کا کوئی معقول بندوبست نہیں ہے۔یہ اسی غیر معقول انتظام کا نتیجہ ہے کہ آج کشمیری عوام اس انمول سرمایہ سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ ریاست میں بہت پہلے شائع ہونے والے البرق،خالد،جمہور،وْلر،چنار،مارتنڈ اور درجنوں ایسے اخبارات، جن کی جلد بند فائلیں شاید اْن کے مالکین کے پاس بھی اب نہیں ہونگی، کسی طرح محفوظ رہی ہیں۔محکمہ اطلاعات کی ایک اہم شاخ ’ریفرنس اور ریسرچ سینٹر ‘ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ1932سے جمع کئے گئے سب اخباری تراشے تباہ ہوگئے ہیں، جسے محکمہ سب سے بڑا نقصان تصور کررہا ہے تاہم ریاست میں 1932سے 2000تک شائع ہونے والے اخبارات کی فائل تباہ ہونے سے بچ گئی۔ ریسرچ سینٹر کی انچارج شاہدہ پروین کا کہنا ہے 2000 سے 2014تک وہ سبھی اخبارات برباد ہوگئے جن کی ابھی جِلد بندی نہیں کی گئی تھی۔ریسرچ سینٹرذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست میں شائع ہوئے تقریباً سبھی گیزٹ بھی تباہ ہوئے ہیں نیزمحکمہ اطلاعات کے اپنی اشاعتیں بھی تباہ ہوگئیں جنہیں ایک تاریخی اہمیت حاصل تھی۔یاد رہے کہ ان اشاعتوں میں تعمیر،کشمیر ٹوڈے اور مکتوب شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق 1989تک محکمہ کے پاس ہندوستان میں شائع ہونے والے اکثر رسائل کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی جسے سیلاب نے ضائع کردیا۔ان رسائل میں انڈیا ٹوڈے،سنڈے ،وِیک اور آوٹ لک وغیرہ شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف سیاستدانوں کی وہ تقاریر بھی سیلاب کی نذر ہوگئے جنہیں محکمہ نے محفوظ کرلیا تھا۔ریسرچ سنٹر کے معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور وقت وقت کی حکومتوں کے جتنے بھی پریس نوٹ اخبارات یاریڈیو اور ٹیلی ویڑن کو ارسال کئے جاتے تھے ،اْن کی جلد بند فائلیں بھی تباہ ہوگئیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ماضی قریب میں پروجیکٹر کے ذریعے جو ’رول‘ استعمال کئے جاتے تھے ،وہ بھی ملیامیٹ ہوگئے ہیں۔ محکمہ اطلاعات کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگروقت پر جگہ دستیاب ہوجاتی تو شاید اتنی تباہی نہیں ہوجاتی۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی بار اعلیٰ حکام کو باخبر کردیاتھا کہ اتنے سارے اہم مواد کیلئے کوئی بہتر انتظام کیاجائے تاہم کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: