انتخابی حلقہ حبہ کدل پر سب کی نظریں مرکوز

اسمبلی انتخابات کے چوتھے مرحلہ کے دوران آج سرینگر ضلع کے حبہ کدل حلقہ انتخاب میں اگر چہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے امیدوار میدان میں ہیں تاہم اگر بائیکاٹ کی روایت برقرار رہی تو اس نشست سے بی جے پی کی جیت تقریباً طے ہے۔ حبہ کد ل ایک ایسا انتخابی حلقہ ہے جہاں1962سے پانچ مرتبہ پنڈت امیدواروں کا قبضہ رہا ہے۔1996کے بعد جتنے بھی الیکشن ہوئے ان میں شہر میں اگر سب سے کم ووٹوں کی شرح کسی حلقے میں ہوئی تو وہ حبہ کدل ہی رہا ہے، اوسطاً اس حلقے میں پانچ ہزار سے زائد ووٹ نہیں پڑے ہیں۔

اس وقت حبہ کدل کی نمائندگی این سی کی شمیمہ فردوس کر رہی ہے لیکن باور کیا جارہا ہے کہ شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ اب کی بار اس حلقے میں بھی ووٹوں کی شرح 30فیصد سے زائد ہونے کا امکان ہے۔یہ حلقہ جاری اسمبلی انتخابات کے دوران انتہائی اہمیت کا حامل مانا جارہا ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس نشست پر پہلی بارپنڈت ووٹوں کی بنیاد پراپنی جیت طے سمجھ رہی ہے۔یاد رہے کہ اس حلقہ انتخاب میں رائے دہندگان کی تعداد 67000 ہے جن میں16710پنڈت مائیگرنٹ ووٹر ہیں۔ بی جے پی سمیت دیگر دو جماعتوں نے اب کی بار تین پنڈت امیدوار نامزد کئے ہیں جن میں موتی کول(بی جے پی)،رمن متو (کانگریس) اورلوک جن شکتی پارٹی کے سنجے صراف شامل ہیں۔1996سے اس حلقہ انتخاب کے رائے دہندگان الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرتے آئے ہیں اوربھاجپا امیدواروں نے1996،2002اور2008میں بالترتیب 1969،416اور672 ووٹ حاصل کرلئے۔گذشتہ انتخابات میں دیکھنے میں آیا ہے کہ پنڈت ووٹ نہیں ڈالا کرتے تھے لیکن جاری الیکشن میں پنڈت ووٹوں کی شرح سب سے زیادہ رہی ہے اورتقریباً سبھی مائیگرنٹ ووٹروں نے ووٹ ڈالنے کیلئے ضروری لوازمات پورے کرلئے ہیں۔ان مائیگرنٹ ووٹروں کیلئے دلی اور جموں میں بھی پولنگ اسٹیشن قائم کرلئے گئے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کی صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہی جیت درج کرسکتی ہے کیونکہ اسمبلی الیکشن2008میں ساڑھے تین ہزار کے قریب ووٹ ڈالے گئے تھے جن میں مائیگرنٹ ووٹروں کی تعداد انتہائی قلیل تھی تاہم اب کی دفعہ جس طرح بی جے پی نے مائیگرنٹ ووٹروں کو لبھانے کیلئے ایڈی چوٹی کا زور لگایا ،اْس سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ حبہ کدل کے تقریباً 17ہزار پنڈت رائے دہندگان پولنگ مراکز کا رخ کرکے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کریں گے جس کا براہ راست فائد ہ بی جے پی کو مل سکتا ہے کیونکہ جموں سے جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں ،انکے مطابق بیشتر پنڈت ووٹرں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈالنے کا من بنالیا ہے۔پر کھو کیمپ میں رہا یش پذیر حبہ کدل کے ایک پنڈت ووٹر اوتار کرشن نے فون پر کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے بھاجپا کو ووٹ دینے کا من بنالیا ہے کیونکہ مود ی نے نہ صرف اپنے بجٹ میں پنڈتوں کی باز آبادکار ی کیلئے رقوم مختص کئے ہیں بلکہ بھاجپا کے چناؤ منشور میں بھی پنڈتوں کی باز آبادکاری اور وطن واپسی کے حوالے سے کئی وعدے کئے گئے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ حکومت میں آنے کی صورت میں بی جے پی ان وعدوں کو پورا کرے گی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حبہ کدل حلقہ میں اب کی بار 12ہزار سے زائد پنڈت ووٹ پڑنے کا امکان ہے جبکہ اس کے مقابلے میں سرینگر میں بائیکاٹ کے رجحان کو دیکھتے ہوئے مسلم ووٹروں کی تعداد وہی4سے5ہزار کے آس پاس ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوپائے گا۔

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: