ٹھٹھرتی ٹھنڈ میں ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں

وسطی ضلع گاندربل میں اگرچہ اب کی بارانتخابات میں شیخ خانوادے کا کوئی فرد شامل نہیں تھا تاہم گاندربل اور کنگن حلقہ انتخابات میں انتخابی گہما گہمی میں کوئی فرق دکھائی نہیں دے رہا تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جن علاقوں میں روایتی طور پرگذشتہ کئی انتخابات میں بائیکاٹ ہوا کرتا تھا ،آج ٹھٹھرتی سردی کے باوجود مردوزن کی لمبی لمبی قطاریں صبح سے ہی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔2008میں انتخابات کے دوران گاندربل پہنچنے پرافراتفری کا عالم تھا لیکن اب کی بار لوگ جوش و خروش کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کررہے تھے۔دونوں حلقہ انتخابات میں نہ کہیں بائیکاٹ ہوا ،نہ کسی جگہ پتھرائو کے واقعات پیش آئے،نہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم آرائی ہوئی اور نہ متحارب گروپ آپس میں گتھم گتھا تھے۔ہر ایک ووٹر ووٹ ڈالنے کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے بیتاب تھا ،چاہے بدلائو کیلئے ہی سہی۔اس دوران کنگن کے مقابلے میں گاندربل میں سکیورٹی سخت تھی۔ گاندربل میں علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کال پر اگرچہ کاروباری ادارے بند تھے اور ٹریفک کی نقل و حرکت بھی دیکھنے کو نہیں ملی تاہم کنگن میں ہڑتال کا جزوی اثر تھا۔بائیکاٹ کال پر اپیل نہ کرنے کی وجوہات کچھ اور بھی ہوں تاہم دودرہامہ پولنگ اسٹیشن سے باہر آرہے ایک ووٹرغلام نبی کا کہنا تھا کہ’’میں نے آج پہلی بار الیکشن بائیکاٹ پر عمل نہیں کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی فرقہ پرست جماعت نے بڑھ چڑھ کر الیکشن میں قدم رکھا ہے اور اگر انہوں نے اکثریت حاصل کرلی تو وہ مجموعی طور کشمیری عوام کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوسکتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں دفعہ370اب گلی گلی میں موضوع بحث بن چکا ہے اور یہ خطرہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں بی جے پی کا پہلا نشانہ یہی خاص دفعہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا ’’یہ دوسری بات ہے کہ اپنوں نے بھی اس دفعہ کوکمزور کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ دی ہے ‘‘۔ مذکورہ شہری کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے تولہ مولہ پولنگ اسٹیشن کے باہر کھڑے ایک نوجوان نے یوں کیا’’اگر ہم بائیکاٹ کریں گے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ بی جے پی مضبوط ہوجائے گی کیونکہ انہوں نے پہلے ہی جموں، لداخ اور کشمیری پنڈتوں کو اپنے بس میں کرلیا ہے‘‘۔ اس دوران اس پورے اسمبلی حلقے میں صرف مین چوک گاندربل میں چند ایک نوجوان پولنگ بوتھ کے باہر سڑک کے کنارے پر بیٹھ کر یہ دیکھ رہے تھے کہ کون کون اپنے ووٹ کا استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا’’ کشمیر میں ہلاکتوں،لاپتہ افراد اور لٹی عصمتوں کو ہم بھول نہیں سکتے ۔ مذکورہ نوجوانوں نے ووٹ کا استعمال کرنے والوں کو بے غیرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگریہاں بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو کیا ہوگا ، مسئلہ کشمیر کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے۔گاندربل کے دودرہامہ سمیت بوگو رام پورہ ،واتل باغ اور بیہامہ، نونر، تولمولہ، سالورہ، لار، ژونٹھ ولی وار، دنیہامہ علاقوں میں مردوزن صبح سے ہی ووٹ ڈالنے کیلئے پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچ چکے تھے ۔اسی طرح کنگن کے ہاری پورہ، منیگام، وسن ، مین کنگن، کلن، ہاری گنیون ،گنڈ، بابا نگری اور وانگھت میں ووٹروں میں کافی جوش وخروش پایا گیا۔اکثر علاقوں میں پولنگ سٹیشن کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ کئی علاقوں میں ووٹروں نے بتایا کہ وہ آج صرف خود ہی نہیں بلکہ اپنے اہل خانہ کو بھی یہاں لے کر ووٹ ڈالنے کیلئے لائے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: