کشمیر۔۔۔نعروں کی سیاست

سیاست کے میدان میں تقریریں،جوش،وعدے،مفاد ،سب عام ہیں اور تقریروں سے عوام کے سامنے وہ پل باندھے جاتے ہیں،جن کا تصور کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ عوام تقریریں سن کر سیاستدانوں سے امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں لیکن اب بات صرف تقریروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب تو نعروں کی سیاست نے زور پکڑ لیا ہے۔ہر تقریر اور ہر جلسے کے ساتھ نعرہ لگانا ضروری ہے ورنہ سیاست نہیں چمکتی۔ سیاست میں شاید نعروں سے عوام میں جوش،امید اور کارکنوں میں ایک جذبہ پیدا کیا جاتا ہے۔چاہے نعرہ سیاسی مقصد رکھتا ہو یا نہیں، لیکن نعرے میں ایک مختصر پیغام ضرور ہوتا ہے،جس کا تعلق کسی چیز سے بھی ہو سکتا ہے۔ ان نعروں میں اسلام، جمہوریت، غریب عوام اور ملک میں تبدیلی جیسے موضوعات کا خاص ذکر ہوتا ہے۔جموں کشمیر خاص کر وادی میں نعرۂ تکبیرہر کسی امیدوار کے جلسے یا ریلی میں پہلا نعرہ ہوتا ہے،پارٹی چاہے بھارتیہ جنتا پارٹی یا کمیونسٹ پارٹی ہی کیوں نہ ہو۔جموں کشمیر کی انتخابی سیاست میں نعرۂ تکبیر۔۔۔اللہ اکبر،نعرۂ رسالت۔۔۔یا رسول اللہؐ،زندگی کے تین نشان ۔۔۔اللہ ،محمدؐ اور قرآن اور یہاں کیا چلے ۔۔۔نظام مصطفیؐ جیسے نعرے صرف جماعت اسلامی کے حامی اپنے جلسوں یا ریلیوں میں لگایا کرتے تھے۔تاہم ریاست کی سیاست میں مختلف ادوار میں کئی ایسے نعرے بھی معرض وجود میں آئے ہیں جو آج بھی جلسوں اور ریلیوں میں لگائے جارہے ہیں مثلاً ’’نقلی شیرا وٹوڈھیرا اصلی شیرا آگیا‘‘ یعنی ’’نقلی شیر آپ اپنا بوریا بسترہ باندھ لو،اصلی شیرمیدان میں آگیا‘‘۔جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ نعرہ پہلی بار محاذ رائے شماری نے’’اُوٹا کمنڈ سے کون آیا آزادی کا شیر آیا‘‘کے عنوان سے 1964میں اْس وقت لگایا جب مرحوم شیخ محمد عبداللہ گیارہ برس کی نظربندی کے بعد جیل سے رہا ہوکر کشمیر آئے تھے۔بعد اذاں1975کے کشمیر ایکارڈ کے بعدجب 1977میں جنرل انتخابات ہوئے تو مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے حامیوں نے’’دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیرآیا‘‘کے الفاظ کے ساتھ یہ نعرہ اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا ،جب سے یہ نیشنل کانفرنس کے انتخابات کا لازمی حصہ رہا ہے۔ رواں اسمبلی انتخابات کے دوران تاہم ریاست خصوصاً وادی میںآج کچھ ایسے نعرے وجود میں آچکے ہیں جن کو سن کر ہنسی آتی ہے جیسے ہر کوئی اْمیدوار اب یہ ایک نعرہ ضرور لگاتا ہے ’اب کی بار۔۔۔سرکار‘یا ’اب کی باررفیق ڈار یا رحیم ڈار‘۔کئی امیدوار ایسے بھی ہیں جنہیں اپنے علاقوں میں بھی کم ہی لوگ جانتے ہیں پھر بھی نعرہ ہوتا ہے کہ ’جوانوں کا مستقبل بنانا ہے۔۔۔کو جتانا ہے‘۔کچھ امیدوار تو ایسے نعروں کی تشہیر کررہے ہیں جو انسان کی سمجھ سے بالکل ہی بالاتر ہیں جیسے NEEDS NO MORE RANGE, BEST CHOICE FOR CHANGE۔واضح رہے کہ پارلیمانی الیکشن 2014کے دوران ہندوستان میں ’اب کی بار مودی سرکار‘کی بہت زیادہ تشہیر کی گئی اوریہ نعرہ اب جموں کشمیر کے رواں اسمبلی انتخابات میں بھی زبان زدِعام ہوچکا ہے۔’اب کی بار‘کے ساتھ امیدواروں نے اب نہ صرف پارٹیوں کا نام جوڑا ہے بلکہ آزاد امیدواروں نے تو اب’مودی‘ کے اس نعرے کو ہی اپنے لئے کامیابی کی ضمانت سمجھ لی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: