حکومت سازی۔۔۔۔پارٹی کارکنوں کیلئے گلے کی ہڈی،جو نگلتے بنے نہ اُگلتے

انتخابات کے نتائج منظر عام پر آنے کے بعدحکومت سازی کے لئے کشمیر سے لیکر دلی تک جہاں سیاسی جماعتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں ،وہیں وادی میں دو بڑی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ورکربھی بے چینی کے عالم میں ہیں۔اِن دونوں جماعتوں کے ورکروں کا کہنا ہے کہ حکومت سازی بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے لیکن اُن کے جذبات کو بھی مدنظر رکھنا لازم و ملزوم ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک ورکر ہی کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی بنیاد ہوتا ہے۔پی ڈی پی کے ایک ورکرفاروق احمدبٹ نے کہا’’اگر ہماری پارٹی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرتی ہے تومیں اپنی بستی کے رائے دہندگان کو کون سا منہ دکھائوں گا ‘‘۔فاروق کے مطابق اُس نے رائے دہندگان کو یہ کہہ کر ووٹ ڈالنے کیلئے تیار کیا کہ اگر ووٹ نہیں ڈالا تو بی جے پی برسراقتدار آئے گی اوردفعہ 370کا قلع قمع ہوگا‘‘۔فاروق نے مزید کہا ’’میری یہ باتیں بہت زیادہ لوگوں پر اثر کرگئیں اور وہ ووٹ ڈالنے کیلئے پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچ گئے‘‘۔ بٹ کا کہنا تھا ’’ریاست کی علاقائی سیاسی جماعتوں کو یہ بات تسلیم کرہی لینی چاہئے کہ وادی کے رائے دہندگان نے پارٹی ہمدردیوں سے زیادہ بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا‘‘۔پی ڈی پی کے ایک اور ورکر فیاض احمد وانی، جو انتخابات کے دوران بہت زیادہ متحرک تھے،کا کہنا ہے’’ورکر کیلئے حکومت نہیں پارٹی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ‘‘۔وانی کا مزید کہنا ہے ’’دل تو میرابھی بی جے پی کے خلاف دھڑکتا ہے لیکن اگر پارٹی اِن ہی کے ساتھ حکومت بناتی ہے تو مجھے کوئی دکھ نہیں ہوگا‘‘۔نیشنل کانفرنس کے ورکربھی تقریباً اسی سوچ کے قائل ہیں ۔اپنی زندگی کا پہلا ووٹ این سی کو دے چکے ایک سرگرم ورکر ظہوراحمد پال نے کہا ’’یہ ورکر ہی ہیں جن کا لوگوں کے ساتھ میل جول ہوتا ہے ،لیڈر حضرات تو کبھی کبھار ہی اپنی جھلک دکھاتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’این سی نے پی ڈی پی کو حمایت دینے کا اعلان کرکے مجھ جیسے ورکروں کا دل بہت خوش کیا تھا تاہم موجودہ صورتحال سے محسوس ہورہا ہے کہ وادی کے سیاستدانوں کو عوام کے جذبات کی کوئی فکر ہی نہیں ہے‘‘۔ پال کا کہنا تھا ’’مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا ہے لیکن بی جے پی کے ساتھ اگر ہماری پارٹی یا پی ڈی پی اتحاد کرتی ہے تو وہ میرے لئے دکھ کی بات ہوگی کیونکہ بھاجپا کے مقصد سے تقریباً ہر کوئی واقف ہے‘‘۔

One Response to حکومت سازی۔۔۔۔پارٹی کارکنوں کیلئے گلے کی ہڈی،جو نگلتے بنے نہ اُگلتے

  1. here نے کہا:

    Everything said was very logical. But, think on this,
    suppose you composed a catchier title? I am not suggesting your content isn’t good., however what if
    you added a headline to maybe grab folk’s attention? I mean حکومت سازی۔۔۔۔پارٹی کارکنوں کیلئے گلے کی ہڈی،جو نگلتے بنے نہ
    اُگلتے | Imtiyaz Khan is kinda vanilla.

    You should peek at Yahoo’s front page and watch how they create
    news titles to grab people interested. You might add a related video or a related picture or two to get people excited about
    everything’ve written. Just my opinion, it would make your posts a little bit more interesting.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: