الیکشن 2014۔۔۔حلقہ انتخاب سوناواری

این سی ،پی ڈی پی اور کانگریس کے درمیان تکونی مقابلہ
حلقہ انتخاب سوناواری میں 25نومبر کو ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ سمبل، نائدکھے، حاجن اور شادی پورہ وہ چار بلاک ہیں جن پریہ حلقہ انتخاب مشتمل ہے۔واضح رہے کہ یہ وہی سوناواری ہے جس کا نام سن کر کشمیریوں کے دل کانپ اٹھتے تھے اور جسے سرکاری بندوق برداروں (اخوانیوں) کا گڑھ مانا جاتا تھا ۔یہ وہی حلقہ انتخاب ہے ریاستی اسمبلی میں جس کی نمائندگی بدنام زمانہ سرکاری بندوق برداروں کے سربراہ کوکہ پرے نے 6سال تک کی۔
اس حلقہ انتخاب پر نیشنل کانفرنس،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور کانگریس کے درمیان تکونی مقابلہ ہونے جارہا ہے۔موجودہ ممبر اسمبلی محمد اکبر لون کاپی ڈی پی کے نامزد امیدوار یاسر ریشی کے ساتھ براہ راست سخت مقابلہ ہورہا ہے جبکہ کانگریس کے نامزد امیدوار اور سابق سرکاری بندوق بردار(اخوانی)و ممبر اسمبلی کوکہ پرے کے فرزند امتیاز پرے بھی سخت محنت کررہے ہیں۔دو مرتبہ ممبر اسمبلی رہ چکے محمد اکبر لون تیسری مرتبہ بھی اسمبلی میں پہنچنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ لون رائے دہندگان کو حلقہ انتخاب کی تعمیر وترقی یاد دلانے کی کوشش میں مصروف ہیں تاہم حلقہ انتخاب میں اْن پر الزام عائدکیا جارہا ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں فقط منظور نظر افراد کو ہی فائدہ پہنچایا اور تعمیر و ترقی کے معاملے میں جانبدارانہ رویہ ادا کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں پی ڈی پی نے سوناواری میں خاصی اکثریت حاصل کی۔ ایک عرصے تک سرکاری بندوق برداروں (اخوانیوں) کا گڑھ تصور کئے جانے والا یہ حلقہ انتخاب بالائی اور پائین مواضعات پر مشتمل ہے۔ بالائی علاقہ (اپر بلاک)سمبل، شادی پورہ، نوگام، گنستان، شلوت اورنسبل پر مشتمل ہے جبکہ پائین علاقہ (لوور بلاک) میں نائدکھے، حاجن، بانیاری، مارکنڈل، پاری بل، پرینگ اور مادون شامل ہیں۔این سی کے نامزد امیدوار و موجودہ ممبر اسمبلی محمد اکبر لون اورکانگریس کے نامزد امیدوار امتیاز پرے کا تعلق پائین علاقہ سے ہے جبکہ پی ڈی پی کے نامزد امیدوار یاسر ریشی کا تعلق بالائی علاقہ سے ہے۔اس حلقہ انتخاب سے پیپلز کانفرنس کے نامزد امیدوار قوام الدین شلوتی ،پینتھرس پارٹی کے غلام رسول ملک اور دو آزاد امیدوار نذیر احمد ونی اور غلام محمد پرے بھی قسمت آزمائی کررہے ہیں۔اسطرح مجموعی طورسات امیدوارسیاسی میدان میں ہیں ۔
2002کے الیکشن میںیہ حلقہ انتخاب بارہمولہ ضلع کے ساتھ منسلک تھا تاہم اضلاع کی نئی حد بند ی کے ساتھ ہی اس حلقہ کو بانڈی پورہ ضلع کے ساتھ منسلک کیا گیا جبکہ کئی علاقوں کو نئے قائم شدہ ضلع گاندربل کے ساتھ بھی رکھا گیا۔2002کے اسمبلی انتخابات میں اس حلقہ میں نیشنل کانفرنس کے ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور عوامی لیگ کے محمد یوسف پرے المعروف کوکہ پرے کے درمیان تھاتاہم لون نے کوکہ پرے کو12758ووٹوں سے ہرایا۔2002 میں حلقہ انتخاب کے 78299 ووٹروں میں سے 44246رائے دہندگان نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا اور اس طرح سے ووٹنگ کی شرح56.50رہی تھی۔2002 میں 44246 ڈالے گئے ووٹوں میں سے این سی کے امیدوار ایڈوکیٹ لون نے 25687جبکہ کوکہ پرے نے 12929ووٹ حاصل کئے تھے۔2008 میں حلقہ انتخاب سوناواری کے رائے دہندگان کی مجموعی تعداد 84726 تھی،جن میں سے این سی کے ہی محمد اکبر لون نے 12157ووٹوں سے جیت درج کرکے اپنے مد مقابل آزاد امیدوار کو ہرایا تھا۔لون نے 20108حاصل کرلئے تھے جبکہ عابد انصاری نے 7951،کانگریس کے امیدوار امتیاز پرے نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے6472اور پی ڈی پی کے یاسر ریشی نے 5985ووٹ حاصل کرلئے تھے۔ اس طرح ووٹنگ کی شرح47.82فیصد رہی تھی۔الیکشن 2014کیلئے حلقہ انتخاب میں مجموعی طور 99421رائے دہندگان ہیں جن میں 51443مرد اور47971خواتین ووٹر ہیں۔ووٹنگ کیلئے 112پولنگ اسٹیشن قائم کئے جارہے ہیں،جن میں56 پولنگ اسٹیشن حساس جبکہ56کو انتہائی حساس قرار دیا جاچکا ہے۔یاد رہے کہ محمد اکبر لون 2002سے اس حلقہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں 1972اور 1977میں جنتاپارٹی ،1983میں پیپلز کانفرنس اور 1996میں نیشنل کانفرنس کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا مگر ہمیشہ شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم 2002 کے انتخابات میں انہوں نے پہلی بار اور 2008میں دوسری مرتبہ نیشنل کانفرنس کی ٹکٹ پر پہلی بارکامیابی حاصل کرلی۔نیشنل کانفرنس اس نشست پر1962، 1977،1983،2002اور 2008سے جیت درج کرتے آئی ہے تاہم 1996میں معروف سرکاری بندوق بردار(اخوانی)محمد یوسف پرے المعروف کوکہ پرے نے جموں کشمیر عوامی لیگ کے نام پر اس نشست سے جیت درج کرکے ریاستی اسمبلی میں قدم رکھا تھاجبکہ1967اور1972میں کانگریس نے دو مرتبہ اس نشست کو اپنے قبضے میں کرلیا تھا۔
اس حلقہ انتخاب میں اگر چہ سات امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کئے ہیں تاہم اصل مقابلہ نیشنل کانفرنس کے محمد اکبر لون ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے یاسر ریشی اور کانگریس کے امتیاز پرے کے درمیان ہوگا۔اس حلقہ میں شعیہ ووٹوں کی بھی ایک خاصی تعداد ہے ۔جہاں این سی شعیہ ووٹ حاصل کر نے کے لئے بڈگام کے نامزد امیدوارآغاسید روح اللہ کی خدمات حاصل کررہا ہے وہیں پی ڈی پی جڈی بل کے نامزد امیدوار عابد حسین انصاری اور پٹن کے نامزد امیدوار مولوی عمران رضا انصاری بھی شعیہ ووٹروں کو پی ڈی پی کے نشان قلم دوات پر بٹن دبانے کی صلاح دے رہے ہیں۔اس حلقہ میں علیحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کال کا بھی اثر دکھائی دے رہا ہے۔سمبل کے ایک نوجوان کا کہنا ہے’’ مسئلہ کشمیر ابھی حل نہیں ہوا اوروادی میں قتل و غارت گری کا بازار بھی گرم ہے ،اسلئے ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ الیکشن کے روزاپنے ہی گھروں میں بیٹھنے کو ترجیح دیں گے‘‘۔ سیاسی مبصرین یاسر ریشی اور امتیاز پرے کو محمد اکبر لون کی جیت میں انتہائی سخت اڑچن قرار دے رہے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: