حکم نواب تادر نواب

سبزیاں اور میوہ جات پالتھین کی بوریوں میں درآمد

ریاست جموں وکشمیر میں عدالتی احکامات کے تحت پالتھین کی خریدوفروخت اور درآمد پر امتناع عائد ہے مگر ان احکامات کی عدولی برابر جاری  بھی ہے۔ اب وادی میں درآمد ہونے والی سبزیاں اور میوہ جات پالتھین کی بوریوں میں سبزی منڈیوں میں پہنچ رہی ہیں۔اس طرح یہ سبزیاں نہ صرف مضر صحت بلکہ پالتھین کی یہ بوریاں ماحولیاتی آلودگی کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ جموں وکشمیر نان بائیو ڈی گریڈ ایبل میٹیریل منیجمنٹ ، ہینڈلنگ اور ڈسپوزل ایکٹ 2007کے تحت جاریSRO-182/2008سے ریاست میں پالتھین کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے ۔ریاستی سرکار نے 2009میں اس حکمنامے کا باضابطہ اعلان کیاتاہم پالتھین کے استعمال سے متعلق حکومت کی پابندی کا اعلان ’حکم نواب تا در نواب‘ ہی ثابت ہورہاہے۔ سرینگر میں ابھی بھی پڑے پیمانے پر پالتھین کا استعمال ہورہا ہے اور دیگر قصبہ جات کی بات ہی نہیں۔وادی کے اکثر بازاروں میں دکاندار، ریڈے بان اور چھاپڑی فروش بڑی مقدار میں پالتھین لفافوں کا استعمال کرتے ہیں ،جس کا صاف مطلب ہے کہ پابندی کے باجود وادی میں ہزاروں ٹن پالتھین موجود ہے اور اسے استعمال بھی کیا جارہا ہے۔دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ انتظامیہ نے چند سال قبل پالتھین کے استعمال پر پابندی تو لگادی لیکن اسے عملاً لاگو کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ ریاستی سرکار نے 11مئی 2009کو ریاستی حدود میں ایس آر او 122کے تحت پالتھین لفافوں کو ساتھ لیکر چلنے پر پابندی عائد کی ہے جبکہ پالتھین کی دیگر مصنوعات پر 2007کے ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔سرینگر شہر میں اب نہ صرف پالیتھین کے چھوٹے لفافوں کا استعمال ہورہا ہے بلکہ بیرون ریاست سے جو سبزی وادی درآمد ہوتی ہیں،وہ بھی اب پالتھین کی بوریوں میں آتی ہیں،جسے ماہرین تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بوریوں کے اندرنمی پیدا ہوتی ہے جس سے سبزی ناقابل استعمال ہوجاتی ہے ۔ صنعت نگر میں سبزی خریدرہے ایک نوجوان توحید احمد پنڈت اس ضمن میں کہتے ہیں’’ حکومت اس ضمن میں سنجیدہ نہیں ہے یا پھراس کے کاروبار سے جڑے عناصر اس قدر بااختیار ہیں کہ انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہیں اورہزاروںٹن پالتھین غیر قانونی طور وادی میںلایا جارہا ہے‘‘۔توحید کے مطابق دونوں صورتوں میں حکومت کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ ایک اور صارف طفیل احمد کا کہنا ہے کہ پالتھین وادی میں تیار نہیں ہوتا ہے بلکہ اسے بیرون ریاست سے درآمد کیا جارہا ہے۔طفیل کے مطابق اگر یہاں پالتھین پہنچے گاہی نہیں تو اسکا استعمال خود بخوبند ہو جائے گا۔ شہر میں پالتھین لفافوں کا کاروبار کررہے ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ پالتھین پر پابندی عائد کرنا ٹھیک ہے لیکن حکومت نے پابندی عائد کرتے وقت کیا یہ سوچا ہے کہ اس کاروبار سے منسلک لوگ کہاں جائیں۔انہوں نے کہاکہ ریاست سے پالتھین کا خاتمہ تبھی ممکن ہوسکے گا جب اس کاروبار سے جڑے لوگو ں کو متبادل روزگار کا ذریعہ فراہم کیا جائے گا۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین نے اعتراف کیا کہ آجکل سبزیاں اورچند میوہ جات پالتھین کی بوریوں میں وادی درآمد کرنے کا نیا رجحان عام ہوگیا ہے جو انتہائی نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پالتھین کی ان بوریوں میں نمی پیدا ہوجاتی ہے اوراگر زیادہ دیر تک سبزیاں بند رہتی ہیں تو وہ خراب ہوجاتی ہیں۔ ڈاکٹر روبینہ کے مطابق میونسپل کارپوریشن اس سلسلے میں کسی لیت ولعل سے کام نہیں لے گی۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس سلسلے میں ایس ایم سی نے پہلے سے ہی کئی ٹیمیں متحرک کی ہیںتاہم میونسپل حدود سے باہر اس پر روک لگانا دیگر محکموں کا کام ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: