انتخابی جھنڈیاں….کہیں آسمانوں پر کہیں گُورے خانوں میں

1ریاستی اسمبلی انتخابات میں مختلف حریف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے نصب کی گئی جھنڈیوں نے ماحول کو جہاں طرح طرح کے رنگوں سے آراستہ کیا ہے وہیں پت جھڑ کے پتوں کی طرح بکھرنے کے بعد یہ جھنڈیاں اور بینر شہرودیہات کے گورے خانوں(کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں) کو بھی رنگین بنادیتے ہیں۔ہر صبح جب میونسپلٹی کے اہلکار شہر کے مختلف علاقوں سے کوڑا کرکٹ جمع کرتے ہیں تو اُس میں ایک خوبصورت عنصر کا اضافہ پاتے ہیں۔ہر نوع، سائز اور رنگ کی چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں اگرچہ ہلکی پھلکی ہوتی ہیں لیکن غلاظت کے ڈھیروں کو اس قدر رنگینی بخشتی ہیں کہ غلاظت سے ہونے والی کراہت میں بھی کمی محسوس ہوتی ہے۔ پیشے سے استاد ایک شہری عبدالحمید کہتے ہیں”یہ رنگ برنگی جھنڈیاں اگرچہ خزاں رسیدہ موسم میں رنگوں کی بہارکا چھلاوا دیتی ہیں۔میرا یہ ماننا ہے کہ کامیاب ہونے والی جماعتیں الیکشن کے بعد اس پر خرچ ہونے والی رقوم سود سمیت وصول کریں گی لیکن یہ مداری کا ایسا کھیل ہے ،جس میں پیسہ وصولنے کیلئے ووٹروں کے جائز حقوق پر شب خون مارنابھی جائز سمجھا جاتا ہے“۔اُن کا کہنا تھا ”اگر انتخابات میں اِس چمک دھمک کے بجائے متانت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا تو ہماری ریاست میں اِتنی رشوت ستانی، اقرباءپروری اور حق تلفی کے سنگین واقعات رونما نہ ہوتے رہتے“۔ایک نوجوان تاجر وسیم احمداسے استحصال کا حصہ مانتے ہیں۔اُن کا کہنا ہے ” اکثران کاموں میں نوجوانوں کو جھونکا جاتا ہے۔نوکریوں کا لالچ دیکر مگر بعد میں کیا ہوتا ہے ،وہ کہنے کی شائد ضرورت نہیں“۔وسیم کے مطابق جہاں تک پانچ چھ سو روپے کی دہاڑی کے عوض لوگوں کو کام پر لگانے کی بات ہے تو اس پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ کام وعدوں کے عوض کرایا جاتا ہے جو بددیانتی ہے“۔کشمیر یونیورسٹی کے ایک طالب علم جنید بٹ کا کہنا ہے ” عموماًجہاں ایک دفعہ جھنڈیاں لگادی جاتی ہیں تو وہ مہینوں لٹکتی رہتی ہیں ۔پھر یا تو آندھی سے اترتی ہیں یا پھٹ اُدھڑ کر لوگوں کے پیروں تلے روندی جاتی ہیں“۔جنید کے مطابق لگانے والے اس کو اپنے جھنڈے کی توہین تصور نہیں کرتے۔ہاں اگر کوئی اُسے اُتارنے کی کوشش کرے تو مارا ماری پر اُتر آئیں گے۔راولپورہ علاقے میں تعینات سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ایک خاکروب نے بتایا ”ہر صبح جب ہم صفائی کرنے نکلتے ہیں تو مختلف پارٹیوں کی لاتعدادجھنڈیاں بھی کوڑے کرکٹ میں شامل ہوتی ہیں“۔ راولپورہ ہی کے وارڈ آفیسر بشیر احمد شاہین اس سلسلے میں کہتے ہیں”ہمارے فیلڈ عملے کو یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ الیکشن ختم ہونے تک اِن جھنڈیوں کے ساتھ نہ چھیڑیں بلکہ صفائی کرنے کے موقعہ پر اگر کہیں پائیں تو اُنہیں سڑک کے ایک طرف رکھ دیں ۔لاکھوں کی تعداد میں ان جھنڈیوں سے ماحولیاتی کثافت میں کس قدر اضافہ ہوتا ہے ،شائد یہ غور وفکر انہوں نے انتخابی نتائج آنے کے بعد کے لئے اُٹھارکھے ہوں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: