ہریانہ کے کالج میں کشمیری طلباء کی مارپیٹ،8شدید زخمی

میرٹھ،نوئڈااورراجستھان سمیت ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کشمیری طلباء پر حملوں کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ ہریانہ کے ایک انجینئرنگ کالج میں سنیچر کو8کشمیری طلباء کوایک حملے کے دوران شدیدزخمی کردیا گیا، جن میں مشہور علی وانی ، شاہد معراج وانی ، ساہل احمد ، تنویر احمد ریشی ، منظور احمد وانی ، مشتاق ماجد ڈار ، اظہر الدین شیخ اور توصیف پرویز وازہ شامل ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب گلوبل ریسرچ انسٹچوٹ میں زیرتعلیم دو گروپوں کے مابین جھگڑا ہوا۔ اس دوران انتظامیہ نے کالج کو ایک ہفتے کیلئے بند کردیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 200کشمیری طلباء مذکورہ کالج میں درج ہیں۔اس حملے کے بعد اب ان طلباء نے کشمیر لوٹنے کا منصوبہ بنالیا ہے۔

وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے یہ طلباء وزیراعظم اسکالرشپ سکیم کے تحت انجینئرنگ کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔مذکورہ کالج میں زیر تعلیم ایک طالب علم عامر احمد ڈار نے فون پر بتایا کہ یہ واقعہ اْس وقت پیش آیا جب جموں کے ایک طالب علم نے سنیچر کو دوپہر کے کھانے پر ایک کشمیری طالب علم کو تھپڑ مارا۔ عامر نے کہا’’ابتداء میں سینئر طلباء کی مدد سے معاملے کو حل کیا گیا تاہم بعد میں جموں کے طلباء نے ایک نزدیکی گاؤں سے غنڈوں کی مدد حاصل کی اور انہوں نے کالج پہنچتے ہی کشمیری طلباء کو مارنا پیٹنا شروع کردیا‘‘۔ایک اور طالب علم اشفاق احمدنے بتایا’’تقریباً60کے قریب غنڈے کینٹین میں داخل ہوئے اور کشمیری طلباء کو لوہے کی سلاخوں اور دوسرے ہتھیاروں سے حملہ کرنا شروع کردیا‘‘۔کشمیری طلباء کے مطابق تقریباً30طالب علم زخمی ہوگئے جن میں8طلباء شدید زخمی ہیں جن کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ کشمیری طلباء نے الزام لگایا کہ جب وہ شکایت لے کر نزدیکی پولیس تھانہ گئے تو پولیس نے حملہ آوروں کے خلاف ایف آر درج کرنے سے انکار کیا۔ ان طلباء کے بقول کالج انتظامیہ نے بھی اس سنگین معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔اس سلسلے میں ایس پی وید پرکاش گوڈرا نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ جموں اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو گروپوں کے مابین کینٹین میں جھگڑا ہوااور کچھ لڑکے زخمی ہوگئے ،جن میں سے چار لڑکوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ادھر ڈائریکٹر جنرل پولیس شری نواس وششٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس دوران ڈائریکٹر جنرل پولیس کے راجندرا کمارکا کہنا ہے کہ معاملہ سلجھایاگیاہے۔انہوں نے کہا’’میں نے اس سلسلے میں دلی میں ایک ایس پی کو کہا ہے کہ معاملے کو دیکھیں۔ڈی جی پی کشمیر کے مطابق گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سال رواں کے اگست میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ سوامی پرمانند کالج موہالی میں زیر تعلیم کشمیر طلباء اس وقت واپس لوٹ چکے جب انہیں بھی مبینہ طور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ورکروں نے مارا پیٹا تھا۔ یاد رہے کہ مارچ2014میں 67کشمیری طلباء کوسوامی وویکا نندا سبھارتی یونیورسٹی سے بے دخل کیا گیا تھا جب انہوں نے ہندوپاک کرکٹ میچ کے دوران پاکستان کے حق میں تالی بجائی تھی۔ ادھروزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ،پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور دیگر کئی لیڈران نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیرون ریاستوں میں مقیم کشمیریوں کومکمل تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: