تیسرے مرحلے کیلئے ووٹنگ آج

اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلہ میں آج ریاست کے تین اضلاع کی16نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ان نشستوں پر144امیدوار انتخاب لڑرہے ہیں،جن میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سمیت تین کابینہ وزراء اور10اسمبلی ممبران بھی شامل ہیں۔ اس انتخابی مرحلے کی خاص بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پہلی بار گاندربل حلقہ انتخاب کی بجائے بیروہ سے انتخاب لڑرہے ہیں۔یہ مرحلہ جہاں عمر عبداللہ کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے وہیں پی ڈی پی کیلئے بھی اس کی اہمیت کچھ کم نہیں ہے کیونکہ پی ڈی پی 16میں سے 9نشستوں پر قابض ہے جبکہ این سی چار حلقوں کی ہی نمائندگی کررہا ہے۔ادھر پی ڈی پی نے ریاست کے معروف ماہراقتصادیات ڈاکٹرحسیب درابو کو منڈیٹ دیا ہے اور وہ پہلی بار اپنی سیاسی قسمت راجپورہ انتخابی حلقے سے آزما رہے ہیں۔ واضح رہے کہ راجپورہ حلقہ انتخاب سے ڈاکٹر درابو کو پی ڈی پی کا منڈیٹ ملنے کی وجہ سے موجودہ اسمبلی ممبرسید بشیرنے پارٹی کو خیرباد کہہ دیااوراب آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑرہے ہیں ۔پی ڈی پی نے مظفر حسین بیگ کی جگہ بارہمولہ سے جاوید احمد بیگ کو منڈیٹ دیا ہے کیونکہ بیگ اب رکن پارلیمان کی حیثیت سے بارہمولہ پالیمانی حلقے کی نمائندگی کررہے ہیں۔تیسرے مرحلے کے دوران چرارشریف ایک واحد انتخابی حلقہ ہے جس کی نمائندگی این سی کے سینئر لیڈر اور وزیر خزانہ عبدالرحیم راتھر 1977سے کرتے آرہے ہیں اور اس دفعہ وہ مسلسل ساتواں اسمبلی الیکشن لڑرہے ہیں۔ یاد رہے کہ 144امیدواروں میں جو دیگر لیڈران سیاسی قسمت آزمارہے ہیں اُن میں ڈاکٹر مصطفی کمال (گلمرگ)، عبدالرحیم راتھر(چرارشریف) ، تاج محی الدین (اوڑی)،غلام حسن میر(گلمرگ) ، جاوید مصطفی میر(چاڈورہ) ، آغاسیدروح اللہ (بڈگام) حکیم محمد یاسین (خانصاحب) ،بشارت بخاری (سنگرامہ) ، ڈاکٹر شفیع احمد وانی (بیروہ)، مشتاق احمد شاہ(ترال)، محمد خلیل بند (پلوامہ) ،ظہور احمد میر(پانپور) ، جاوید احمد ڈار(رفیع آباد) اور حاجی محمد اشرف گنائی(سوپور) ،سیف الدین بٹ (خانصاحب)،منتظر محی الدین(بڈگام) ،ارشاد کار(سوپور)اورنذیر احمد خان(بیروہ) قابل ذکر ہیں۔راجیہ سبھا کے دو سابق ممبران محمد شفیع اوڑی اور غلام نبی رتن پوری اور کانگریس کے ریاستی صدر پروفیسر سیف الدین سوز کے فرزند سلمان سوز بھی انتخاب لڑرہے ہیں۔یاد رہے کہ بارہمولہ کی7، بڈگام کی5اورپلوامہ کی 4 نشستوں کیلئے6.51لاکھ خواتین سمیت 13.69لاکھ رائے دہندگان رجسٹر ہیں،جن کیلئے 1781پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔اس دوران انتظامیہ نے اوڑی اور ترال حملوں کے پیش نظر تیسرے مرحلے کے لیے حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کردئے ہیں۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر عبدالغنی میر کا کہنا ہے کہ تیسرے مرحلے کیلئے سکیورٹی فورسز کی تعدادکو دوگنا کردیا گیا ہے ۔آئی جی پی کے مطابق 400کمپنیوں کو حفاظتی انتظامات کیلئے تعینات کردیا گیا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: