دوست کی یاد نے ووٹ ڈالنے سے روکا

سرینگر جموں شاہراہ سے متصل کدلہ پانپور کے پولنگ اسٹیشن نمبر1اور2 جس اسکولی عمارت میں قائم کئے گئے تھے، اْس کی ایک دیوار پر ’’آزادی اپنی منزل ہے ، Election Boycott اورJihad the only solution‘‘جیسے نعرے درج تھے۔ان پولنگ اسٹیشنوں پرجہاں دن کے تین بجے تک537ووٹوں میں سی97 ووٹ ڈالے گئے تھے وہیں رائے دہندگان کیلئے یہ نعرے بھی خاصی دلچسپی کا باعث بنے۔ایک نوجوان ووٹر منظور احمد جو گھر سے ووٹ ڈالنے کیلئے نکلا تھا،اْس نے دیوار کی طرف دیکھ کر ہی اپنا ارادہ بدل دیا۔یہ پوچھنے پر کہ اْس نے اپنا ارادہ کیوں بدلا ؟منظورنے کہا’’ یقیناً میں ووٹ ڈالنے ہی آیا تھا لیکن ان نعروں نے میرے ضمیر کو جنجھوڑکے رکھ دیا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم آزادی کے خلاف ووٹ نہیں ڈال رہے ہیں بلکہ روزمرہ کے مسائل مجبور کررہے ہیں‘‘۔منظور کے مطابق ان نعروں نے اُسے اپنے ایک اْس دوست کی یاد دلائی جو2010کی ایجی ٹیشن کے دوران جاں بحق ہوگیا تھا۔اس نوجوان کے خیالات کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے کئی نوجوانوں اور بزرگوں پر مشتمل ایک گروپ نے الیکشن کو مجبوری قرار دیتے ہوئے کہا ’’ہم نے اپنے عزیز و اقارب تحریک آزادی میں کھوئے ہیں،ہم اُن کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟‘‘۔ ایک بزرگ علی محمد نے کہا’’یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم ووٹ ڈال رہے ہیں لیکن اس سکول کی دیوار پر درج نعرے شائد اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم آزادی کے خلاف نہیں ہیں‘‘۔

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: