ترال میں بائیکاٹ کا حال بے حال

اٹھارہ سال تک انتخابات میں شمولیت سے گریزاں ترال کے باشندوں نے بالآخر اس عمل میں حصہ لیکر ،بقول ووٹران،بی جے پی کی ترال سیٹ جیتنے کے خوابوں پر پانی پھیردیا۔صبح سے ہی لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ترال پائین کے پولنگ اسٹیشن نمبر54-Aپرٹھٹھرتی ٹھنڈکے باوجود صبح کے ساڑھے نوبجے 1154ووٹوں میں سے24 اور پولنگ اسٹیشن 55پر 1226میں سے58ڈالے گئے تھے۔اسی طرح ترال بالا کے پولنگ اسٹیشن نمبر 58 پردس بجے 1056 ووٹوں میں سے 122ووٹ رائے دہند گان ڈال چکے تھے۔اکثر رائے دہندگان نے کہا کہ ترال میں بیشک ہمیشہ بائیکاٹ ہوتا آیا ہے اور اب بھی اس کا امکان موجود تھا لیکن بی جے پی ،جوماضی میں بھی اور آج بھی ریاستی اکثریتی فرقہ کے مفادات کو زک پہنچانے میں پیش پیش رہی ہے ، مہاجر ووٹوں کی مدد سے یہ نشست حاصل کرنے کی راہ ہموار کررہی تھی جو اس حلقہ کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوتا۔ کئی رائے دہندگان کے مطابق ووٹ ڈالنے کے باوجود ترال کے لوگوں کو تحریک آزادی اپنی جان سے زیادہ عزیزہے۔ترال بالا کے غلام حسن نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’بی جے پی کی وجہ سے آج ہم گھروں سے باہر آئے ہیں ،ورنہ ہم ووٹ نہیں ڈالتے تھے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ترال کے عوام نے یہ ارادہ کرلیا ہے کہ کنول کویہاں کھلنے نہیں دینا ہے‘‘۔ ایک نوجوان خاتون ووٹر سامیہ امین نے کہا’’ہم بدلاؤ چاہتے ہیں،ترقی چاہتے ہیں‘‘۔سامیہ نے مزید کہا’’ترقی صرف سڑکوں اوربجلی کی ہی نہیں بلکہ ترقی تعلیمی میدان میں، صحت کے شعبوں میں اور زندگی کے سبھی شعبہ جات میں‘‘۔واضح رہے کہ2008کے اسمبلی الیکشن میں اس حلقے میں پولنگ کی شرح37.5فیصد رہی تھی جبکہ پارلیمانی انتخابات کے دوران 1.45فیصد ووٹ ہی ڈالے گئے تھے۔اس حلقے میں سکھ برادری بھی کی ایک خاصی تعداد آباد ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دیور نامی گاؤں کے سرپنچ نرمل سنگھ لوگوں کو بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈالنے کامشورہ دے رہے تھے۔انہوں نے اس کا جواز بتایا کہ این سی یا پی ڈی پی علاقائی پارٹیاں ہیں اور اْن کے دلوں میں ریاستی عوام کے تئیں کسی قدر جذبات ضرور ہونگے لیکن بھاجپا ایک ایسی جماعت ہے جس کا چہرہ چند روز قبل بھی اْس وقت دیکھنے کو ملا جب مذکورہ پارٹی کی ایک خاتون وزیر نے متنازعہ بیان دیکر لوگوں کے جذبات مجروح کئے۔ مذکورہ سرپنچ نے کہا’’ہمیں ترال میں بی جے پی کی جڑیں کاٹنی ہیں کیونکہ یہ فرقہ پرست جماعت ہے اوریہ جموں اور کشمیر کو تقسیم کرنے پر تلی ہوئی ہے ‘‘۔کھاسی پورہ ترال کے ایک ووٹر محمد یوسف نے کہا کہ ترال میں بائیکاٹ نہ کرنے کو تحریک آزادی کے خلاف نہ سمجھا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ ووٹ صرف بی جے پی کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترال کے لوگوں میں جذبۂ حریت آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ Read more…

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: